Ad
مضامین

آیت اللہ علی خامنہ ای۔ دینی قیادت، سیاسی استقامت اور شہادت کا پیغام۔

✍️:۔ اظہر نصیر


آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کی دینی اور سیاسی قیادت کا نمایاں نام تھے۔ ان کی بات ایران کی اکثریت کے لیے فیصلہ کن سمجھی جاتی تھی۔ وہ صرف ایک سیاسی قائد نہیں تھے۔ وہ ایک نظریہ تھے۔ ایک مزاحمتی فکر تھے۔ ان کے الفاظ سادہ ہوتے تھے مگر اثر گہرا ہوتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ عزت قوم کو عوام دیتے ہیں۔ قیادت امانت ہے۔ اقتدار ذمہ داری ہے۔

ابتدائی زندگی اور جدوجہد

وہ 1939 میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ علمی ماحول میں پرورش پائی۔ اس وقت ایران پر رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی۔ ریاست اور مذہبی طبقات کے درمیان فاصلے بڑھ رہے تھے۔

1962 میں انہوں نے امام خمینی کی تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں گرفتار کیا گیا۔ جیل بھیجا گیا۔ نگرانی میں رکھا گیا۔ مگر انہوں نے پیغام پھیلانا نہیں چھوڑا۔

1979 کا انقلاب

1979 میں انقلاب کامیاب ہوا۔ شاہی حکومت ختم ہوئی۔ اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔ اس مرحلے پر وہ صف اول کے رہنماؤں میں شامل تھے۔ انقلاب کے بعد انہیں اہم ریاستی ذمہ داریاں ملیں۔

1981 میں وہ صدر منتخب ہوئے۔ ایران عراق جنگ کے دوران ریاستی امور میں فعال کردار ادا کیا۔ داخلی استحکام اور دفاعی پالیسی ان کی ترجیح رہی۔

رہبر اعلی کا منصب

1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس عہدے پر انہوں نے خارجہ پالیسی، دفاع اور نظریاتی سمت کو واضح رکھا۔ اسرائیل اور  امریکہ کے ساتھ تعلقات میں سخت موقف اپنایا۔

سیاسی مزاحمت

ان کی قیادت میں مزاحمت ریاستی پالیسی بنی۔ انہوں نے خود مختاری پر زور دیا۔ پابندیوں کے باوجود موقف برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی عزت دباؤ قبول کرنے سے نہیں ملتی۔

فکری پہلو

ان کی سوچ خودی، استقامت اور نظریاتی وفاداری پر مبنی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ قومیں خوف سے نہیں، یقین سے زندہ رہتی ہیں۔

ان کی زندگی جدوجہد سے بھری تھی۔ ان کا اختتام بھی اسی جدوجہد کی کڑی بنا۔وہ ایک دور تھے۔ ایک پالیسی تھے۔ ایک مزاحمتی بیانیہ تھے۔ان کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ قیادت طاقت سے نہیں، ثابت قدمی سے بنتی ہے۔

آخری پیغام

ان سے منسوب آخری پیغام میں بھی یہی فکر جھلکتی ہے۔ انہوں نے کہا اگر میں شہید ہو گیا تو رونا نہیں خوش ہونا کیونکہ ہم لڑ کر شہید ہو رہے ہیں۔ میری فوج اور میری عوام بھی لڑ کر شہید ہو رہی ہے۔ ہمیں یہودیوں اور امریکیوں کے سامنے جھکنا نہیں ہے اور نہ ہی امریکہ سے مدد مانگنی ہے کیونکہ میں آخرت میں اس حالت میں جواب دے سکوں کہ میں اسلام کے لیے لڑا تھا۔ کسی طاقت کے سامنے جھکا نہیں تھا۔ یہ الفاظ ان کی سوچ کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ مقصد کے لیے استقامت۔ دباؤ کے سامنے انکار۔ اور آخرت کی جواب دہی کا احساس۔

ان کی شخصیت دینی فکر، سیاسی قیادت اور مزاحمتی حکمت عملی کا امتزاج تھی۔ وہ اپنے حامیوں کے نزدیک ثابت قدم رہنما تھے۔ ان کا بیانیہ یہ تھا کہ عزت کے ساتھ جینا ہی اصل کامیابی ہے۔

شہادت

خبر رساں ایجنسیز اور ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای صاحب اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مزاحمت کی۔ وہ جھکے نہیں۔ انہوں نے بیرونی طاقت سے مدد طلب نہیں کی۔ان کی شہادت کا پیغام واضح تھا۔ عزت کے ساتھ جینا۔ مقصد کے لیے کھڑا رہنا۔ اور آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا۔

خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقامِ حیات

کہ عشق موت سے کرتا ہے  امتحانِ ثبات



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!