Ad
مضامین

اسکرولنگ: ایک مہذب نشہ، ایک خاموش تباہی

✍🏼:. اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد


کبھی نشے کی اپنی ایک شناخت ہوا کرتی تھی۔ اس کی بو محسوس کی جا سکتی تھی، اس کے اثرات چہرے پر پڑھے جا سکتے تھے، اور والدین اپنے بچوں کو اس سے دور رہنے کی نصیحت کیا کرتے تھے۔ معاشرہ جانتا تھا کہ نشہ کیا ہوتا ہے اور اس سے بچنا کیوں ضروری ہے۔ مگر وقت نے نشے کا لباس بدل دیا ہے۔

اب نشہ نہ دھوئیں میں لپٹا ہوا ہے، نہ شیشے کی بوتل میں بند ہے، نہ کسی تاریک گلی کا محتاج۔ اب وہ ہماری ہتھیلیوں میں سمٹ آیا ہے۔ خاموش، مہذب، خوشنما اور ہر لمحہ ہمارے ساتھ۔ آئیس کا نام ہے...اپنے ہاتھ میں رکھے موبائل فونز پر لامحدود 'اسکرولنگ' ( Scrolling)۔

صبح آنکھ کھلتے ہی ہم موبائل ہاتھ میں لیتے ہیں۔ ارادہ صرف ایک پیغام دیکھنے کا ہوتا ہے، کسی خبر پر نظر ڈالنے کا یا کسی دوست کو جواب دینے کا۔ مگر پھر نہ جانے کب ایک ویڈیو دوسری ویڈیو کو جنم دیتی ہے، ایک تصویر دوسری تصویر کو آواز دیتی ہے، اور ایک گھنٹہ یوں بیت جاتا ہے جیسے وقت نے ہماری جیب سے خود کو خاموشی سے چرا لیا ہو۔ اور ہم نے کچھ خاص حاصل نہیں کیا ہوتا، مگر ذہن بوجھل ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں۔ یہ منصوبہ بندی ہے۔

آج کی سوشل میڈیا کمپنیاں صرف ایپس نہیں بناتیں، بلکہ انسانی توجہ کی منڈیاں آباد کرتی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ آپ کی نظر کہاں ٹھہرتی ہے، کون سا رنگ آپ کو روکے رکھتا ہے، کون سا جملہ آپ کو مشتعل کرتا ہے اور کون سا منظر آپ کو مزید چند سیکنڈ اسکرین کے سامنے بٹھا سکتا ہے۔ وہ ہمیں ہمارے علم میں نا ہونے کے باوجود ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اسکرین کو نہیں دیکھ رہے، بلکہ اسکرین ہمیں پڑھ رہی ہے۔

مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے صرف ایک پیغام پڑھنے کے لیے موبائل کھولا تھا۔ چند لمحوں بعد جب نگاہ گھڑی پر پڑی تو تقریباً چالیس منٹ گزر چکے تھے۔ اس دوران نہ کوئی اہم خبر ملی، نہ کوئی علمی سرمایہ ہاتھ آیا، نہ زندگی میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی۔ بس وقت خاموشی سے رخصت ہو گیا تھا۔

شاید ہماری سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو استعمال نہیں کرتے، بلکہ آہستہ آہستہ وہ ہمیں استعمال کرنے لگتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہم معلومات تلاش کرتے تھے، اب معلومات ہمیں تلاش کر لیتی ہیں۔ پہلے سرچ ہوتی تھی، اب اسکرول ہوتی ہے۔ سرچ شعور کا عمل ہے، اسکرول عادت کا۔ سرچ میں منزل ہوتی ہے، اسکرول میں صرف سفر... اور وہ بھی ایسا جس کا کوئی اختتام نہیں۔

یہی مسلسل بہاؤ دماغ میں ڈوپامین ( Dopamine ) کی وہی لہریں پیدا کرتا ہے جو جوئے اور دیگر لتوں میں دیکھی جاتی ہیں۔ ابتدا میں یہی عمل ہمیں سکون دیتا ہے، پھر عادت بن جاتا ہے، اور آخرکار تھکن، بے چینی اور ذہنی انتشار چھوڑ جاتا ہے۔ آج نوجوان سینکڑوں فالوورز رکھنے کے باوجود تنہائی کا شکار ہیں۔ خاندان ایک ہی کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے، مگر ہر شخص اپنی الگ دنیا میں گم ہوتا ہے۔ کھانے کی میز پر خاموشی ہے، سفر میں خاموشی ہے، انتظار میں خاموشی ہے، حتیٰ کہ گفتگو کے درمیان بھی انگلیاں اسکرین پر چلتی رہتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے قریب رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

 میں سمجھتا ہوں کہ اسکرولنگ ہمارے عہد کی نئی سگریٹ نوشی ہے۔ جس طرح کبھی سگریٹ کو معمولی عادت سمجھا جاتا تھا اور بعد میں اس کے نقصانات دنیا کے سامنے آئے، بعینہٖ آج ہم اسکرولنگ کو معمول سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ یہ خاموشی سے ہماری توجہ، ہماری یکسوئی، ہماری تخلیقی صلاحیت اور ہمارے قیمتی لمحات نگل رہی ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم ٹیکنالوجی سے دشمنی اختیار کر لیں۔ ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی کو آسان بنایا ہے، فاصلے کم کیے ہیں اور علم کو ہر دروازے تک پہنچایا ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم اس کے مالک رہیں، اس کے غلام نہ بن جائیں۔

اپنے لیے وقت کی حد مقرر کریں۔ غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کریں۔ کھانے کی میز پر موبائل کو جگہ نہ دیں۔ بچوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسکرین کو خاموش کر دیں۔ اور کبھی کبھار خود سے یہ سوال بھی پوچھیں کہ جو وقت میں اسکرولنگ پر خرچ کر رہا ہوں، کیا یہی وقت کسی کتاب، کسی عزیز، کسی دعا یا اپنی ذات کے ساتھ نہیں گزار سکتا تھا؟ آخرکار انسان کی زندگی اس کی توجہ سے بنتی ہے۔ جس چیز کو ہم اپنی توجہ دیتے ہیں، رفتہ رفتہ ہماری شخصیت بھی اسی کا عکس بن جاتی ہے۔ اس لیے شاید آج آزادی کا مطلب دنیا سے کٹ جانا نہیں، بلکہ اپنی توجہ کو دنیا کے شور سے محفوظ رکھنا ہے۔

اور شاید اس عہد کا سب سے خوبصورت، سب سے بہادر اور سب سے انقلابی عمل یہی ہے کہ ہم کبھی کبھار موبائل بند کریں، سر اٹھا کر آسمان کو دیکھیں، اپنے آس پاس بیٹھے لوگوں کو محسوس کریں، اور خود کو یاد دلائیں کہ زندگی اب بھی اسکرین کے اُس پار ہمارا انتظار کر رہی ہے۔

اِکز اقبال ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔

رابطہ: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!