Ad
مضامین

رول ماڈل سب سے پہلےانسانیت!

✍️ :. ش م احمد /  سرینگر 


  7006883587

وہ جن کے دم سے ہے زندہ اب تک یقین وایماں

 وہ جن کے کرموں کے پھل ہیں وجۂ بقائے انساں

 وہ جن کے من میں نفخ ہوا ہے کلام ِیزداں

 وہ جن کے قول وعمل میں ڈَھلتے خدا کے فرماں

 وہ جن کے روشن ضمیر جذبے ہیں ماہِ تاباں   

 وہ جن سے شمس وقمر کا جاری رہے چراغاں 

 وہ جن سے راضی ہوا ہےمولا بطورِاحساں

 وہ جن کے روشن ضمیر جذبے ہیں ماہِ تاباں   

وہ جن کی خدمت پہ آدمیت فخرسے نازاں

 اُنہی سلیم و سعید رُوحوں سے کہیں فرشتے  

زمیں کی زینت تم ہی سےقائم سما ہے شاداں

         یہ اشعار انسانیت کے اُن مخلص بہی خواہوں سے معنون ہیں جو روئے زمین پر رہنے والے سبھی  انسانوں کو اپنی نیک عملیوں سے دلاسہ دیتے ہیں کہ غم نہ کرو‘ پریشاں نہ ہوں‘ انسانیت لاچار ضرورہے ‘ دنیا میں چاروں اطراف گھٹاٹوپ اندھیراہے‘ ظلم وتشدد کی بھٹیاں تپ رہی ہیں‘انسان دشمنی کی  بدبختیاں بڑھ رہی ہیں لیکن انہی کے بیچوں بیچ کیا تمہیں انسان دوستوں کا وہ مختصر سا قافلہ نظر آرہا ہے جو’’ سب سے پہلے انسانیت‘‘ کے لازوال سنہری اصول پر دیوانہ وار کاربند ہے‘ جو زندگی میں کسی اور کے کام آنے سے دلی اطمینان کا انعام اور جذباتی آسودگی کا تمغہ پاتا ہے‘ جسے کسی فردیا گروہ کو مجبوری کی زنجیروں سے آزاد کرانے میں ذاتی قربانی دے کر مسرت وطمانیت محسوس ہوتی ہے ۔ یہ قافلہ چاہے ملکی پیمانے پر مدر ٹریسا کے انسانی مشن کی صورت میں جاری و ساری رہا‘ یا مولانا عبدالستار ایدھی کے دردِ دل سے لبریز خدمت انسانی تحریک کی شکل میں ‘ یہ اُتراکھنڈ میں گنگا جمنی تہذیب کے دلداے محمد دیپک کمار کی انفرادی سطح پر دلیرانہ انصاف پسندی کے پیرائے میں متشکل ہو ‘یا جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال کے سیموہ گاؤں کے معلم ومدرس سردار پشپیندر سنگھ صاحب کی دریا دلی ہو ‘ یہ موگا پنجاب کے مہنا گاؤں میں مسلم قبرستان کا ستھر سالہ مسئلے کااحسان مندانہ حل ہو ‘یا جموں میں کلدیپ شرما نامی ایک ہندو کا از راہ ِ انسانیت صحافی ارفازاحمد کو بلڈوزکئے گئے مکان کے فوراًبعد نیا گھرتعمیر کر نے کی بابت پانچ مرلہ پلاٹ کا عطیہ ہو‘ یہ ساری قابلِ داد کہانیاں بتاتی ہیں کہ ’’سب سے پہلے انسانیت‘‘ کا زریں اصول ہمارے معاشرے میں زندہ و جاوید ہے ۔ یا د رکھئے پاک نفوس اور نیک کردار لوگوں پر مشتمل چلتے پھرتے قافلے کے لئے ’’سب سے پہلے انسانیت‘‘ نہ خیالی عقیدہ ہے ‘نہ بے مطلب جملہ بازی بلکہ یہ روز مرہ معاملاتِ زندگی میں برتی جانے والی اُن کی وہ مثبت روشیں  اورا دائے دلبرانہ ہیں جن سے بقائے باہمی، رحم دلی اور انسان دوستی جیسے اعلیٰ وارفع خصائل کی خوشبوئیں چمنستانِ عالم میں پھیلتی رہتی ہیں ۔اس قافلۂ انسانیت کے رَہروں میں ہمیں مذہبی ہم آہنگی،رواداری،بے لوث محبت اور خلوص ووفا کے قابل صد توصیف نمونے ملتے ہیں‘ ان سے باور ہوتا ہے کہ بندگانِ خدا میں عمدہ انسانوں کاکال نہیں پڑا ہے بلکہ یہ رشک ِ ملائکہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہیں ۔ ان مایہ ناز انسانوں کی مثالی سرگزشت یہاں مختصراً دہرانے سے قبل اس باب میں تاریخ کا ایک درخشندہ صفحہ پلٹ کر دیکھنا مناسب رہے گا ۔ یہ واقعہ تاریخِ ہند کےاوراق میں  انسانیت ‘ صداقت اور فرقہ وارانہ یک جہتی کی ایک اچھوتی مثال کی شہ سرخی کے ساتھ درج ہے ۔یہ انگریزوں کی حکمرانی کا دور تھا ، کاندھلہ اُتردیش میں زمین کا ایک ٹکڑا مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان متنازعہ بناہوا تھا‘ مسلمان اس پر مسجد کی تعمیر چاہتے تھے‘ ہندو اس پر مندر بنانے کے روادار تھے‘ دونوں فرقے اسے اپنی ملکیت قرار دیتے تھے‘   مقدمہ عدالت میں پہنچا‘ گورےجج نے دونوں فریقوں کو سنا‘ دونوں اپنے اپنے موقف پراَڑے رہے ‘ جج نے محسوس کیا کہ مسئلے کا کوئی منصفانہ حل ڈھونڈنے کے لئے فریقین کو لامحالہ افہام وتفہیم کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔ دونوں کو صلاح دی تم لوگ آپس میں صلح سمجھوتے سے معاملہ حل کرو ۔ ہندوؤں نے جج سے استدعا کی حضور والا ہماری تجویز یہ ہے کہ ہم تنہائی میں آپ کو ایک مسلمان کا نام بتائیں گے ‘ اگلی پیشی پر آپ اُنہیں بلایئے ‘ اگر وہ گواہی دیں کہ زمین مسلمانوں کی ملکیت ہے تو ہم مان لیں گے‘ لیکن اگر وہ زمین پر ہمارے حق کو تسلیم کریں گے تو مسلمانوں کو سرتسلیم خم کرنا ہو گا۔ جج نے مسلمانوں سے معقول تجویز کے بارے میں رائے پوچھی ‘ انہوں نے یہ سوچ کر ا سے قبولا کہ مسلمان ہونے کے ناطے نامعلوم گواہ عدالت میں ہمارے موقف کی ہی تائید کرےگا۔ پیشی کی تاریخ آئی تو گواہ کے طور اپنے وقت کے صداقت شعار عالم ِدین مفتی الہیٰ بخش کاندھلوی علیہ رحمہ ‘جوشاہ عبدالعزیز دہلوی علیہ رحمہ کے شاگرد عزیز تھے‘ بطور گواہ پیش ہوئے۔ مسلمانوں کا مغالطہ تھاکہ مفتی صاحب متنازعہ زمین پر مسجد بنانے کی نیت سے ہماری طرف داری کریں گے مگر ہندوؤں کو اُن کی سچائی اور غیرجانب داری پر مکمل اعتماد تھا ۔ مفتی صاحب شہادت کے کٹہرے میں انگریز جج کی طرف پیٹھ کرکے کھڑے ہوئے کیونکہ مسلمان علما ہندوستان پر انگریزوں کی  آقائیت وحاکمیت سے روز ِ اول سےسخت نالاں تھے۔ موصوف نے بلا حیل وحجت قطعۂ اراضی پر ہندوؤں کے حق میں گواہی دے کر اُن کے دعوے کو سچ اور مسلمانوں کے دعوے کو جھٹلایا ۔ نتیجہ یہ کہ جج نے زمین کا ٹکڑا ہندوؤں کو سونپ دینے کا فیصلہ سنا کر مقدمہ کو نپٹادیا۔ ظاہر ہے مفتی صاحب کی حق گوئی پر مسلم فریق مایوس تھا‘ جب کہ فریق مخالف ہندو فرقہ جیت کا مشن منا رہاتھا مگر جیت کے باوجود ہندوؤںں نے برمحل وسیع القلبی ‘ رواداری اور فرقہ وارانہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوشی خوشی زمین کے ٹکڑے کو مسلمانوں کو پیش کیا تاکہ وہ اس پر مسجد تعمیر کرسکیں۔ اسی طرح کی ہزارہا حوصلہ بخش مثالیں دونوں فرقوں کے بارے تاریخ نویسوں نے محفوظ کر لی ہیں ۔ 

    اب تازہ مثالوں کا رُخ کریں ۔ اس سال ۲۶ ؍جنوری کو اُترا کھنڈ کےمحمد دیپک( اصل نام دیپک کمار ) نامی مخلص ہندو جم والا اس وقت ملک کے کونے کونے میں بحیثیت ایک امن پسند‘حق گو اور فرقہ وارانہ بھائی چارے کی علامت کے طور ہرزبان پر موجود ہے ۔ قوم یومِ جمہوریہ منا رہی تھی‘ عین اسی وقت ایک مخصوص وچار دھارا سے وابستہ ہجوم ایک بزرگ مسلم دوکاندار کو اپنے سائین بورڈ سےبابا کانام ہٹانے پراصرار کر نے لگا ۔ پاس ہی جم چلانے والے دیپک کمار اپنے ہمسایہ بزرگ دوکاندار کے بچاؤمیں میدان میں کود کر مشتعل ہجوم کے سامنے تن تنہا دیوار بنا کھڑا رہا۔ اگرچہ بے قابو ہجوم نے دیپک کی مداخلت کا بہت برا منایا‘ اُسے ڈرایا دھمکایا ‘ پوچھا تم کون ہوتے ہو بیچ میں ٹانگ اڑانے والے ‘ دیپک نے جھٹ سے اپنا نام محمد دیپک بتا کر دلیری سے دامن جھاڑانہ اپنی انسانیت کا چراغ بجھنے نہ دیا ۔ دیپک بال بچے والا آدمی ہے‘ چائے بیچنے والی ایک غریب بوڑھی اماں کا اکلوتا بیٹا ہے مگر ماں اوربیٹے کے اندر آتما زندہ و پائندہ ہے ‘ وہ مانوتا کی رکھشاکو اپنےدین دھرم سے جوڑتے ہیں۔ انسانیت نوازی کی ایک اور مثال سیموہ ترال کشمیر کے سردار پشپیندر سنگھ صاحب نے گزشتہ سال قائم کی ۔ سردار جی معروف سماجی کارکن ہیں‘ بلاتمیز مذہب وملت ‘رنگ ونسل ہر ایک دین دُکھی کےکام آنا اپنا فریضۂ انسانیت سمجھتے ہیں ‘ کووڈ ۔۱۹  کے آزمائشی دورمیں انہوں نے اپنے علاقے کےاندر اور باہر لوگوں کی رضاکارانہ خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی‘ آج بھی آپ انسانی خدمات کی جگمگاہٹ سے انسانیت کا چراغ روشن رکھنے میں پیش پیش ہیں۔ سردار جی نے اپنی بستی سےملحق گاؤں سید محلہ میں مسلم قبرستان کو عبور ومرور کے لئے اپنی ملکیتی زمین کاٹ کر مسلمانوں کے لئے بلا معاوضہ راستہ چھوڑدیا۔اس سے مسلمانوں کا ایک دیرینہ مسئلہ چٹکیوں میں حل ہوا۔ مقامی لوگ سردار جی کی فیاضی ‘ اچھائی اور بھائی چارے کے جذبے کی دل سے قدر کرتے ہیں ۔ اسی طرح کی ایک اور انسان دوستی کی مثال جموں میں کلدیپ شرما صاحب نامی ایک نیک سیرت ہندو بھائی کے ہاتھوں بنی ۔ انہوں نے ارفازاحمد نامی میڈیا رپورٹر کا گھر بلڈوز ہونے کا علاج زبانی کلامی اظہارِ ہمدردی تک محدودنہ رکھا بلکہ بلا تاخیر متاثرہ کنبے کو سر چھپانے کے لئے نئے گھر تعمیر کی بابت اپناپانچ مرلہ پلاٹ عطیے میں دیا ۔ لوگوں نے ان کی کافی سراہنا کی کیونکہ ان کے ایثار سےا یک کنبہ اُجڑ نے اور بکھر نے سے بچ گیا ۔ موگا پنجاب کے مہنا نامی گاؤں میں ایک سکھ کسان سردار جگدیش سنگھ نے حالیہ دنوں آپسی بھائی چارے کی گنگا جمنی روایت اور انسانیت کا پرچم بلند کرکے اپنے دھان کی کھیتوں کوکاٹ کرمسلم قبرستان تک جانے کا راستہ مسلمانوں کے نذر کیا ۔ گاؤں میں مسلمان اور سکھ ایک کنبے کی طرح شیروشکرہوکر بھائیوں کی طرح رہ بس رہے ہیں۔ گاؤں کے سرپنج سردار امن دیپ سنگھ نے ا س سلسلے میں مسلمانوں کی جانب سے راستے کا مطالبہ نہ ہونے کے باوجود اپنی پہل پر یہ نیک کام کر کے آدمیت کا سر فخر سے اونچا کیا۔ کہنے کو یہ چھوٹی مثالیں مگر ان کی اہمیت اندھیاروں میں کافی بڑی ہے ۔

     سچ پوچھئے تو خالق ِکائنات نے انسانیت میں ہی اپنی رحمانیت کاحُسن ِکرشمہ ساز اور رحیمیت کاجلوہ چھپا دیا ہے۔ انسانیت فی الاصل ہر موسم میں کام آنے والی چیز ہے ‘ البتہ اس کی زندگی نیک نیتی پر مبنی انسانی کاوشوں سے مشروط ہوتی ہے ۔ یہ انمول ولافانی شئے سدابہار کھیتی کے مانند ہے جو ہمیشہ ہمدردی و غم خواری سے سیراب ہوکر محبت ومروت‘ ایثار وقربانی اور تہذیب و شرافت کی مفید فصلیں اُگلتی ہیں ‘ جو تمام مخلوقات کے لئے ترحم وتوقیر کی غذائیں اُپجاتی ہیں ‘ جس کے غلے سے انسانوں میں خوش طبعی ‘ نرم خوئی اور اپنے اوپر دوسروں کو فوقیت دینے کا بیش قیمت جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ اگر کوئی چیز مظلوم ترین شئے اور ممنوع شئےہے تو وہ انسانیت ہے ۔ اگر انسانیت ناپید نہ ہوتی تو ہماری دنیا میں جگہ جگہ فتنہ وفساد‘ غزہ کی ناقابل ِ معافی تباہیاں‘ یوکرین کی بربادیاں‘ ایران کے خلاف بیرونی جارحیتیں‘ مشرق وسطیٰ میں ایک یادوسرے بہانے واشنگٹن کی جنگی مہم پسندیاں کبھی نہ دیکھتی۔ ان وحشت ناکیوں کے تواتر سے صرف اور صرف انسانیت کو گھاٹالگتا ہے کہ نسل ِ انسانی سرتاپا دُکھ اورافسوس کے اندھیاروں میں اُلجھ جاتی ہے۔ اس کے برخلاف اگرانسانیت کااُجالا ہوتا تو کیاہم کبھی ماہ جنوری سے امریکی محکمہ ٔ انصاف کے جاری کردہ ایپسٹین فائلزکے تیس لاکھ صفحات پر مشتمل خلاصوں کے سنڈاس سے مانوس ہوئے ہوتے ؟ انسانیت کی شمع شیطانی آندھیوں نے نہ بجھائی ہوتی تو جیفری ایپسٹین ابلیس کا آلۂ کار بن کر بہو بیٹیوں کی عزتیں نیلام کرکے دنیا میں انسانیت کو شرمسار نہیں کر پاتا ۔ اُس دلال نے اپنے پیچھے جو رُسواکن روزنامچے لکھ چھوڑے ہیں ‘وہ تفصیلاً بتاتے ہیں کہ انسانیت کو زندہ نوچ کھانے والےشیطان نے اپنے کوٹھےکا  استعمال کرکے معصوم بچیوں کا جنسی قتل کیا ‘ اگر وہ انسانیت کی ابجد سے بھی واقف ہوتاتو اپنے شیطانی مکروفریب سےعالمی سیاست ومعیشت‘ صنعت وحرفت ‘ ثقافت و مذہب کے کرتادھرتاؤں سے لے کر بل گیٹس جیسے نقلی حاتم طائی کو اپنے ابروئے چشم کا غلامی میں بلیک میل نہ کرپا تا ۔ یہ انسانیت کے اُجالوں سے ایپسٹین اور بل گیٹس وغیرہ کے سیاہ دلوں کی ناآشنائی کا شاخسانہ ہے کہ کر ونا جیسی عالم گیر وبا کو ان ذہنی مریضوں نےدنیا پرمسلط کر دیاتاکہ نہ صرف غریبوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا ئیں بلکہ کرونا ٹیکہ عالمی پیمانے پر سیل کرکے اپنے قارونی خزانوں کی بھوک مٹاسکیں۔غیر انسانی حرکات اور بد اخلاقیوں پر مبنی درندگیوں میں ملوث عالمی 

شخصیات ننگا ہو نے کے بعد جب ان ہیبت ناک کہانیوں کے تیس لاکھ پنوں پر پھیلی دوسری قسط منظر عام پرلائی جائے گی تو پتہ چلےگا کہ زمین کی اوپری سطح اب انسانی بودوباش کے قابل نہیں رہی ہے کیونکہ یہاں انسانیت زندہ درگور ہے ‘ جابجا قیامتیں ہیں‘ انسانیت کے جنازے مسلسل اُٹھ رہے ہیں‘ جنگ وجدل کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں ‘ مذہبی منافرتیں ہیں‘ نسلی تفرقات ہیں ‘لسانی تعصبات ہیں‘ مساجد میں بم دھماکے ہیں‘ اسکولوں میں بندوق کی قہرمانیاں ہیں۔ بایں ہمہ شکر کا مقام ہے کہ اوپر کی سطور میں انسانیت کے جن علمبرداروں کا ذکر ہوا ہے ‘اُن سے مجموعی طور یہ اچھا پیغام ملتا ہے کہ پھولی ہی سہی انسانیت کی سانسیں ابھی کچھ کچھ چل رہی ہیں‘ہمارے اڈوس پروس میں بعض رشک ِ ملائکہ لوگ ہیں جو بدستور اچھائیوں اور بھلائیوں کے پیکر بنے ہوئے بے نفسی کےساتھ انسانیت کی خدمت کررہے ہیں ۔ دھرتی کے جھومر یہ لوگ ہمارے لئے رول ماڈلز ہیں ۔ اُمیدوں کی شمعیں انہی سے روشن ہیں ‘ یہ کہیں دُکھ درد بانٹ رہے ہیں ‘ کہیں پیار ومحبت کی بزم آرائیاں کر رہے ہیں۔ ایسی قلیل التعداد سعید روحیں ہمارے وطن میں منافرت‘ عدم رواداری اور خود غرضی کے بازاروں میں محبت کی دوکانیں چلا رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ نیک انجام کام قطعی طور گھاٹے کا سواد نہیں ۔ اگرہم بطورِ انسان جینا چاہتے ہیں توان عظیم ہستیوں سے ہمیں  بہرصورت انسانیت کا درس سیکھنا ہوگا۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!