Ad
افسانہ

رسید...... افسانہ

✍️ :. حَسین ظفر


سورج  کب کا اُگ چکا تھا مگر نہ چڑیوں کی چہک سنائی دے رہی تھی اور نہ ہی بازار میں کوئی چہل پہل تھی ہر طرف  سناٹا چھایا ہوا تھا..... لوگ رات ہوئی تازہ  بھاری بمباری کے خوف سے نہیں بلکہ ہوا میں بارود کی   تیزابی بدبو  کی وجہ سے  کھڑیاں دروازے بند کئے ہوئے گھروں میں بیٹھنے کی ہی سوچ رہے  تھے۔۔۔سرد ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے بارودی مشک کو زائل کرنے میں مشغول تھے کہ  مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے آواز گونجنے لگی۔۔۔۔ حضرات سرکار کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی عطیات جمع کرنے کے لئے مسجد کے صحن میں آچکی ہے ۔۔آپ سے درخواست ہے کہ ملک کی حفاظت کے لئے اپنا تعاون دیں اور اپنی بساط کے مطابق چندہ دیں ۔۔۔اس اعلان نے سکوت اور خاموشی کے چھائے سارے  بادل ریزہ ریزہ کر دئیے اور لوگ لائنوں میں مسجد کی طرف نکلنے لگے۔۔۔ہوا میں اب بھی بارود کی ناقابل برداشت  اور زہر آلودہ بو تھی مگر اب وہ  نہ کسی کو محسوس  ہورہی تھی اور  نہ پریشان کر رہی تھی۔۔۔

مسجد کے احاطے میں ایک بڑی قالین بچھائی گئی تھی اور  ترتیب سے رکھی گئی  چند کرسیوں پر  بیٹھے اہلکار  اپنے کام میں مشغول ہو چکے تھے۔ 

لاؤڈ اسپیکر سے  پُرجوش آواز  میں یہ اپیل بار بار گونجی رہی : "ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے… جنگ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے… وطن کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے… جو کچھ بھی ہو سکے ، اللہ کی راہ میں پیش کریں۔"

 لوگ جوق در جوق آتے رہے۔ کسی نے  نقد  رقم پیش کی، کوئی زیورات لے آیا، کوئی اپنے جانور اور کوئی گھر کے برتن  لے آیا  بچے بھی اس عمل۔میں پیش پیش نظر آرہے تھے کوئی اپنی سائیکل کوئی کھلونا تو کوئی گلک لیکر آیا ۔  اہلکار ہر چیز کو نہایت احتیاط سے درج کرتے رہے ، اور ہر شے کی رسید دیتے رہے ۔۔۔۔۔مسجد کے صحن میں کافی وقت تک کسی میلے کا سا سماں رہا اور پھر دن ڈھلنے کے ساتھ لوگوں کی تعداد کم ہونے لگی ۔ کمیٹی کے ارکان اب جمع شدہ اشیاء کی فہرستیں ترتیب دینے میں مصروف ہونے لگے ۔

اسی لمحے، دور سے ایک دھندلی سی شکل ابھرنے لگی ۔

ایک بوڑھی عورت… ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی… جھکی ہوئی کمر… لرزتے قدم…

وہ آہستہ آہستہ، خود کو سنبھالتی ہوئی، چندہ گاہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن نہیں، بلکہ ایک الگ ہی مسرت تھی—

وہ قریب پہنچی تو ایک نوجوان نے احترام سے کرسی آگے بڑھائی: "اماں، یہاں بیٹھ جائیں…"

مگر اس نے سر ہلا کر انکار کیا۔

اس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک چھوٹا سا پرانا تھیلا کھولا… اور اس میں سے سونے کے چار کنگن نکال کر خاموشی سے آگے بڑھا دیئے اور پھر واپس مڑنے لگیں....... 

"اماں، ٹھہریں!"

کمیٹی کے ایک رکن نے مؤدبانہ آواز دی۔

"اپنی رسید بھی لیں جائیں۔"

عورت رکی… مگر مڑی نہیں۔

کمزور مگر صاف لہجے میں بولی: "بیٹا… اس کی کوئی ضرورت نہیں۔"

رکن نے نرمی سے کہا: "اماں، حکم ہے… ہر عطیے کی رسید دینا لازمی ہے… ہم احکامات  کے پابند ہیں۔"

چند لمحے کے لئے وہاں خاموشی چھا گئی…

عورت نے  ایک گہری سانس لی… پھر آسمان کی طرف دیکھا… جیسے کسی ان دیکھے گواہ کو یاد کر رہی ہو…

پھر مڑی۔

اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے… مگر درد صاف جھلک رہا تھا۔

وہ دھیرے سے بولی:

"اس جنگ میں میرے چار بیٹے شہید ہوئے ہیں…"

الفاظ جیسے فضا میں ٹھہر گئے۔

"جس سے  ان کی رسید لینی ہے اسی سے  ان کی شادی کے لیے رکھے گئے ان چار کنگنوں کی رسید بھی لوں گی۔۔

یہ جملہ سن کر سب ساکت ہوگئے۔۔ صحن میں ایسی گہری خاموشی چھا گئی کہ جیسے وقت رک گیا ہو۔

ہر آنکھ جھک  کر بوجھل ہوگئی …

عورت  مزید کچھ کہے اپنے گھر کی طرف  چل پڑی…

اب اس کی چھڑی کی "ٹھک… ٹھک…" کی آواز دور تک سنائی دینے لگی… وہاں موجود ہر شخص کو شاید پہلی بار احساس ہوا—

کہ کچھ قربانیاں ایسی ہوتی ہیں… جن کی کوئی رسید نہیں ہوتی… بلکہ وہ خود ایک رسید ہوتی ہیں۔۔۔۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!