Ad
مضامین

آہ رہبر معظم! دارالبقا کو روانگی

✍️:. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

 ایران کے ولا یت ِ فقیہ یا سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای جام ِشہادت نوش کر گئے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ رہبر معظم ِ ‘مرجع ِ عالم اور رہبر انقلاب اسلامی جیسے ذی عزت القابات سے جانے جارہے ایران کے رُوحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت ایک اندوہناک سانحہ ہی نہیں بلکہ یہ  ایک دور کا خاتمہ اورایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ایران اور مشرق وسطیٰ کے لئے یہ باب کس طرح  ترتیب پائے گا یہ آنے والا وقت بھی بتائے گا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای دارالفنا سے دارالبقا کی طرف بہت ہی حساس لمحات میں کوچ کرگئےاور اپنے پیچھے وہ ایران چھوڑ گئے جس پر ا مریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مشترکہ جنگ مسلط ہے‘ جانی اور مالی نقصانات کا کوئی حساب نہیں‘ کاروبارِ حکومت ٹھپ ہے ‘ مواصلاتی اور فضائی روابط منقطع ہیں ‘ ایرانی فوج اپنے اعلیٰ ترین قائد سے محروم ہے۔ کل ملاکر یہ شہادت اس ملک وقوم کے لئے  حساس ترین گھڑیوں میں کسی ہمالیائی چلنج سے کم نہیں۔ 

 شہید خامنہ ای کے اہدافی قتل کا دعویٰ صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نے باری باری کیا مگر کوئی ان کے دعوے پر اعتبار کر نے کو تیار نہ تھا‘ لوگ ان دعوؤں کو نفسیاتی جنگ کا آزمودہ حربہ کہہ کر نظر اندازکرتے رہے اور باور یہ کیاجاتاتھا کہ دشمن کے خیمے میں مایوسی اور شکستگی پھیلانے کے لئے دوران ِ جنگ جھوٹی خبریں اور بے بنیاد افواہیں پھیلائی جاتی  ہیں‘ اس لئے ان دعوؤں کو پرِ کاہ کی بھی اہمیت نہ دی گئی۔ ایرانی حکام کےا س اعلان نے بھی ان دعوؤں کوبعیداز حقیقت بتاد یا کہ سپریم لیڈر کومحفوظ مقام پر منتقل کئے گے ہیں ۔ بایں ہمہ صدر ٹرمپ  آیت اللہ موصوف کے قتل کو تہران میں رژیم چینج  کا آغاز بتاتے رہے۔ انہوں نے ایران میں حکومت مخالف عناصر کو بھی سڑکوں پر آنے کی تلقین  کی ۔ گوکہ اُن کی لن ترانیاں تادم تحریر صدا بصحرا ثابت ہوئیں لیکن آگے کیا ہو ‘اس بارے میں کوئی بات کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ایران کے سرکاری میڈیانے اعلاناً تسلیم کیا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامہ ای کے علاوہ اُن کے فرزند ‘ دخترِ نسبتی‘ ایک ناتی سمیت پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے سربراہ ‘ اعلیٰ فوجی کمانڈان اور دیگر حکومتی اکابرین ہلاکت آفرین مزائل حملے میں کام آگئے ۔اس خبر سےدنیا بھر میں مسلمان سکتے میں آگئےاوربوجھل دلوں کے ساتھ ماتم منانے لگے۔ ایران میں شہید آیت اللہ کی تعظیم میں چالیس روزہ ماتم اور سات روزہ تعزیتی تعطیل  تھی ۔ دریں اثنا یہ تصدیق طلب خبریں بھی گشت کر نے لگی ہیں کہ آپ کے فرزند آیت اللہ مجتبیٰ کو ایران کے شہید سپریم لیڈرکا جانشین نامزد کیا جائے گا ۔ آیت اللہ مجتبیٰ قم کے مرکزی مذہبی ادارے سےفارغ التحصیل ہیں اور اپنے شہیدوالد صاحب سے زیادہ قریبی ہونے کی بناپر سیاسی ومذہبی اثرورسوخ کے مالک رہےہیں۔ غور طلب ہے کہ جون میں حالت ِجنگ میں گھرے ہونے دوران آیت اللہ نے اپنی جانشینی کے لئے تین شخصیتوں کی مہر بند فہرست متعلقین کے حوالے کر دی تھی۔ یہ فہرست صیغۂ راز میں رکھی گئی ہے۔ ایک اور خبر میں بتایا گیا کہ ایران کے نئے ولایتِ فقیہ کے منصب پر علی رضا اعرافی کو عبوری طورنامزد کیا گیا ‘ موصوف  کوایران کےمذہبی علمی فقہی اور فکری حلقوں میں قدرومنزلت کی نظرسے دیکھے جاتے ہیں ۔

       صیام کے پہلے عشرے کے اختتام پر جنگ زدہ ایران سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت تہران سمیت مسلم دُنیا پر قیامت بن کر ٹوٹ رہی ہے‘ ا س وقت ایران میں گھر گھرگلی گلی سوگواری کے عالم رنج کے شعلے اور غم کا دھواں اُٹھ رہاہے‘ لاکھوں کی تعداد میں لوگ جنگی حالات کے باوجود شاہراؤں پر اجتماعی طور ماتم منارہے ہیں‘ سینہ کوبیاں ہورہی ہیں‘ پیروجوان اور خواتین وبچے اشک بار آنکھوں سے شہید کو خراج ِ عقیدت پیش کررہے ہیں ۔ ایران سے باہر بھی کئی ممالک میں دُکھ اور افسوس کے جذبات کے ساتھ مسلمان ماتمی جلسے جلوس کررہے ہیں‘ پاکستان میں کشیدہ حالات کے سبب حکام کے لئے امن وقانون کی برقراری دشوار ہو رہی ہے ۔ اسلام آباد میں امریکی قونصلیٹ کے حدود میں سوگواروں کا ہجوم حفاظتی حصاروں کو پھلانگ کر احاطے میں گھس آنا‘ وہاں توڑ پھوڑ کرنا اور افراتفری کے عالم میں سیکورٹی دستوں کے ہجوم پر گولیاں چلا کر برسرموقع آٹھ مظاہرین کاجان بحق اور متعدد کا زخمی ہونے کی اطلاعات حالات کے تیور بتارہے ہیں ۔ اِ دھر لکھنو کے دارلحکومت اُترپردیش میں بھی شہید آیت اللہ سمیت دوسرے شہدائے ایران کے تئیں ہمدردی جتانے اور ایران پر حملہ زن امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپناغصہ اُتارنے کے لئے جم کر نعرہ بازی ہوئی۔ د لی میں  بھی سوگواروں کے نم دیدہ مظاہرے ہوئے۔ اسی تسلسل میں اقوام متحدہ نے ایران کے خلاف جارحیت اور تہران کی جوابی کارروائیوں پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلا کر مشرق وسطیٰ میں جنگ اور تشدد کے دل دہلانے والے واقعا ت کوافسوس ناک بتایا اورطرفین کو سجھاؤ دیا کہ وہ فوری طور جنگ موقوف کرکے گفتگو اور افہام وتفہیم کاراستہ اپنائیں۔ آیت اللہ کی شہادت پر سیاسی قائدین اور علمائے اسلام جارح قوت کےخلاف اپنی برہمی کا برابر اظہار کئے جا رہے ہیں ۔ کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے ایران میں وقوع پذیر ہلاکتوں کےردعمل میں کہا کہ’’ آنکھ کے بدلے آنکھ کا قانون‘‘ دُنیا کو اندھا بناسکتا ہے ‘ نیز کسی خود مختار ریاست کی قیادت کا ٹارگٹڈ قتل اور بے گناہوں کا خون ‘خواہ اس کے پیچھے جو بھی وجوہات ہوں ‘ قابل مذمت ہیں ۔ معروف عالم ِ دین مولانا خالد رشید فرنگی محل نے ایران پر جنگ تھوپے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ اس جنگ سے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ مشہور مذہبی پیشوا کلب جواد نے اسرائیل اور امریکہ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اُن کی جنگی مہم کو بزدلی سے تعبیر کیا ہے اور بتایا کہ شہید خامنہ ای کی مسلسل مزاحمت اور شہادت پانے کی آرزو اُن کے دعاؤں میں ڈھل چکی تھی ‘ انہی دعاؤں کا اثر ہے کہ آپ شہید کا درجہ پاگئے۔ وادی ٔ کشمیر میں کرگل تا سری نگر مقامی مسلم آبادی رہبر معظم کی دائمی جدائی پر سر ا پا احتجاج بنی ۔ کرگل‘ لال چوک سری نگر‘ بڈگام اور بانڈی پورہ وغیرہ میں تعزیتی جلسے ہوئے اورجلوس نکلے‘ان میں مذہبی نعرے بلند ہوئے‘ مقررین نے شہید آیت اللہ کو نم ناک آنکھوں سے الوداع کیا۔ میرواعظ ِکشمیر اور متحدہ مجلس علما کے سربراہ ڈاکٹر عمر فاروق نے اس غم انگیز سانحے پر اپنے گہرے رنج وتاسف کا اظہار کرنے کے علاوہ ایرانی عوام سے اظہار ِیکجہتی کیا ۔ انہوں نے بحیثیت سربراہ متحدہ مجلس ۲؍مارچ کو اس جگر سوز سانحہ کے خلاف جموں کشمیر میں پُر امن بند کی کال بھی دی تھی۔ ہڑتال کااثر یہ ہوا کہ کشمیر میں زندگی کی نبضیں رُک گئیں۔ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے لوگوں کو امن وسکون برقرار رکھنے کی اپیل کی اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نےاس مذموم حرکت پر اسرائیل پر تنقید کی۔ واضح رہے کہ ۱۹۸۰ میں شہید آیت اللہ خامنہ ای دیگر چیدہ چیدہ ایرانی علما کے ہمراہ دورۂ کشمیر پر آئے تھے‘ وقت کے میرواعظ شہید مولوی محمد فاروق صاحب کی موجودگی میں آپ نےجامع مسجد سری نگر میں نمازجمعہ ادا کرنے کے علاوہ ایک شاندار جلسے سے خطاب بھی کیا تھا۔ بہر کیف ریاستی حکومت نے حفظ ماتقدم کے طور دو مارچ سے سات مارچ تک تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا۔  

    شہید آیت اللہ خامنہ ای کی عمر چھیاسی سال تھی۔ آپ کی ولادت ۱۹۳۹  میں مشہد ایران کے ایک ممتاز مذہبی گھرانے میں ہوئی تھی ‘والد بزرگوار بھی ایک معروف عالم ِ دین تھے‘اُنہی کی آغوشِ تربیت میں آپ نے مذہبی تعلیم کی شروعات کی ۔ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر سید خامنہ ای میں خدادادفطانت و ذہانت کا عالم یہ تھا کہ محض گیارہ سال کی طفل عمری میں اسلامی علوم ومعارف پر دسترس حاصل کی۔ دینی فہم اور مذہبی بصائرکےعلاوہ وقت کے دوسرے جید علمائے دین کی طرح آپ کی دلچسپی عصری سیاسی امور میں بھی رہی۔ بنابریں علمی بصیرت‘ سیاسی فہم و فراست اور قائدانہ صلاحیت کی آمیزش شہید خامنہ ای کی شریں شخصیت میں کچھ اس انداز میں گھل مل گئی تھی کہ زندگی کی آخری سانسوں تک آپ نےپوری قوت وہمت‘ مصابرت و شجاعت کے ساتھ اپنے ملک و قوم کی مذہبی قیادت ‘ دینی رہنمائی اور سیاسی رہبری کا اعلیٰ ترین منصب بحسن وخوبی سنبھالا۔ ایران میں آپ کی شناخت کسی بادشاہ یا فرماں روا کی نہ تھی بلکہ آپ ایک ایسے اعلیٰ پایہ عالم ِ دین کے طور جانے پہچانے جاتے تھے جو وقار‘ متانت‘ وجاہت ‘ دیانت‘ گرم دم ِ گفتگو نرم دم جستجو کے چلتے پھرتے نمونے تھے۔ آپ کو امریکہ کے قریبی شاہِ ایران رضاشاہ پہلوی کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کی پاداش میں کئی بار گرفتار کیا گیا‘ دوران ِ حراست بدترین جسمانی تشدد سے گزارا گیا ‘ ذہنی تعذیبیں دی گئیں‘ایک عرصہ تک آپ روپوشی کی زندگی بھی گزارتے رہے ‘ مگر ۱۹۷۹ میں امام آیت اللہ روح اللہ کی قیادت میں ایران میں ایک ہمہ گیر سیاسی انقلاب برپا ہو ا اوررضا شاہ کا اقتدار ختم ہوا ۔ اسی پس منظر میں شہید آیت اللہ کی مذہبی قدوقامت اور سیاسی کردار بڑھ گیا۔ اسی سال تہران میں نماز ِ جمعہ کے موقع پر آپ کو امام خمینی صاحب نے نمازِ جمعہ کا امام مقرکیا جو کسی مذہبی شخصیت کے لئے ایک اونچا اعزاز مانا جاتاتھا ۔ ۱۹۸۱ میں آپ ایران کے صدر منتخب ہوئے ‘ جب کہ ۱۹۸۹ میں آپ امام خمینی کے جانشین یعنی ولایتِ فقیہ کے آئینی منصب پر براجمان ہوئے۔اس منصب پر آپ تادم ِ زیست فائز رہے۔ آپ کی نجی زندگی بہت سادہ تھی۔ علامہ اقبال کے شیدائی تھے ‘ خود بھی شعر کہتے تھے‘۱۹۸۰ میں آپ ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے مگر آپ کا ایک بازو حملے کی زد میں آکر ہمیشہ کے لئے مفلوج ہوا۔

چشم ِ فلک دیکھ رہی ہے اور مورخ کاقلم بھی رقم کر رہا ہے کہ جب سے صدر ٹرمپ دوبارہ کرسیٔ صدارت پر بیٹھ گئے‘ ایک پل بھی آرام سے اپناراج تاج نہیں چلایا‘ہر لمحہ ہرپل کوئی نہ کوئی نیا گل کھلاتے رہتے ہیں ۔ ٹیرف پہ ٹیرف کا اپنا منفرد چکر چلانے سے پیٹ نہ بھرا تو وینزویلا کے صدارتی محل سے ملک کے صدر کو اپنی اہلیہ سمیت گرفتار کرواکے امریکی جیل میں ٹھونس دیا ‘ پھر ہل من مزید کی چاہ  ہوئی تو گرین لینڈ پر قبضہ جمانے کی للچاہٹ پیدا ہوئی ‘ جزیرے کواپنی قلمرو میں شامل کرنے کے پرتو لنے لگے تو یورپ شدید برہم ہوا‘ مخالفت کی شدید ہواؤں سے بھانپ لیا کہ خطرہ ہے تو وقتی طور گرین لینڈ کو طاق ِ نسیاں میں ڈالا اور رُخ غزہ کی طرف پھیرا ‘ یہاں غزہ مجلسِ السلام (غزہ بورڈ آف پیس ) نامی نئے فلسطینی پلان کو اپنی سیاسی مشغولیات کا حصہ بناڈالا۔ بورڈ کے قیام سے کم ازکم اُمید یہ کی جارہی تھی شاید تباہ حال غزہ پر امریکن صدراپنی توجہات مثبت انداز میں مرکوز کرکے مشرق وسطیٰ کو امن واطمینان کا تحفہ دے کر نوبیل پرائز پائیں گے مگر بہت جلد انہیں یہ شوق چرایا کیوں نہ جون ۲۵ میں ایران سے منہ کی کھانے کا بدلہ چکایاجائے‘ فوراً ایران کے خلاف جنگ کی نئی ہنکار بھرنی شروع کیا ‘ ایران کے خلاف اپنا جنگی بیڑہ ابراہم لنکن خطے کی جانب روانہ کیا ‘ گویا تہران کی چو کھٹ پر طبل ِ جنگ بجا یا ‘ خطے پر پھر سے حربی آفتوں کے سیاہ بادل منڈلانے لگے ‘ مخدوش حالات کے تناظر میں شہید آیت اللہ نے ٹرمپ کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا عزم دہرایا تاثردیا تو چال یہ چلی کہ جنگ کی ساری تیاریوں کےدرمیان تہران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کر نے کے لئے مذاکرات کاجھانسہ دیا جائے ‘ اومان اور جینوا بلاکر ایران کے ساتھ گفت وشنید کی۔ ایران جانتا تھا یہ سب ڈھکوسلہ ہے مگر اس نے سفارتی دانائی کا ثبوت دے کر بات چیت سے کبھی بھاگنے کا خفیف اشارہ نہ دیا ‘ بات چیت ابھی چل ہی رہی تھی کہ اسرائیل نے رات کی تاریکی میں ایران کے کئی حساس مقامات پر مزائلیں داغ کر  خطے میں مصائب وبلاؤں کا نیا باب شروع کیا ۔ اس بیچ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا دلدوز واقعہ پیش آیا جس نے ایران کو ایک نئی کڑی آزمائش کے پل پر لاکھڑ ا کیاہوا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کڑی آزمائش کا ایران ماضی کی طرح بے جگری کے ساتھ مقابلہ کر پاتاہے یا نہیں۔ دیکھنے والی بات یہ بھی ہوگی کہ ایران میں رژ یم چینج کا دیرینہ امریکی اور اسرائیلی خواب شام کی طرح حقیقت میں بدلے گا یا نہیں ۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!