مضامین
نجات کا راستہ: حقوقِ قرآن کی ادائیگی

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر،
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر۔
قرآنِ مجید وہ مقدس صحیفہ ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ربِّ کریم کا زندہ پیغام ہے، جو سیدُ الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قلبِ اطہر پر نازل ہوا۔ جس کتاب نے ریگستانوں کے باسیوں کو رہبرِ عالم بنا دیا، وہی کتاب آج بھی ہمارے دلوں کی اصلاح اور معاشروں کی تشکیل کا کامل نسخہ پیش کرتی ہے۔
یہ کتاب عزت کا ذریعہ بھی ہے اور ذمہ داری کا پیغام بھی۔ اس کا مرتبہ جتنا بلند ہے، اس کے حقوق بھی اتنے ہی عظیم ہیں۔ اگر ہم اس سے وابستہ رہیں تو رفعت ہمارا مقدر ہوگی، اور اگر اسے ترک کر دیں تو زوال ہمارا انجام ہو سکتا ہے۔
قرآن سے جو جُڑ گیا وہ سنور گیا،
جو اس سے کٹ گیا وہ بکھر گیا۔
قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ انقلاب کی کتاب ہے۔ یہ انسان کے باطن کو بدل کر ظاہر کو سنوارتا ہے۔ یہ فکر کو پاکیزگی دیتا ہے، کردار کو استحکام بخشتا ہے اور معاشرے کو عدل و انصاف کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جس گھر میں قرآن کی تعلیم زندہ ہو، وہاں سکون اور برکت کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
پہلا حق: ایمانِ کامل
قرآنِ کریم کا پہلا حق یہ ہے کہ اس پر کامل اور غیر متزلزل ایمان رکھا جائے؛ یہ یقین کہ یہ اللہ تعالیٰ کا برحق کلام ہے، جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
ایمان صرف زبان کے اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے تصدیق کا تقاضا کرتا ہے۔ جب بندہ دل سے مان لیتا ہے کہ یہ اس کے رب کا پیغام ہے تو اس کی سوچ، اس کا نظریہ اور اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ایمان جتنا مضبوط ہوگا، قرآن کی عظمت اتنی ہی دل میں راسخ ہوگی اور زندگی اسی کے مطابق ڈھلتی چلی جائے گی۔
دوسرا حق: تلاوت با تجوید
قرآن کا دوسرا حق اس کی درست اور باقاعدہ تلاوت ہے۔ اسے اسی اہتمام، ادب اور خوبصورتی کے ساتھ پڑھا جائے جیسے رسولِ اکرم ﷺ نے پڑھا اور سکھایا۔
تلاوت دل کی صفائی، روح کی غذا اور ایمان کی تجدید ہے۔ قرآن کی آیات جب خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں تو دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور انسان کو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کا احساس تازہ ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ روزانہ تلاوت کا معمول بنائیں، چاہے تھوڑی ہی سہی مگر تسلسل کے ساتھ، کیونکہ تسلسل ہی برکت کا سبب بنتا ہے۔
لبوں پر تلاوت ہو، دل میں ہو یقین،
پھر بدل جاتی ہے انسان کی ساری زمین۔
تیسرا حق: فہمِ قرآن
قرآن ہدایت کی کتاب ہے۔ اسے صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ تدبرِ قرآن انسان کو فکری پختگی عطا کرتا ہے اور اسے حق و باطل میں تمیز سکھاتا ہے۔
آج مستند تراجم و تفاسیر بآسانی دستیاب ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کسی معتبر عالم کی رہنمائی میں قرآن کو سمجھیں، اس کے معانی پر غور کریں اور یہ دیکھیں کہ وہ ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ جب آیات کو سمجھ کر پڑھا جاتا ہے تو وہ انسان کے دل میں راستہ بنا لیتی ہیں اور اس کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔
چوتھا حق: عملِ قرآن
قرآن مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک، اخلاق سے لے کر معاشرت تک ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ علم تبھی نافع بنتا ہے جب وہ عمل میں ڈھل جائے۔
قرآن ہم سے سچائی، امانت، عدل، صبر، شکر اور تقویٰ کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں یہ صفات نمایاں ہو جائیں تو یہی قرآن سے ہمارے تعلق کا سب سے بڑا ثبوت ہوگا۔ فرد درست ہوگا تو خاندان سنورے گا، اور خاندان سنورے گا تو معاشرہ خود بخود درست ہو جائے گا۔
پانچواں حق: تبلیغ و اشاعت
قرآن کا ایک اہم حق یہ بھی ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی قرآن کے پیغام کی تبلیغ میں صرف کر دی، تکالیف برداشت کیں مگر پیغامِ حق کو عام کیا۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے:
"تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کی تعلیم و دعوت کا ذریعہ بنے۔ اپنے گھر سے آغاز کرے، اپنی اولاد کی تربیت قرآن کے مطابق کرے، اور اپنے کردار کے ذریعے لوگوں کو قرآن کی عملی تصویر دکھائے۔
آخرکار، ہماری نجات، ہماری عزت اور ہماری کامیابی قرآن سے وابستگی میں ہی مضمر ہے۔ اگر ہم اسے اپنا امام، اپنا رہنما اور اپنی زندگی کا دستور بنا لیں تو دنیا و آخرت دونوں سنور سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم کے حقوق سمجھنے، ادا کرنے اور اس کے نور سے اپنی زندگی منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
hafiznaveedahkhan@gmail.com
7006753616