Ad
مضامین

ماہِ رمضان: واپسی کی صدا، قربِ الٰہی کا موسمِ بہار

✍🏼:. اِکز اقبال / سہی پورا قاضی آباد


فضا میں ایک غیر مرئی سی لطافت گھلنے لگی ہے۔ مساجد کے مینار جیسے آسمان سے سرگوشی کر رہے ہوں، اور دلوں کے ویران صحنوں میں کسی آنے والے مہمان کی چاپ سنائی دینے لگی ہو۔ جی ہاں، ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ الحمدللہ! وہ مہینہ جسے صرف تاریخ نہیں پہچانتی، روح پہچانتی ہے۔ وہ موسم جو کیلنڈر کی تاریخ نہیں بدلتا، تقدیر کی سمت بدل دیتا ہے۔

ماہِ رمضان دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے نام ایک کھلا خط ہے—

“اے میرے بندے! اگر تو تھک گیا ہے، بکھر گیا ہے، دور ہو گیا ہے… تو لوٹ آ، میں قریب ہوں۔”

یہ وہ مہینہ ہے جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ گویا راہ کی رکاوٹیں ہٹا دی جاتی ہیں۔ اب فیصلہ بندے کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہے۔

انسان کی کہانی جنت سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام قربِ الٰہی میں تھے۔ شیطان نے وسوسہ ڈالا، لغزش ہوئی اور زمین پر بھیج دیے گئے۔ اہلِ کتاب اسے سزا کہتے ہیں، مگر قرآن اسے ایک نئی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ۚ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

(سورۃ البقرۃ: 38)

ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر جب کبھی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا اس کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوگا۔

یہ آیت اعلان ہے کہ زمین پر آنا محرومی نہیں تھا؛ اصل مسئلہ ہدایت سے جڑنا یا کٹ جانا ہے۔ جو ہدایت کو تھام لے گا، وہ زمین پر رہ کر بھی جنت کی خوشبو پا لے گا۔

رمضان ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ ہم زمین پر رہتے ہوئے بھی اپنے رب کے قریب ہو سکتے ہیں—اگر ہم اس کی ہدایت سے جڑ جائیں۔

رمضان کی سب سے بڑی نسبت قرآن مجید سے ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

> شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ

(سورۃ البقرۃ: 185)

رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی روشن نشانیاں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی تعلیمات ہیں۔

یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں کہ قرآن رمضان میں نازل ہوا؛ یہ پیغام ہے کہ رمضان ہدایت کے ساتھ تعلق تازہ کرنے کا مہینہ ہے۔ ہم قرآن پڑھتے ہیں، مگر کیا ہم اسے سمجھتے بھی ہیں؟ ہم اسے تلاوت کرتے ہیں، مگر کیا ہم اسے اپنی زندگی کا آئینہ بناتے ہیں؟

نبی کریم ﷺ نے قرآن کو حبل اللہ—اللہ کی مضبوط رسی—قرار دیا۔

ایک حدیث میں ارشاد ہے:

> وَهُوَ حَبْلُ اللّٰهِ الْمَتِينُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ

یہ قرآن اللہ کی مضبوط رسی ہے جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ہے۔

ایک اور حدیث میں فرمایا:

> فَإِنَّ هٰذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ، طَرَفُهُ بِيَدِ اللّٰهِ وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ

یہ قرآن ایک واسطہ ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھ میں۔

سوچئے! اگر بندہ اس رسی کو مضبوطی سے تھام لے تو کیا وہ گمراہ ہو سکتا ہے؟ اور اگر چھوڑ دے تو پھر شکایت کس سے کرے؟

رمضان ہمیں اسی رسی کو دوبارہ پکڑنے کی دعوت دیتا ہے۔

رمضان کے احکام کے درمیان اللہ تعالیٰ اچانک دعا کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اشارہ ہے کہ روزے کی روح دعا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

> وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

(سورۃ البقرۃ: 186)

اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دیجئے) میں بہت قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔

یہ کیسا رب ہے جو خود اعلان کر رہا ہے کہ “میں قریب ہوں”؟

نہ کوئی وسیلہ درکار، نہ کوئی طویل رسم۔ بس دل کی سچائی چاہیے۔

قرآن میں اللہ ہم سے ہمکلام ہوتا ہے، اور دعا میں ہم اللہ سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ رمضان اس مکالمے کو زندہ کرنے کا مہینہ ہے۔

روزہ محض پیٹ خالی رکھنے کا نام نہیں۔ یہ دل بھرنے کا عمل ہے۔ یہ نفس کو قابو میں کرنے کی تربیت ہے۔ جب بندہ پانی کا گھونٹ روک لیتا ہے، حالانکہ کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا، تو وہ دراصل اپنے ایمان کا امتحان پاس کر رہا ہوتا ہے۔

روزہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم محتاج ہیں۔ افطار کا پہلا گھونٹ ہمیں شکر سکھاتا ہے۔ سحری کا آخری لمحہ ہمیں نظم و ضبط سکھاتا ہے۔ تراویح کی تھکن ہمیں ثابت قدمی سکھاتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا رمضان صرف افطار پارٹیوں اور بازاروں کی رونق تک محدود ہو گیا ہے؟ کیا ہم نے اس مہینے کو سادگی کی بجائے نمود و نمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے؟

رمضان سادگی کا سبق دیتا ہے، اسراف کا نہیں۔ رمضان جھکنے کا درس دیتا ہے، اکڑنے کا نہیں۔ رمضان رونے کا مہینہ ہے، ہنسنے ہنسانے کے شور کا نہیں۔

رمضان دراصل ایک آئینہ ہے۔ اس میں ہمیں اپنا اصل چہرہ نظر آتا ہے۔

ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:

کیا میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں؟

کیا میری نماز ملاقات ہے یا محض عادت؟

کیا میری دعا میں آنسو بھی شامل ہیں یا صرف الفاظ؟

کیا میرا روزہ میرے کردار میں تبدیلی لا رہا ہے؟

اگر رمضان گزر جائے اور ہم ویسے کے ویسے رہ جائیں تو نقصان ہمارا ہے۔ رمضان کوئی جادو نہیں، موقع ہے۔ تبدیلی ہمیں خود کرنی ہوتی ہے۔

حضرت آدمؑ نے توبہ کی، اور اللہ نے قبول کی۔ یہی پیغام رمضان کا ہے—واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔ چاہے ہم کتنی ہی دور کیوں نہ چلے گئے ہوں، راستہ بند نہیں ہوا۔

رمضان ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہمارے گناہوں سے بڑی ہے۔ اس کی مغفرت ہماری خطاؤں سے وسیع ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم سچے دل سے پلٹ آئیں۔

آئیے اس رمضان کو رسمی نہ بنائیں، حقیقی بنائیں۔

دن کو روزے رکھ کر نفس کو قابو میں کریں۔

رات کو قیام کر کے دل کو روشن کریں۔

قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا آئینہ بنائیں۔

دعاؤں میں اپنے لیے ہی نہیں، پوری انسانیت کے لیے مانگیں۔

شاید یہی وہ رمضان ہو جو ہماری تقدیر بدل دے۔

شاید یہی وہ سجدہ ہو جو قبول ہو جائے۔

شاید یہی وہ آنسو ہو جو مغفرت کا سبب بن جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت مہینے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں قرآن سے سچا تعلق نصیب کرے۔ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔ اور ہمیں ایسا رمضان عطا کرے جو صرف کیلنڈر پر نہ گزرے، بلکہ ہمارے کردار میں اتر جائے۔آمین۔

مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ رابطہ ikkzikbal@gmail.com

7006857283



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!