مضامین
حسد۔ایک مہلک بیماری اور معاشرے کی تباہی کا سبب

حسد انسانی تاریخ کی قدیم ترین اور خطرناک ترین اخلاقی بیماریوں میں سے ایک ہے۔یہ وہ مہلک مرض ہے جس نے نہ صرف افراد کے دلوں کو سیاہ کیا بلکہ قوموں، معاشروں اور تہذیبوں کی تباہی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حسد ہی وہ پہلا گناہ تھا جس نے شیطان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کر دیا اور حسد ہی وہ پہلا جذبہ تھا جس کے نتیجے میں قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔
حسد دراصل اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر ناخوشی اور دوسروں کی نعمتوں کے زوال کی خواہش کا نام ہے۔ ایک حاسد شخص یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی دوسرا اس سے زیادہ عزت،شہرت،علم،دولت یا مقبولیت حاصل کرے۔چنانچہ وہ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے اور اپنی توانائیاں تعمیری کاموں کے بجائے دوسروں کو نیچا دکھانے میں صرف کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہمیشہ اخوت، خیر خواہی، محبت اور ایثار کی تعلیم دی ہے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا حکم دیا ہے۔
آج پوری دنیا میں جو جنگیں،ظلم و ستم،معاشی استحصال،امن و امان کا فقدان،نفرتوں کا بازار اور انسانیت کی بے قدری نظر آتی ہے اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں حسد،بغض،لالچ،تکبر اور اقتدار کی ہوس کارفرما دکھائی دیتی ہے۔انسان جب اپنے مفاد کو دوسروں کے حقوق پر ترجیح دیتا ہے تو معاشرے فساد کا شکار ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم بار بار انسان کو عدل، احسان اور تقویٰ کی طرف بلاتا ہے تاکہ زمین میں فساد پیدا نہ ہو۔
کشمیر جیسے روحانی، علمی اور تہذیبی خطے میں بھی افسوس کے ساتھ یہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ بعض حلقوں میں دوسروں کی ترقی،قابلیت،علمی مقام،ادبی خدمات اور سماجی اثر و رسوخ پر حسد کیا جاتا ہے۔بعض لوگ کسی کی کامیابی کو سراہنے کے بجائے اس کی کردار کشی،مخالفت اور تحقیر کو اپنا مشغلہ بنا لیتے ہیں۔نتیجتاً محبت کی جگہ نفرت،اخلاص کی جگہ منافقت اور بھائی چارے کی جگہ گروہ بندی نے لے لی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے خاندان،ذات یا قبیلے کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں۔وہ گویا خود کو عزت،علم اور جنت کا حق دار جبکہ دوسروں کو کمتر تصور کرتے ہیں،حالانکہ اسلام نے اس سوچ کو سختی سے رد کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"
ترجمہ : "اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی باپ حضرت آدمؑ اور ایک ہی ماں حضرت حواؑ کی اولاد ہیں۔لہٰذا رنگ،نسل،زبان،ذات،خاندان یا قبیلہ کسی انسان کی فضیلت کا معیار نہیں۔اصل معیار تقویٰ،کردار،اخلاق اور نیک اعمال ہیں۔
بعض اہلِ علم نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ جب معاشروں میں حسد،بغض،نفرت،ظلم،قطع رحمی اور ایک دوسرے کے خلاف سازشیں عام ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کی برکتیں کم ہونے لگتی ہیں،دلوں سے سکون اٹھ جاتا ہے اور معاشرہ بے چینی،اضطراب اور آزمائشوں کا شکار ہو جاتا ہے۔آج ہم جس ذہنی دباؤ، بے سکونی،باہمی نفرت اور سماجی انتشار کا سامنا کر رہے ہیں،اس میں ہماری اپنی اخلاقی کمزوریاں بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔
کشمیر میں بھی اگر ہم اخلاص،محبت،بھائی چارے،انسانیت اور خیر خواہی کو فروغ دیں اور حسد،بغض،نفرت اور تعصب کو ترک کر دیں تو یقیناً ہمارے معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔دوسروں کی کامیابی پر جلنے کے بجائے ان کے لیے دعا کرنا،ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی خوبیوں سے سیکھنا ہی ایک مہذب اور دینی معاشرے کی علامت ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حاسد درحقیقت سب سے زیادہ نقصان خود اپنا کرتا ہے۔وہ دوسروں کی کامیابی پر کڑھتے کڑھتے اپنا سکون،اپنی خوشی اور اپنی نیکیاں ضائع کر دیتا ہے۔اس کے برعکس جو شخص دوسروں کے لیے خیر خواہی رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو سکون،اس کی زندگی کو برکت اور اس کے کردار کو عزت عطا فرماتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کا محاسبہ کریں،حسد،بغض،نفرت اور تکبر جیسی بیماریوں سے توبہ کریں اور محبت،اخلاص،رواداری،انسانیت اور بھائی چارے کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔یہی دنیا کی بھلائی،آخرت کی کامیابی اور ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔