مضامین
شطرنج کی بساط پر بکھرتی ہوئی دنیا

کہتے ہیں دنیا ایک گلوبل ولیج ہے۔ مگر مجھے یہ بستی کم اور ایک وسیع شطرنج کا بورڈ زیادہ لگتی ہے —سفید اور سیاہ خانوں میں تقسیم، جہاں بادشاہ محفوظ رہتے ہیں اور پیادے مرتے ہیں۔ آج کا آسمان نیلا نہیں رہا۔ وہ دھوئیں کی ایک دبیز چادر اوڑھے بیٹھا ہے۔ بادل اب بارش نہیں برساتے، فیصلے برساتے ہیں۔ اور زمین ہر دھماکے کے بعد تھوڑا سا اور خاموش ہو جاتی ہے —جیسے اسے معلوم ہو کہ چیخنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ آج دنیا ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، مفاد اور سیاست کے بیچ انسانیت کا سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے عالمی ضمیر کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واقعی جدید دنیا نے جنگ کے سبق سے کچھ سیکھا ہے یا ہم ابھی تک طاقت کی اسی پرانی شطرنج میں الجھے ہوئے ہیں جہاں مہرے بدلتے ہیں مگر انجام وہی رہتا ہے۔ آخر اس دنیا کی سیاست کس سمت جا رہی ہے۔ جب طاقتور ممالک اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے مرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس طاقت کے کھیل میں کسی بھی فریق کا حصہ نہیں ہوتے — بچے، عورتیں اور عام شہری۔
اگرچہ جنگی بیانات اور سفارتی دعووں کے درمیان حقیقت اکثر دھندلا جاتی ہے، لیکن ایک بات واضح ہے:
مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کا خطہ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنتا دکھائی دے رہا ہے۔یہی وہ خطہ ہے جہاں تاریخ بار بار ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب بڑی طاقتیں ٹکراتی ہیں تو چھوٹے ممالک صرف مہرے بن جاتے ہیں۔دنیا کی سیاست کو اگر ایک استعارے میں بیان کرنا ہو تو شاید شطرنج سے بہتر کوئی مثال نہیں۔
اس کھیل میں بادشاہ بہت کم چلتا ہے، مگر پیادے کثرت سے قربان ہوتے ہیں۔ عالمی سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں کو “سلامتی” اور “استحکام” کے نام سے پیش کرتے ہیں، مگر اس استحکام کی قیمت اکثر کمزور خطوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اسی حقیقت کی ایک اور مثال ہے۔ یہ کشیدگی صرف ایک ملک یا ایک اتحاد کی نہیں بلکہ اس پورے خطے کی آزمائش بن سکتی ہے۔ اس پوری صورتحال کا سب سے حیران کن پہلو شاید یہ ہے کہ مسلم دنیا جس اتحاد اور یکجہتی کی بات اکثر کرتی ہے، وہ اس موقع پر واضح طور پر نظر نہیں آ رہی۔
مسلم ممالک کی بڑی تنظیم Organisation of Islamic Cooperation جسے مسلم دنیا کی اجتماعی آواز سمجھا جاتا ہے، اس بحران کے دوران نمایاں اور فوری کردار ادا کرتی دکھائی نہیں دے رہی۔یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ اگر مسلم ممالک کسی بڑے بحران میں بھی مشترکہ حکمت عملی نہ بنا سکیں تو پھر اس تنظیم کا عملی فائدہ کیا ہے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مسلم دنیا کے کئی ممالک مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ مختلف نوعیت کے اتحاد رکھتے ہیں۔ کچھ ممالک امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں، کچھ روس یا دیگر عالمی قوتوں کے ساتھ تعاون رکھتے ہیں۔ یہ اتحاد بظاہر قومی مفادات کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی مفادات مسلم دنیا کی اجتماعی پوزیشن کو کمزور کر دیتے ہیں۔
آج یہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ اگر کسی بحران میں مسلم ممالک ایک دوسرے کے قریب آنے کے بجائے مختلف طاقتوں کے ساتھ کھڑے ہوں تو عالمی سطح پر ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی واقعی طویل جنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ ہوئی، اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے — توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹ، اور معاشی عدم استحکام۔ ایشیائی ممالک، اس کا سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف جنگ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک طرف بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نئی صف بندیاں کر رہی ہیں، دوسری طرف چھوٹے ممالک ابھی تک پرانے اتحادوں اور جذباتی بیانیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے خطے بار بار عالمی کشمکش کا میدان بن جاتے ہیں۔
اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا مسلم دنیا واقعی کسی مشترکہ حکمت عملی تک پہنچ سکتی ہے؟ اتحاد صرف نعروں سے نہیں بنتا۔ اس کے لیے مشترکہ معاشی منصوبے، سائنسی ترقی، تعلیمی تعاون اور سیاسی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک یہ عناصر موجود نہ ہوں، کوئی بھی اتحاد صرف تقریروں تک محدود رہتا ہے۔
جنگ کا سب سے سفاک پہلو یہ ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی نہیں ہوتی۔ جنگ میں دونوں طرف عام لوگ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب میزائل گرتے ہیں تو وہ یہ نہیں پوچھتے کہ نیچے کھڑا انسان کس قوم یا مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ صرف تباہی لاتے ہیں۔ اسی لیے تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے کہ جنگ کی اصل قیمت ہمیشہ عام انسان ادا کرتا ہے۔
آج دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کو صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ دانشمندی اور تعاون سے بھی سنبھالنے کی ضرورت ہے۔اگر بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی استحکام کو بھی اہمیت نہ دیں تو کشیدگی کے یہ سلسلے ختم نہیں ہوں گے۔ اور اگر مسلم دنیا اپنے داخلی اختلافات سے اوپر نہ اٹھ سکے تو وہ ہمیشہ عالمی سیاست کی شطرنج میں پیادہ بنی رہے گی۔
شاید سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا ہم تاریخ سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ یا ہم ایک بار پھر وہی غلطیاں دہرانے جا رہے ہیں جنہوں نے پہلے بھی کئی خطوں کو تباہ کیا ہے؟ کیونکہ جب شہر جلتے ہیں تو تاریخ صرف یہ نہیں لکھتی کہ آگ کس نے لگائی تھی — وہ یہ بھی لکھتی ہے کہ کون لوگ خاموش کھڑے رہے۔
سوال یہ نہیں کہ اس جنگ میں کون فتح کا پرچم لہرائے گا اور کون شکست کی دھول میں گم ہو جائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب دھواں چھٹ جائے گا، جب بارود کی بو ہوا میں مدھم پڑ جائے گی اور جب تاریخ اس عہد کا باب کھولے گی تو وہ ہمارے بارے میں کیا لکھے گی؟ کیا وہ یہ لکھے گی کہ ایک امت اپنے ہی اختلافات کے خول میں بند تھی جبکہ اس کے شہر جل رہے تھے، اس کے بچے ملبوں تلے دب رہے تھے اور اس کی سرزمین شطرنج کی بساط بنی ہوئی تھی؟ یا پھر تاریخ یہ لکھے گی کہ کسی موڑ پر ہم نے ہوش سنبھال لیا تھا، ہم نے اپنی صفوں کی دراڑیں بھر لی تھیں اور ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی ہماری تقسیم ہے۔ کیونکہ تاریخ کا قلم بڑا بے رحم ہوتا ہے — وہ بہانوں کو نہیں لکھتا، وہ صرف نتائج لکھتا ہے۔ اور یاد رکھیے، جب قومیں اپنے اندر کی دیواریں نہیں گراتیں تو باہر والے آ کر ان کے دروازے نہیں کھٹکھٹاتے، وہ سیدھا اندر داخل ہو جاتے ہیں۔
مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں۔
رابطہ: 7006857283
ای میل: ikkzikbal@gmail.com