Ad
مضامین

میں اور میرا صیام! ایک خیالی گفتگو

✍️ :. ش م احمد / سری نگر 


7006883587

 میں :صیام الکریم خوش آمدید ! مبارک آمد پر آپ کابصد احترام استقبال! اللہ قدوس کی بے حد نوازش بے شمار کرم آپ کو پھرایک بار اس سرزمین میں جلوہ فگن ہیں‘ آپ کی وجہ سے ہمیں بدنی عبادات اورمالی ایثار کا موقع مل رہاہے ‘ وعدۂ الہیٰہ ہے کہ اس کے عوض ہمیں نئی زندگی ‘ نئی اُمید ‘ نیا ولولہ اور نئی بصارتیں عطاکی جائیں گے‘ ہم دنیا میں کامیاب اور آخرت میں جنت کے حقدار ہو جائیں گے۔ آپ کو گواہ کر کے آج پکاوعدہ کرتے ہیں ابھی سے ضبط ِنفس ‘ خوش اخلاقی‘ نیک عملی اور بلند کرداری سے اللہ کی رضا جوئی اور پیغمبر انسانیتﷺ کی بخلوص ِ قلب اطاعت کریں گے‘ وعدہ رہا کہ ایمانی فہم وفراست اور احساسِ ذمہ داری کا جو درس ِعظیم آپ ہمیں دے رہے ہیں‘ اُسے ماضی کی طرح مسجد سے نکلتے ہی مارکیٹ میں فراموش نہیں کریں گے‘ اب کے گناہوں سے سوبار توبہ ‘ آپ کی دل گداز نصائح اورجانفزا مواعظ پر عمل ہو گا ‘ ہم بھی دل سے چاہتے کہ زمین پر انسان بن کر جینے کے قابل ہوں ۔ یہ دیکھئے آپ کا کتنا فضل و احسان کہ ہمارے گھروں بستیوں مساجد اور درگاہوں پر چاند طلوع ہوتے ہی  اُجالے پھیل گئے ‘ خالی پڑی مساجد سے دل نواز اذانیں گونج رہی ہیں ‘ جولوگ گیارہ ماہ مساجد سے لاتعلق رہے‘ آپ کی رحمتوں کے دم پر آج سے پکے نمازی بنیں گے‘ وضو کے لئے اُن کی بھاگم دوڑ کا منظر قابلِ داد ہوگا‘ وضو خانوں کے باہر قطاریں کبھی کم نہیں ہوں گی‘ مساجد میں قرآن خوانیاں ہوں گی‘ نماز کی اگلی صف میں جگہ پانے کی نیت سے لوگوں میں مسابقت بڑھے گی ‘ بچے ذوق وشوق مساجد کی زینتیں بڑھا ئیں گے‘ غیر رمضان میں پنچ وقتہ نمازیوں کا مساجد میں جوقحط ہمیشہ پڑا رہتا‘ اب سے وہ شازونادر ہوگا ‘ پانچوں وقت عابدین کی بھیڑ لگے گی ‘ دُرودواذکار کی مجالس آراستہ ہوں گی ‘ اجتماعی افطاروں سے اجتماعیت کی شیرازہ بندی سے لوگ شیر وشکرہوں گے‘ اب حسد جلن بغض عداوت تکبر نہیں بلکہ اُخوت ومحبت کے گیت گائے جائیں گے جنت کی آرزو اور جنت سے آزادی کے ترانے ہوں گے‘ رات گئےنمازِ تراویح رات سے ہماری بستیوں میں گہماگہمی عروج پر ہوگی‘کئی مساجد سے طلوعِ فجر سے پہلے نما زِتہجد کی اذانیں بلند ہوں گی ۔ مساجد کے اندر دارالعلوموں اور باہر بھکاریوں  کو خیرات وصدقات بٹیں گے‘یہ خداداد نعمتیں آپ کے طفیل ہمارے مقدر ہوں گی ۔ یقین مانئےاس بار آپ کا ہم پر سایہ فگن ہونا زندگیاں بدل دے گا‘ ہم اللہ کو اپنے جاندار اعمال وکردار سے دکھائیں گے کہ ہماری روزہ داری محض سحر و افطاری کے درمیان کھانے پینےاور تعلقات ِزن وشو ترک ہونے تک محدود نہیں رہی بلکہ روزوں سے  ہم نے سبھی فیوض وبرکات دودوہاتھ لُوٹ لیں گے‘ ہم اپنے گناہوں سے تائب خطاؤں سے کنارہ کش اور لغزشوں پر نادم ہوکراللہ سے  لامحالہ حضور معافی تلافی کرائیں گے تاکہ ہماری گردنیں نار ِ جہنم سے بری ہوں۔ شکریہ صیام المکرم شکریہ آپ کی داد ودہش‘ دریا دلی اور فیاضی پر!

 صیام: اے بندہ ٔ خدا خوب بہت خوب ‘ میں نے تمہاری یہ چکنی چپٹی باتیں بڑے صبر و تحمل سے سنیں۔ اسے چرب زبانی کہوں یا اپنا منہ مٹھو بننے کی سادگی ۔ تمہارا یہ ساراگفتار میرے ظاہرکی پر تیں اور خارج کے اوپری چھلکے ہیں۔ جانتے ہو میرا ایک باطن ہے‘ میرا سارا لینا دینا اسی سے ہے۔ اگر میری چندروزہ مہمانی میں تم نے میرے باطن کو اپنی رُوح میں سمودیا ‘اپنے اعمال وگرار میں جذب کیا تو میں تم سے خوش اور تم مجھ سے راضی ۔اس پہلو پر غور کرو۔ وہ جو اقبال نے کہا ‘ اسی باطن ’’ایک آرزو‘‘ کی جانب اشارہ ہے    ؎

 پھولوں کو آئےجس دم شبنم وضوکرانے

 رونا میرا وضو ہو‘ نالہ میری دعا ہو   

یہ ہوتا ہے ظاہر کے پرتوں سے آگے باطن کی وسیع وبسیط دنیا میں دل کی حضوری کےساتھ عبدیت و ندامت کے پیرجمانا۔ تم نے اپنے لفاظیت کی جو مالا مجھے پہنا ئی وہ تمہارے اپنے ذاتی جذبات ‘ تاثرات اور معلومات کا یک طرفہ اظہار ہے ‘ یہ میرے بارے میں قرآن وحدیث اور سیرت نبوی ﷺ کے بحر بیکراں کے سامنے ایک قطرہ بھی نہیں۔ قرآن میری مختصر مہمانی کا مقصد حقیقی روزہ داروں کے لئے حصولِ تقویٰ بتاتا ہے ‘ اسی مناسبت سے ان کے شیایان ِ شان اللہ کی جانب سے لامنتہیٰ انعامات کی بشارت دیتا ہے‘ ‘ان انعامات کی حلاوتیں کیا ہیں‘ شاید ہی انسانی ذہن و خیال قیاس کرسکتا ہے ۔البتہ ان کی جھلکیاں دنیا میں بھی نظروں کے سامنے رقصاں ہوتی رہتی ہیں ۔ تعریفوں کے پل  باندھنا چھوڑ دو‘ یہ بتاکیا تم نے مجھ سے فائدہ اُٹھاکر تزکیہ نفس کیا ؟ دل کو بغض وعنادسےپاک صاف کیا ؟ آنکھ زبان منہ کان کا روزہ رکھا ؟ نیت خالص رکھی ؟ اعمال میں خلوص وبے ریائی پیدا کی؟ زکوٰۃ کو جرمانہ تو نہ سمجھا؟امن ومحبت کا پیام بر بنے ؟ بدعات فضولیات رسُوماتِ بد سے دامن بچالیا ؟ کسی غریب مجبور مقروض کا قرضہ معاف کیا ؟ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا ؟ کسی اپنے خادم اور مزدور پر ڈالی گئیں ذمہ داریوں میں تخفیف کی؟ کسی مفلوک الحال باپ کو اُس کی قابل ِ نکاح بیٹی کی شادی کے اخراجات کو ہلکا کیا؟ توحید وسنت کو سینے میں اُتارا؟ ایمان داری امانت داری کو زندگی کواپنا شعار بنایا؟ دین دُکھیوں کی بے لوث خدمت کی؟ غربا کی مخلصانہ دل جوئی کی؟ تکبر وہم ہستی کا بُت ِپندار توڑا؟ اللہ کے حلال کو حلال حرام کو حرام سمجھا؟ رشوت سُود ڈنڈی ماری سے ہاتھ اوپر کئے ؟ سرکاری محصولات کی ادائیگی میں کوئی ہیر پھیر تو نہ کی ؟ محتاجوں میں خیرات و صدقات تقسیم کرنے کی تشہیر تو نہ کی؟ رمضان چھوٹ کے بجائے چیزوں کے دام تو نہ بڑھائے؟ اور سب سے بڑھ کر خود کو کم تر اور دوسروں کو اپنےسے بہتر دل وجان سے تسلیم کیا ؟ اگر سوالات کا جواب اثبات میں ہےتو دنیا میں حیات ِ طیبہ جیئے گا ‘ اور آخرت میں میری سفارش پر جنت ملے گی ‘پتہ چلے گا وہاں تم کتنے خوش نصیب اور کامیاب انسان ہو۔ چندروزہ رمضان میں حقیقی روزہ دار وہی ہوگا جس نے شیطان کو شکست فاش دی ‘جو اپنے اہل ِ خانہ سے لے کر ہر قبیل وقماش ‘ ہر رنگ ونسل‘ ہر قوم ومذہب والوں کے لئے خدائی خدمت گار بن کر جیا‘ یعنی اپنوں اور غیروں کے لئے ایک بے ضرر اور ہمہ پہلو مفید انسانی وجود ۔ معلوم ہے تم میں سے ایک قلیل التعداد مخلص بندگان ِ خدا میری آمد کو ترس رہے تھے‘ میری وجہ سے جو روحانی طمانیت پاتے ہیں ‘اس کا بھی مجھے علم ہے‘ میرے احکامات وہدایات پر سال بھر عمل پیراہوکروہ اللہ سے کس کس پیرایے میں ا نعامات واعزازات پاتے ہیں ‘ وہ جگ ظاہر ہے ۔ تم لوگوں میں یہ پاک نفوس میرے شوق ِ استقبال میں رجب وشعبان سے ہی سراپاانتظار تھے ‘میرے فراق میں اُن کی بے تابانہ دعائیں اور بے قرار عقیدتیں دیدنی تھیں۔ یہی خوش بخت مختصر سی جمعیت ہے جس پر اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور دنیا کو میرا مژدہ سنایا تاکہ نفوس ِمطمٔنہ مطمئن ہوں کہ وہ اس ذات ِ کبریا سے راضی ‘اللہ ان سے خوش۔ یہی ہیں وہ رشک ِ ملائکہ جو ضبط ِنفس اور صبر وشکر کا پیکر بنے سال بھراپنے بہشتی نورافلاکی شان بے عیب بندگی سےجنت کے مستحق ہوتے رہتے ہیں۔ رہے تم جیسےعام لوگ‘ تمہیں اس بے انتہارحم والے اللہ کاسپاس گزار ہو نا چاہیے کہ بارگاہِ خداوندی سے اعلان ہوا کہ چلو واپس آجاؤ خدا کی آغوشِ محبت میں ۔ سوچویہ اذنِ عام کب دیا گیا جب دنیا میں اقوام وملل ‘ افراد اور معاشرے خونی نفرتوں اور خصومتوں میں بہک کر ایک دوسرے کو بھنبھوڑ رہے ہیں ‘ جب کرہ ٔارض تباہ کن شیطانی سازشوں کی تجربہ گاہ‘ دجالی سیاستوں کا خُم خانہ‘ جنگ وجدل کا میدان‘ انسانیت لتاڑنے کا اکھاڑہ‘ ڈراؤنی سازشوں کا گندخانہ‘ خون خواریوں اور بےضمیریوں کا گورکھ دھندا‘ فریب کاریوں کا اڈہ‘ بدعنوانیوں کاجھمیلا ‘ اور دنیا دُکھ اور تکالیف بانٹنے والے امن دشمنوں کی گزرگاہ بنی ہے۔اسی شب گزیدہ دنیا کی جھلستی آگ میں مجھے باذن اللہ تازہ ہوا کی ٹھنڈک بن کر تمہارے سوختہ رُوح وبدن میں تازگیٔ حیات بھر نے کاکام سونپا گیا ‘ سو میں کررہاہوں۔ تم جانتے ہو عصری دنیا کے تمام مذکور ہ شرور وفتن اللہ کی تخلیق ِکائنات کی مقصدیت سے متصادم ہیں ‘ رب ِ جلیل نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بھی بندہ نفس کا غلام ہو‘ فتنوں کا شکارہو‘ خوردونوش کااسیر ہو ‘ روح وقلب کی حساسیت سے تہی دامن ہو ‘ عبادات سے غافل ہو ‘اس لئے انسانی دُنیا کی بھلائی اور عیال اللہ کی پراپرجائی کے لئے مجھے بھیجا اصلاحِ احوال کی نتیجہ خیز دعوت وحکمت کے ساتھ ‘ زندگیاں  سدھارنے کے خدائی دستور کے ہمراہ تاکہ اہل ِ جہاں جنت کے رنگ ونور میں مست ومگن ہوں۔ تم لوگ میری مبارک آمد کودیواروں پر آویزاں کلینڈر اَدلنے بدلنے کی تنگ نظر عینک اُتار پھینکنا‘ میری مہمانی کو گھسی پٹی رسم جاننے کی حماقت نہ کرنا ‘ میں حقیقی ایمان والوں کے واسطےدل کے جذبات ‘رُوح کے معمولات اور شب وروز کی عبادات کا اجروثواب ا س لئے بڑھا نے کاموجب ہوں تاکہ تمہاری سوچ کا زاؤیہ اور عمل کا سانچہ خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔ میں منضبط روحانی تربیت کا نصاب ہوں‘ مجھ سے تم شر وفساد سے بچنے کے گر سیکھتے ہو‘ شرف ِانسانیت کا مفہوم جان جاتےہو‘ اللہ سے معافی مانگنے کے انعام واکرام کے شناسا ہوتے ہو۔ ایک بار تم نے تبدیلیٔ زندگی کے اس پیغام پر آمنا صدقنا کہا توتمہاری شریانوں سے شروفساد کا فاسدخون تقویٰ و نیک عملی کے پاک لہو سے بدل دیا جائے گا ‘ تمہیں روئے زمین پرامن واطمینان کی جنتوں میں بسایا جائےگا‘ تمہارا وجود بے ریا انسانیت ‘ محبت ‘ امن وآشتی اور نفع بخشی کی برکات میں ڈھالا جائےگا۔ بالفاظ دیگر مجھ سے دل وذہن کا رشتہ استوار کر کے تمہیں روح کی بالیدگی سے اللہ کے حضور واپس پلٹا دیا جاتاہے‘ گمراہیوں اور کج عملیوں سے چھوٹنے کی محفوظ راہداری دی جاتی ہے ‘ تمہارے پژ مردہ زندگی کو ایمان کی رعنائیوں سے آشنا کیا جاتاہے‘ تمہارے خفتہ پڑےنیکی کے فطری جذبے کو گہری نیند سے جگا یا جاتا ہے، توبہ واستغفار کی نشترزنی سے تمہارےرُوحوں کے اندر پاپوں کے پیپ اور پھنسی پھوڑوں سے نجات دلائی جاتی ہے‘ تمہیں دُنیا میں آرام اور آخرت میں اطمینان کا تمغہ پانے کے قابل بنایا جاتاہے ‘ تمہارے قلوب کو شیطانی وسوسوں دماغ کو دجالی فتنہ سامانیوں سے محفوظ کیا جاتا ہے ‘ تمہیں رحمت ‘ مغفرت‘ جہنم سے آزادی‘ مواسات ورحم دلی جیسی صفات سے خدا کا چہیتا بنایا جاتا ہے ‘ اخیر پر عیدالفطر کی شکل میں تمہارے روزوں کی قبولیت کا مژدہ سنایا جاتاہے ۔ہاں تم اپنے روزوں کے بارے میں بڑے بولے بن کرمیرا منہ نہ کھلواؤ کہ تمہاری وہ کہانیاں یاد دلاؤں کہ اپنا منہ چھپائے پھروگے‘ اگر میں تم سے یہ شکایت کروں کہ میری مہمانی کی قدروقیمت سے ناآشنا ہوکر  چندروزہ خدائی چھوٹ کو تم نے کن روزہ مخالف گورکھ دھندوں کا چیستاں بنالیا‘ تو اپنا سا منہ لے کر گنگنانے لگوگے    ؎

 روزِازل پیش ہو جب دفترِ عمل میرا 

آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!