Ad
مضامین

حاضر سروس اساتذہ پر TET کی شرط: انصاف، وقار اور آئینی حقوق کا سوال

✍️ :. فردوس احمد نجار / ارن بانڑی پورہ


(7889312565)

حاضر سروس اساتذہ پر ٹیچر ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ (TET) کی شرط عائد کرنے کا معاملہ آج ملک بھر کے تعلیمی حلقوں میں ایک اہم بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اگرچہ ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ایک قومی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام شہریوں کو فکر مند ہونا چاہیے، لیکن اس مقصد کو اساتذہ کے وقار، عزتِ نفس اور حاصل شدہ حقوق کی قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش انصاف اور مساوات کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ملک بھر میں لاکھوں اساتذہ ایسے ہیں جنہیں ان کی تقرری کے وقت نافذ العمل قوانین، قواعد و ضوابط اور مقررہ اہلیتی معیار کے مطابق مکمل قانونی طریقۂ کار کے تحت ملازمت دی گئی تھی۔ انہوں نے اپنی تقرری کے وقت درکار تمام شرائط پوری کیں اور برسوں بلکہ کئی دہائیوں تک دیانت داری، خلوص اور لگن کے ساتھ قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دیا۔

آج ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے والے جج ہوں، انتظامیہ کو چلانے والے بیوروکریٹس ہوں، سرحدوں کی حفاظت کرنے والے دفاعی افسران ہوں، یا پھر عوام کی جان و مال کی خدمت کرنے والے ڈاکٹرز اور انجینئرز، ان سب کی علمی اور فکری بنیاد انہی اساتذہ نے رکھی ہے۔ 

ایسے اساتذہ کو بعد ازاں ایسی اہلیتی شرط کا پابند بنانا جو ان کی تقرری کے وقت موجود ہی نہیں تھی، انصاف، مساوات اور قانونی استحکام کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مزید برآں، اگر ملک بھر کے پچیس لاکھ سے زائد حاضر سروس اساتذہ اپنی ملازمتوں کے تحفظ اور بقا کی خاطر اس امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں گے تو ان کی اولین ترجیح طلبہ کی تعلیم کے بجائے اپنے روزگار کا تحفظ بن جائے گی۔

اس صورتحال کا براہِ راست اثر ملک کے بنیادی تعلیمی نظام پر پڑے گا۔ اساتذہ کی توجہ تدریسی ذمہ داریوں، طلبہ کی رہنمائی اور تعلیمی معیار کی بہتری سے ہٹ کر امتحانی تیاریوں کی طرف منتقل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں نہ صرف تعلیمی ماحول متاثر ہوگا بلکہ لاکھوں طلبہ کی تعلیمی پیش رفت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یوں معیاری تعلیم کے حصول کے نام پر کیا جانے والا یہ اقدام خود تعلیمی نظام کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ معیاری تعلیم ہر قوم کی ترقی، خوشحالی اور مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔ تاہم دنیا کے کامیاب تعلیمی نظام یہ ثابت کرتے ہیں کہ تعلیمی معیار اساتذہ پر امتحانات مسلط کرنے یا ان کی عزتِ نفس مجروح کرنے سے بہتر نہیں بنایا جاتا۔ بلکہ بہترین نتائج اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب اساتذہ پر اعتماد کیا جائے، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے اور انہیں مسلسل تربیت و رہنمائی فراہم کی جائے۔ جب ایک استاد خود کو باعزت، محفوظ اور بااختیار محسوس کرتا ہے تو وہ پوری لگن اور یکسوئی کے ساتھ آنے والی نسلوں کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتا ہے، اور یہی معیاری تعلیم کے حصول کا سب سے مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

تعلیمی معیار میں حقیقی بہتری اساتذہ کو جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کرنے، نئی تعلیمی اور تکنیکی ترقیوں سے روشناس کرانے، مؤثر اور شفاف نگرانی کا نظام قائم کرنے، اور تعلیمی اداروں کو مطلوبہ سہولیات اور وسائل فراہم کرنے سے آتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے بھی اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اساتذہ کو شراکت دار سمجھا ہے، نہ کہ انہیں مسلسل اپنی اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ایک استاد محض معلومات فراہم کرنے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ہمہ جہت اور کثیرالجہتی شخصیت کا حامل پیشہ ور ہوتا ہے۔ وہ بیک وقت معلم، رہنما، مشیر، مربی، ماہرِ نفسیات، دوست اور رول ماڈل کا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ بچوں کی شخصیت سازی کرتا ہے، ان میں اخلاقی اقدار کو پروان چڑھاتا ہے، ان کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے اور ان کی ذہنی، اخلاقی، سماجی اور جذباتی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہیں جو ایک بچے کو محض تعلیم یافتہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور باکردار شہری بناتے ہیں۔ اس لیے ایک سو سوالات پر مشتمل معروضی امتحان کسی استاد کی تمام صلاحیتوں، تجربات، خدمات اور تدریسی مہارتوں کا مکمل اور منصفانہ جائزہ نہیں لے سکتا۔

یہ تاثر بھی درست نہیں کہ اساتذہ کسی امتحان سے خوفزدہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد وہ واحد پیشہ ور ہے جس کا رشتہ زندگی بھر قلم، کتاب اور علم سے قائم رہتا ہے۔ وہ روزانہ سیکھتا بھی ہے اور سکھاتا بھی ہے۔ مسئلہ امتحان کا نہیں بلکہ عزتِ نفس، پیشہ ورانہ وقار اور حاصل شدہ حقوق کا ہے۔

ملک کے دیگر شعبوں میں بھی ایسے بے شمار ملازمین اور اعلیٰ عہدیداران خدمات انجام دے رہے ہیں جن کی تقرری کے وقت وہ اہلیتی امتحانات یا شرائط موجود نہیں تھیں جو آج نئی بھرتیوں کے لیے لازمی قرار دی گئی ہیں۔ لیکن ان اداروں میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنی ملازمت برقرار رکھنے کے لیے دوبارہ اپنی ابتدائی اہلیت ثابت کریں۔

اگر انہی اصولوں کو دیگر شعبوں پر بھی لاگو کرتے ہوئے ان کے حاضر سروس ملازمین اور عہدیداران سے کہا جائے کہ وہ کئی سال یا کئی دہائیوں بعد دوبارہ اپنی اہلیت ثابت کریں، تو یقیناً وہ بھی اسے اپنے وقار، تجربے اور خدمات کی نفی تصور کریں گے۔ ایسی صورت حال میں ان کے اندر بھی بے چینی اور ناراضگی پیدا ہوگی، کیونکہ ہر پیشہ ور فرد یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کی برسوں کی محنت، تجربے اور خدمات کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

 اس مسئلے کو صرف ایک امتحان کے تناظر میں نہیں بلکہ اساتذہ کے وقار، ان کے حاصل شدہ حقوق، اور تعلیمی نظام کے استحکام کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی قوم کا تعلیمی نظام اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے اساتذہ خود کو باعزت، محفوظ اور قابلِ اعتماد محسوس کریں، نہ کہ جب انہیں مسلسل اپنی موجودگی اور قابلیت ثابت کرنے پر مجبور کیا جائے۔

لہٰذا ٹی ای ٹی کا معاملہ محض ایک انتظامی یا قانونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ انصاف، مساوات اور اساتذہ کے جائز و حاصل شدہ حقوق کے تحفظ کا معاملہ بھی ہے۔ وہ اساتذہ جنہوں نے اپنی تقرری کے وقت مقررہ شرائط کے مطابق اہلیت ثابت کی تھی، انہیں اپنی ملازمت کے وسط یا اختتامی مرحلے میں دوبارہ اپنی قابلیت اور اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کرنا ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے۔

آج لاکھوں حاضر سروس اساتذہ اپنی خاندانی، سماجی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے عروج پر ہیں، جبکہ ایک بڑی تعداد ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ایسے وقت میں ان سے دوبارہ اپنی ابتدائی اہلیت ثابت کرنے کے لیے ایک امتحان پاس کرنے کا مطالبہ ان کے اندر بے چینی، مایوسی اور احساسِ محرومی پیدا کر رہا ہے۔ وہ اساتذہ جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال قوم کی خدمت، بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشرے کی تعمیر میں صرف کیے، ان کے لیے یہ صورتحال نہ صرف ذہنی دباؤ کا باعث ہے بلکہ ان کے پیشہ ورانہ وقار سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

مزید برآں، دنیا کے تعلیمی اور انتظامی نظاموں کا جائزہ لیا جائے تو ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی ملتی ہیں جہاں کسی سرکاری ملازم کو اپنی تقرری کے کئی سال یا کئی دہائیوں بعد اپنی ابتدائی اہلیت دوبارہ ثابت کرنے کا پابند بنایا گیا ہو۔ عام طور پر ریاستیں اپنے ملازمین کی پیشہ ورانہ ترقی، تربیت اور کارکردگی میں بہتری پر توجہ دیتی ہیں، نہ کہ ان کے حاصل شدہ حقوق اور قانونی حیثیت کو ازسرِنو امتحانات سے مشروط کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حاضر سروس اساتذہ اس معاملے کو محض ایک امتحان نہیں بلکہ اپنے وقار، خدمات اور جائز حقوق کے تحفظ کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔

عدلیہ کے وقار اور نظامِ انصاف پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے اساتذہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، تاہم ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ حقِ تعلیم قانون 2009 (RTE Act) کی روح اور اس کے مقاصد کو حاضر سروس اساتذہ کے حقوق کے تناظر میں مزید غور و فکر کا متقاضی سمجھا جانا چاہیے تھا۔ قوانین اور عدالتی فیصلے انسانی فہم و ادراک کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور انسانی معاملات میں مختلف آراء اور تعبیرات کا پایا جانا ایک فطری امر ہے۔

بھارت ایک خودمختار، جمہوری اور آئینی ملک ہے جس کی بنیاد انصاف، مساوات اور قانون کی حکمرانی پر رکھی گئی ہے۔ اساتذہ کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے کیونکہ وہ آنے والی نسلوں کی کردار سازی کرتے ہیں اور معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس لیے یہ ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کی خدمات، تجربے اور حاصل شدہ حقوق کا احترام کیا جائے اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

موجودہ قانونی صورتحال کے پیش نظر متعدد ماہرینِ قانون اور تعلیم کی رائے ہے کہ اس مسئلے کا مستقل، منصفانہ اور پائیدار حل صرف پارلیمنٹ کی قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایسی قانون سازی جو ایک طرف تعلیمی معیار کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے اور دوسری طرف حاضر سروس اساتذہ کے جائز، قانونی اور حاصل شدہ حقوق کا بھی دفاع کر سکتی ہے۔

لہٰذا مرکزی قانون ساز اسمبلی کی یہ اخلاقی، آئینی اور قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے انسانی، سماجی اور تعلیمی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے حقِ تعلیم قانون (RTE Act, 2009) میں مناسب ترمیم کرے، تاکہ ان اساتذہ کو غیر ضروری ذہنی اذیت، اضطراب اور پیشہ ورانہ بے توقیری سے بچایا جا سکے ۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ اساتذہ اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہوں اور جمہوری، پُرامن اور آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔ ان کی جدوجہد معیاری تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ ایسے منصفانہ اور متوازن نظام کے حق میں ہے جو ایک جانب تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنائے اور دوسری جانب اساتذہ کے وقار، تجربے، خدمات اور قانونی حقوق کا بھی مکمل احترام اور تحفظ کرے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی طبقے کی جدوجہد انصاف، آئین اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہ کر کی جائے تو اس کی آواز کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے اساتذہ کو اتحاد، صبر، استقامت اور دانشمندی کے ساتھ اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنی چاہیے، یہاں تک کہ ایک ایسا حل سامنے آئے جو انصاف کے تقاضوں اور قومی مفاد دونوں سے ہم آہنگ ہو۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!