ادب
شجر ہائے سایہ دار

شجر ہائے سایہ دار (بیادِ والدِ محترم ماسٹر مرحوم نزیر احمد نجار )
تین جون.......
میرے لیے محض ایک تاریخ نہیں۔
یہ وہ دن ہے
جب میرے سر سے
ایک شجرِ سایہ دار اٹھ گیا تھا۔
میں چودہ پندرہ برس کا تھا،
گھر میں سب سے بڑا۔
دو چھوٹی بہنیں،
ایک غم سے نڈھال ماں،
اور ایک ایسا گھر
جس کی دیواروں پر
اچانک خاموشی اتر آئی تھی۔
لوگ کہتے تھے
وہ چلا گیا ہے۔
مگر برسوں بعد
میں نے جانا
کہ بعض لوگ مرتے نہیں،
وہ اپنے اعمال میں زندہ رہتے ہیں۔
میرے والد بھی
ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔
وہ ایک استاد تھے،
مگر صرف پیشے کے اعتبار سے نہیں۔
وہ عمل کے استاد تھے۔
انہوں نے کتابوں سے زیادہ
اپنے کردار سے تعلیم دی۔
انہوں نے صرف اسباق نہیں پڑھائے،
انسان بنائے۔
صرف طالب علم نہیں،
کردار تراشے۔
صرف دماغ روشن نہیں کیے،
دلوں میں چراغ جلائے۔
میں جہاں بھی گیا،
جس راہ سے بھی گزرا،
ان کی خوشبو ساتھ رہی۔
کبھی کسی شاگرد کی زبان پر،
کبھی کسی بوڑھے کی دعا میں،
کبھی کسی اجنبی کے احترام میں۔
تب میں نے سمجھا
کہ خوشبوئیں قبروں میں دفن نہیں ہوتیں۔
نیکیاں مٹی میں گم نہیں ہوتیں۔
اخلاص کے بیج
نسلوں تک پھل دیتے ہیں۔
وہ غریبوں کے غم خوار تھے۔
مسکینوں کے سہارے تھے۔
محتاجوں کی امید تھے۔
انسانوں کے دکھ
ان کے اپنے دکھ بن جاتے تھے۔
وہ دینِ حق کے علمبردار تھے۔
عدل کے داعی تھے۔
انصاف کے مسافر تھے۔
ظلم کے خلاف
ان کی خاموشی بھی احتجاج ہوتی تھی۔
وہ چاہتے تھے
کہ معاشرہ بہتر ہو،
انسان بہتر ہو،
سوچ بہتر ہو،
اور زندگی
خالق کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔
وہ جانتے تھے
کہ انقلاب نعرے نہیں لاتے،
کردار لاتے ہیں۔
اسی لیے
انہوں نے افراد سازی کی۔
انہوں نے انسان تیار کیے۔
انہوں نے ایسے دل بنائے
جو حق کے لیے دھڑک سکیں
اور ایسے ذہن
جو اندھی تقلید کے بجائے
سچائی کو پہچان سکیں۔
بائیس برس گزر گئے ہیں۔
وقت نے
میرے بالوں میں سفیدی اتار دی ہے۔
زندگی کی دھوپ نے
میرے جسم کو سخت کر دیا ہے۔
اس شجر کے کٹ جانے کے بعد
سورج کی تمازت
براہِ راست مجھ تک پہنچی ہے۔
میں نے آزمائشیں دیکھی ہیں،
تنہائیاں دیکھی ہیں،
ذمہ داریوں کے پہاڑ اٹھائے ہیں۔
مگر اس سب کے باوجود
میرے اندر
ایک گوشہ آج بھی ویسا ہی ہے۔
ایک معصوم،
نرم،
حساس سا گوشہ۔
ایک دل
جو آج بھی
اپنے باپ کی یاد میں دھڑکتا ہے۔
جب کبھی زندگی
کسی دوراہے پر کھڑی کرتی ہے،
میں آج بھی
ان کے اصولوں کی روشنی میں
اپنا راستہ تلاش کرتا ہوں۔
جب کبھی حالات
اپنی شدت دکھاتے ہیں،
میں آج بھی
ان کی تربیت کا سہارا لیتا ہوں۔
وہ میرے ساتھ نہیں،
مگر میرے ساتھ ہیں۔
وہ نظر نہیں آتے،
مگر محسوس ہوتے ہیں۔
ان کی آواز سنائی نہیں دیتی،
مگر ان کی تعلیم
میرے فیصلوں میں بولتی ہے۔
آج ان کی برسی پر
میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں:
اے میرے شفیق باپ!
آپ کا سایہ اٹھ گیا،
مگر آپ کی روشنی باقی ہے۔
آپ کا جسم مٹی میں سو گیا،
مگر آپ کی خوشبو آج بھی زندہ ہے۔
آپ دنیا سے رخصت ہوئے،
مگر آپ کے اعمال
اب بھی سفر میں ہیں۔
اور میں...
آپ کا بیٹا...
آج بھی
آپ کے لگائے ہوئے درخت کی
ایک شاخ بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ،
اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما
جو اپنے والدین کے حق میں
اس فرمانِ الٰہی کو زندہ رکھتے ہیں:
وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
+91-7006191321
E-Mail:- anayatbinnazir@gmail.com