Ad
مضامین

پاکستان کا افغانستان پر حملہ ، درجنوں افراد ہلاک

پاکستان کا افغانستان پر حملہ ، درجنوں افراد ہلاک

///.... نوکِ قلم نیوز 


پاکستان نے افغانستان پر فضائی حملہ کیا ہے جس سے درجنوں افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادی دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک حملہ اور سنیچر کے روز بنوں میں ایک اور واقعہ شامل ہے، پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کے روز بنوں میں ایک خود کش حملے میں پاکستانی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 21 فروری کو سکیورٹی فورسز کے قافلے کو شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی نے بنوں ضلع میں اس وقت نشانہ بنایا جب شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری تھا، جس میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان میں کارروائی سے متعلق مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، ان کے ساتھی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی ہے۔

بیان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے بارہا افغان طالبان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات کے مطابق ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انٹیلی جنس بنیادوں پر درستگی اور مہارت کے ساتھ، پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں پاکستانی طالبان اور ان کے اتحادیوں اور دولتِ اسلامیہ خراسان صوبہ کے سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

ایکس پر جاری بیان کے آخر پر پاکستان حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شدت پسندوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

’پاکستان یہ بھی توقع کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے اور طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے اور اپنی سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان فوج پر افغانستان کی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ رات انھوں نے صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’پاکستانی جرنیل ایسے ہی مجرمانہ اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سکیورٹی کی ناکامیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بشکریہ : سنگر نیوز



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!