Ad
مضامین

دیہات میں ڈیجیٹل تعلیم کی اہمیت

✍️: بٹ سحران مسرور


آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے ہو رہا ہے۔ ایسے میں دیہات کے لوگوں کے لیے ڈیجیٹل تعلیم نہایت ضروری ہو گئی ہے۔ اگر دیہات کے نوجوان جدید تعلیم سے محروم رہ جائیں تو وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔

ڈیجیٹل تعلیم کا مطلب صرف کمپیوٹر چلانا نہیں بلکہ انٹرنیٹ کا صحیح استعمال، آن لائن تعلیم حاصل کرنا، سرکاری سہولیات تک رسائی حاصل کرنا اور دنیا بھر کی معلومات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ جب دیہات کا ایک طالب علم کمپیوٹر سیکھتا ہے تو اس کی سوچ وسیع ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے گاؤں کی محدود فضا سے نکل کر پوری دنیا سے جڑ جاتا ہے۔

اکثر دیہات میں وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ نہ مناسب اسکول ہوتے ہیں اور نہ جدید آلات۔ اگر حکومت اور سماجی ادارے دیہات میں کمپیوٹر مراکز قائم کریں تو ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل سنور سکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا ڈیجیٹل سینٹر کئی گھروں میں امید کی روشنی لا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل تعلیم نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ وہ گھر بیٹھے آن لائن کام کر سکتے ہیں، فری لانسنگ کر سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کر سکتے ہیں۔ اس طرح دیہات کی معیشت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔

علامہ اقبال کا یہ شعر اس موضوع پر بالکل موزوں معلوم ہوتا ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

یہ شعر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی کی راہیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اگر ارادہ مضبوط ہو تو دیہات کا نوجوان بھی ستاروں سے آگے تک پہنچ سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ دیہات میں ڈیجیٹل تعلیم صرف سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو ہمیں ہر گاؤں تک علم اور ٹیکنالوجی کی روشنی پہنچانی ہوگی۔ یہی حقیقی ترقی کا راستہ ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!