Ad
جموں و کشمیر

حاجی بشیر احمد بٹؒ کی تیسری برسی

✍️:. مبشر بشیر فلاحی 


8/ مارچ 2023/ کو میرے والد صاحب حاجی بشیر احمد بٹ رحمة اللہ علیہ انتقال فرما گئے.انا للہ وانا الیہ راجعون

باپ کی جدائی اگر کہا جائے تو یہ قیامت صغری سے کچھ کم نہیں ہوتی اس کی اپنی اولاد کے لئے والد مرحوم کی جدائی کا  زخم میرے دل میں ہمیشہ ہر وقت ہرہ و تازہ رہے گا. 

دنیا میں جو بھی آیا ہے جانے کے لئے آیا ہے. لیکن بعض لوگ جب جاتے ہیں انسان کیا چرند و پرند سب  روتے ہیں.کچھ ایسا ہی میرے والد محترم کی وفات کے بعد ہم نے محسوس کیا. ان کی جدائی پر اپنے اور بیگانے سب غمگین و آنسو بہاتے نظر آئے. ایسے لوگوں کی زندگیاں ایک تحریک کا منظر پیش کرتی ہیں ، ویسے میرے والد مرحوم کی زندگی بھی خاصی متحرک گزری ہے بلکہ اُن کا اوڑھنا اور بچھونا اسلام ہی تھا، جس کے سبب آج اپنوں کے دلوں میں والد صاحب کی یادیں خاصی ستا رہی ہیں. غریبوں اور مجبوروں کے ہمدرد،یتیموں اور مفلوک حال لوگوں کے غمخوارتھے، اسلام کے شیدائی اقامتِ دین کے عاشق اور اسلام کی اقامت کا جذبہ رکھنے کے ساتھ ساتھ قرآن کے احکام کے نفاذ کے لیے سر ہتھیلی پر رکھنے والا انسان.نڈر اور بہادری میں اپنی مثال آپ، باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرنے والا شیر دل انسان، کتنا کہوں اور کتنا لکھوں. 

 یوں تو والد مرحوم  دعاؤں کی صورت میں ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں ان کی وفات کا دن اس دکھ کو پھر سے تازہ کر دیتا ہے۔  انہوں  نے اپنی پوری زندگی ہمارے لیے قربان کر دی۔ وہ ایک ایسا سایہ تھے جو ہمیں ہمیشہ سکون اور تحفظ فراہم کرتا رہا۔ ان کی شفقت، محبت اور دعائیں ہماری زندگی کا سب سے بڑا قیمتی سرمایہ تھا۔  

والد صاحب ایک ایسی عظیم ہستی ہیں جو ہماری پہلی رہنمائی کرتے ہیں، ہمیں صحیح اور غلط کی پہچان سکھاتے ہیں، اور زندگی کی مشکلات و خطرات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ و ہمت دیتے ہیں۔ ان کی دعائیں اور نصیحتیں ہمیشہ ہمارے لئے روشنی کا مینارا رہتی ہیں۔  

آج ان کے نہ ہونے کا احساس دل کو بہت دکھی کرتا ہے، لیکن ان کی محبت اور قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی پوری کوشش کریں گے اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی رب العالمین سے دعا کرتے ہیں۔   

حاجی بشیر احمد بٹ رحمہ اللّٰہ اپنے علاقے کے مشہور و معروف انسان تھے کافی عرصہ تک المصطفی کالونی اولڈ ٹاون بارہمولہ میں صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دی. جن خدمات کو آج بھی  اہل محلہ یاد کر کے رشک کرتے ہیں، الحمداللہ.

۲۰۱۷ /میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی ۔ سفر محمود سے واپسی کے بعد حرمین شریفین کے خیالات اور گنبدِ خضرا کے  نورانی ماحول میں ہر وقت محو رہتے. محبوب کے دیار میں بیتے لمحات اوردلنواز یادوں کو شیرازہ حیات کی حسین لڑی میں ہروقت پروتے رہتے تھے ۔معمولات میں اضافہ کیا ،یومیہ  درودہ پاک کا ہدیہ بارگاہ رسالت مآب میں پیش کرتے تھے  ۔قران پاک سے کافی زیادہ شغف تھا ۔غریب نوازی و یتیم پروری میں اپنی مثال آپ تھے. 

حاجی صاحب کی ذات والا صفات دینی ملی وسماجی خدمات ،تحریکی بالغ نظری، صالحیت و صلاحیت کا حسین سنگم ، تاریخ کا درخشندہ باب اور راہِ حق کے مسافروں کیلئے مشعل راہ ہے. رب مرحوم کے سہو وخطا کو درگزر فرماکے جنتِ بریں میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ حسنات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمیں والد صاحب کےچنیدہ مشن سے آبیاری کرنے کی توفیق سے نوازے ۔ آمین 

آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!