Ad
مضامین

" علم کے معیارات"

✍️ :. شکیل شفائی


ایک دو یوم قبل میں نے اپنے فیس بک صفحے پر درج ذیل عبارت پوسٹ کی تھی: 

" مطلب جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں صاحب" عالمِ دین " ہیں تو اُس وقت ہمارے ذہن میں علم کے کیا کیا معیارات ہوتے ہیں" 

پہلے تو اس بات کی خوشی ہوئی کہ طالبِ علموں کے ساتھ ساتھ کئی اہلِ علم و فہم نے اس پر اپنے تاثرات درج کیے - اگرچہ ہر شخص کی ہر بات سے اتفاق ضروری نہیں تاہم ان تاثرات سے اتنا تو معلوم ہوا کہ لوگ " حاملینِ علمِ دین" کا ایک تصور یا خاکہ ( مثبت یا منفی) ذہن میں ضرور رکھتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے - سوچنا ، غور و تدبر کرنا ، بات کی تہہ تک جانے کی کوشش کرنا تعلیم یافتہ اور بیدار قوموں کا شعار ہوتا ہے - 

اس پوسٹ کا مقصد عالمِ دین کے بارے میں مختلف لوگوں کے خیالات سے آگہی حاصل کرنا تھا - 

" عالِمِ دین" مُرَکَّبِ اضافی ہے جس کا سادہ سا مطلب ہوگا " دین کا عالِم " 

اضافت کے بلاغی قاعدے کے مطابق مضاف اور مضاف الیہ میں کبھی نسبتِ تعظیمی ہوتی ہے اور کبھی نسبتِ انجذابی اور کبھی دونوں - مثلاً ناقۃ اللہ ، بیت اللہ ، نار اللہ ، روح اللہ وغیرہ اضافتوں میں نسبتِ تعظیمی پائی جاتی ہے اور کتاب اللہ ، رسول اللہ ، عبداللہ وغیرہ میں یہ نسبت انجذابی ہوسکتی ہے یا دونوں - انجذاب کا مطلب یہ ہے کہ ہرچند ترتیبِ کلام میں مقصود مضاف ہوتا ہے بایں ہمہ مضاف الیہ کی بڑائی اور بزرگی کے پیشِ نظر مضاف مضاف الیہ کی بعض خصوصیات کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے - اس نکتے کو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللّٰہ نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے - انہوں نے اُدعُ إلى سبيل ربك "  میں یہ تفسیری رمز بیان کیا ہے کہ " ربك " میں داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ رب کے بعض اوصاف سے تخلق کرے جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے" تخلّقُوا بخُلُق الله " مثلاً مدعو سے محبت اور خیر خواہی ، مدعو کے حُسنِ عاقبت کی فکر وغیرہ ، یہی اضافت کے بلاغی پہلو کا تقاضا ہے - 

اس مقدمے کو ذہن میں رکھ کر اب عالمِ دین کی ترکیب پر غور کرتے ہیں - اس ترکیب میں دو لفظ ہیں : عالمِ اور دین 

عالِم مطلق جاننے والے کو کہتے ہیں کم ہو یا زیادہ اور دین سے مراد اسلام ہے - چونکہ اس ترکیب میں عالِم کی نسبت دین کی طرف کی گئی ہے اور مجرد معلومات کا حامل مراد نہیں ہے لہٰذا مولانا غلام محمد پرے ،  سالک بلال ، عرفان یوسف شاہ وغیرہ حضرات کی یہ بات اپنے تناظر میں درست ہے کہ عالِمِ دین کا  حاملِ خشیت ہونا ضروری ہے - ظاہری وضع قطع عالِم کے لیے مستحسن ہی نہیں ایک درجے میں مطلوب ہے البتہ چونکہ ہمارے زمانے میں " عالِمِ دین" کی تعریف بہت سے لوگوں پر واضح نہیں ہے اور اس عدمِ آگہی نے ہر ہُما شُما کو مَسنَدِ علم پر بٹھا رکھا ہے اور لوگ محض ظاہری وضع قطع ہی سے دھوکا کھا رہے ہیں لہذا اس تناظر میں ڈاکٹر ریاض توحیدی اور الطاف جمیل کی یہ بات درست ہے کہ جبہ و دستار اور ظاہری وضع قطع پر ہی لوگ عالِمِ دین ہونے کا حکم لگا رہے ہیں حالانکہ علمِ دین اور جبہ و دستار میں کوئی تلازم نہیں - شبیر احمد شاہ صاحب نے امام غزالی کی جو توضیحات پیش کی ہیں ان کا تعلق مجتہد سے ہے اور یقیناً ہر مجتہد عالم ہوتا ہے تاہم ہر عالم مجتہد نہیں ہوتا لہٰذا ان میں سے بعض ہی باتیں عالِم کے لیے مطلوب ہیں- ڈاکٹر عرفان علی کی یہ بات تو  صحیح ہے کہ اہلِ مدرسہ مدرسہ کے فارغین سے " عالِم "  کی شناخت متعین کرتے ہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں کہ عام مسلمان دین کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے والوں کو عالمِ دین کی فہرست میں رکھتے ہیں اور اصل فرق سوچ کا ہے - صورت حال بالکل برعکس ہے - عوام الناس ہی میں عالِم کا بگڑا ہوا تعارف چلتا ہے - شیریں بیانی ( احمد مشتاق) ، اپنے مزاج کے موافق ہونا ( قیصر علی) ، لمبی لمبی داڈھیاں رکھ کر دوسروں کو مشرک قرار دینا ( احمد سوید) ، امامت اور خطابت ( ریاض رعنہ ) ، قرآنی مفہوم (مقبول میر) اگرچہ یہ ایک مبہم ترکیب ہے ، فہمِ دین کا صحابہ کرام کی فہم سے مستفاد ہونا ( دانش محب) کسی کامل کے پاس علم حاصل کرنا ( حسین امام بٹ) ، اسلام کے مصادر پر گہری نظر ہونا اور زمانہ کے احوال کو اجتہاد سے حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ( حافظ محمد امتیاز) ، دین کے مصادر سے مجتہدانہ آگہی ( شاہنواز منظور) یہ سب باتیں اپنے اپنے تناظر میں مثبت یا منفی پہلو کی حامل ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بات بھی اپنی انفرادی حیثیت میں عالِمِ دین کی شناخت متعین یا غیر متعین نہیں کرتی - ان میں سے بعض پہلو لازمی ہیں اور بعض ایک مخصوص سماجی صورتحال کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں - 

موجودہ زمانے میں عالمِ دین کی ترکیب میں چند مزید انسلاکات شامل ہیں - یہ بات تو صحیح معلوم نہیں ہوتی کہ عالمِ کے لیے درسِ نظامی کا فارغ ہونا ضروری ہے - درسِ نظامی یقیناً اپنی نصابی مشمولات کے اعتبار سے علم میں رسوخ پیدا کرتا ہے لیکن ہے بہرحال یہ ایک نصاب - دنیا میں اور بھی نصابات رائج ہیں جن کی تحصیل بھی عالم ہونے کو مستلزم ہو سکتی ہے - مدرسہ کی شرط بھی اضافی ہے اگرچہ مدرسہ کی تعلیم بہت سی ناہمواریوں کا علاج کرتی ہے اور زمینی صورتحال یہ ہے کہ مدرسہ سے باہر شاذ و نادر ہی کوئی علم میں رسوخ حاصل کر پاتا ہے - البتہ یہ بھی صحیح ہے کہ انفراداً ایک یا چند علماء سے کسی نصاب کی تکمیل بھی عالم ہونے کے لیے کفایت کرتی ہے - ان سب صورتوں میں استاد کا متبحر اور تلمیذ کا قابلِ استعداد ہونا ازبس ضروری ہے - 

مجرد خطابت ، نری تنظیموں کی صدارت اور محض پیر مریدی ، مضمون نگاری ، اخباری کالم نویسی ، خانگی مطالعہ ، خرافاتِ یوٹیوب ،   خالی خولی تقریریں اور مصنوعی ذہانت سے خام مال برآمد کرنے والوں کو  " عالمِ دین" کے دائرے سے باہر رکھنا ضروری ہے - 

اسلامی وضع قطع کا تعلّق راست علم سے نہیں تہذیب سے ہے لہٰذا ہر مسلمان کے لیے مطلوب ہے اگرچہ علماء اس کے زیادہ مکلف ہیں - 

تقویٰ اور طہارت کی جملہ شکلیں ہر مسلمان سے مطلوب ہیں اور علماء کو ان کا زیادہ اہتمام کرنا ضروری ہے تاہم یہ باتیں علم کی اخلاقیات سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ علم کے امتیازات سے - 

عالم کے لیے جدید علوم سے آگہی محمود ہے مطلوب نہیں سوائے ان جہتوں کے جن کا تعلق فقہی مسائل و  نوازل سے ہے - قرآن و حدیث ، فقہ ، اصولِ دین ، اصولِ شریعت ، عربی زبان اپنی جملہ خصوصیات کے ساتھ ، تاریخ ، تہذیب و ثقافت اور ادب اپنی وسعتوں کے ساتھ - علم کی ان تمام شاخوں میں تبحر بہرحال لازمی ہے ورنہ کسی شخص کو اپنے بارے میں عالم ہونے کی غلط فہمی نہیں پالنی چاہیے - 

انسانی نفسیات ، جدید علمِ کلام ، بدلتی اقدار سے آگہی کے بغیر علمی بصیرت کی کرنیں نہیں پھوٹتیں - 

مسلک و مذہب اور مکتب و تنظیم کی تنگنائیوں سے عالِم خود کو آزاد کر پایا تو علم بھی آپ ہی نکھر جائے گا - وسعتِ فکر و نظر عالم کی زینت ہے ورنہ وہ تاحیات مُسَوَّدہ رہے گا مُبَیَّضہ کبھی نہیں بن پائے گا -

فقہی مسائل میں کسی بڑے مفتی یا فقیہہ کی طویل صحبت ہی پارس کو کیمیا میں تبدیل کرتی ہے - 

عالِم صرف فقہی جزئیات کا جاننے والا نہیں ہوتا ، علم کی جس شاخ میں کوئی متبحرانہ مہارت و نظر رکھتا ہو وہ اس لائن کا عالمِ ہے البتہ یہ جو ہر کہ و مہ اپنے آپ کو " مولانا " کہلوانے پر بضد ہے اور اس کے لیے طرح طرح کی قلا بازیاں دکھاتا رہتا ہے یہ تکلّفِ محض ہے - بعض لوگوں پر شناختی بحران مسلّط ہوتا ہے لہذا وہ علماء کی صفوں میں زبردستی گُھس گُھس کر جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں - 

بعض فارغینِ مدرسہ کا ہاضمہ بھی کمزور ثابت ہوا ہے - وہ مدرسے میں پہلی بار جب رازی ، غزالی ، ابن دقیق العید ، عز بن عبدالسلام ، ابن قدامہ ، ابن جوزی ، ابن تیمیہ ، ابن قیم ، ابن رجب ، عینی ، ابن حجر ، سبکی ، سخاوی ، سیوطی ، ملا علی قاری وغیرھم جیسے اکابر علماء کی کتابوں کا تعارف حاصل کرتے ہیں تو ان کے اندر یہ عجیب و غریب نفسیات پیدا ہوتی ہے کہ عالِم صرف" ہم"  ہیں باقی تو سب جاہل ہیں - ان کے ذہنوں میں کہیں پر یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ درج بالا علماء کی کتابوں کا تعارف صرف انہیں حاصل ہے باقی تو ان کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہوں گے ، ان میں سے بعض ستم ظریف دو قدم آگے خود کو انہی علماء کی صف میں بٹھا کر جرح و تعدیل کی کٹار ہاتھ میں لے کر فصلیں کاٹنا شروع کر دیتے ہیں - 

یہ بھی موجودہ دور کی آفتوں میں شامل ہے - 

بہرحال اگر قرار واقعی علمی معیارات پر موجودہ علمی منظر نامے کو پرکھا جائے تو ستر فیصد علم کی مسندیں خالی ہو جائیں گی -

لیکن یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا خشکی پر سمندری جہاز چلانا - 

عافیت اسی میں ہے کہ ہر شخص اپنے صحیح مقام کی جتنی جلدی ہو سکے سمجھ پیدا کرلے ورنہ پوری عمر اس حدیث پاک کا مصداق ثابت ہوتا پھرے گا : 

" المتشبع بما لم یُعط کلابسِ ثوبي زور"

( جو شخص ان صفتوں کو ظاہر کرے جو اس میں نہیں ہیں ، ایسا ہے جیسا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا) 



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!