جموں و کشمیر
ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یادگار حسینی کانفرنس اور مشاعرہ

ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے زیرِ اہتمام ایک روزہ عظیم الشان حسینی کانفرنس، حسینی مشاعرہ اور کشمیری شعری مجموعہ "وٲر دات" کی شاندار رسمِ رونمائی منعقد سوپور، 28 جون: ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے زیرِ اہتمام ہوٹل کہکشاں، امرگڑھ، سوپور میں ایک روزہ عظیم الشان حسینی کانفرنس، حسینی مشاعرہ اور معروف صوفی شاعر سید محمد اشرف بخاری روپوش کے کشمیری شعری مجموعہ "وٲری دات" کی باوقار رسمِ رونمائی منعقد ہوئی۔ اس روح پرور، فکری اور ادبی تقریب میں وادیٔ کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ممتاز شعراء، ادباء، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری کو حاصل ہوئی، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی سعادت ارسلان ریاض نے حاصل کی۔ تقریب کی صدارت ممتاز ادبی شخصیت شہناز رشید نے کی، جبکہ اسٹیج پر مقبول فیروزی، سلیم یوسف، فاروق واگوری اور ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے صدر سید نادم بخاری موجود تھے۔ استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے سید نادم بخاری نے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ کربلا حق، انصاف، ایثار، صبر، استقامت اور انسانیت کا ابدی استعارہ ہے، اور آج کے پُرآشوب دور میں امام حسینؑ کی تعلیمات عدل، رواداری، اخلاقی اقدار اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کربلا کے آفاقی پیغام پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ حضرت امام حسینؑ کی ادبی عظمت اور فصاحت و بلاغت پر بھی مفصل گفتگو کی، اور بتایا کہ امام عالی مقامؑ کے ارشادات آج بھی اپنے ادبی حسن، روحانی تاثیر اور حق گوئی کی بدولت انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے حضرت امام حسینؑ سے منسوب وہ تاریخی اشعار بھی سنائے جو آپؑ نے میدانِ کربلا میں یزیدی لشکر کے سامنے جامِ شہادت نوش کرنے سے قبل ارشاد فرمائے تھے، جنہیں حاضرین نے انتہائی عقیدت، احترام اور جذباتی کیفیت کے ساتھ سماعت کیا۔ تقریب کی ایک اہم اور یادگار نشست معروف صوفی شاعر سید محمد اشرف بخاری روپوش کے کشمیری شعری مجموعہ "وٲری دات" کی رسمِ رونمائی تھی۔ اس موقع پر سید نادم بخاری نے کتاب کا جامع تعارف اور تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے اس کی ادبی اہمیت، فکری و روحانی جہات، فنی خوبیوں اور معاصر کشمیری ادب میں اس کے منفرد مقام پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ حاضرین نے اس شعری مجموعے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشمیری ادب کا ایک قیمتی اضافہ قرار دیا۔ تقریب کا کلیدی مقالہ تنظیم کے نائب صدر سید شوکت ہاشمی نے پیش کیا، جس میں انہوں نے فلسفۂ کربلا اور اس کے عالمگیر پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق کی باطل پر دائمی فتح، انسانی آزادی، عدل، وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی لازوال علامت ہے۔ اس کے بعد عظیم الشان حسینی مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں شعراء کرام نے حضرت امام حسینؑ، اہلِ بیتِ اطہارؑ اور شہدائے کربلا کی بارگاہ میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ ان کے پُرسوز اور ایمان افروز کلام نے محفل کو روحانی، جذباتی اور ادبی رنگوں سے معطر کر دیا۔ مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں عاقب رازی، میر غیاث الدین، فدا حسین فدا، بشارت حفیظ،محمد اکرم، گلشن وارثی، شہزاد منظور، اشرف گلکار، رفاقت حفیظ، سعد اکبر، جمیل یوسف، غلام حسین حق نواز، سید محمد اشرف بخاری روپوش، محی الدین دلاور، مقبول فیروزی، امین اشرف، الیاس آزاد، سلیم یوسف، جوہر رمضان، سید نادم بخاری، سید اسداللہ صفوی، سید شوکت ہاشمی، معصوم گلزار، فاروق واگوری، الطاف حسین ملک، شوکت علائی، شہناز رشید، غلام نبی دلنواز، منتظر ہیگامی، رفیق ہیگامی، ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری، ارسلان ریاض، بلال میاں، برہان فیاض سمیت متعدد ممتاز شعراء شامل تھے۔ اس موقع پر نثار احمد بابا، سجاد احمد بٹ، عاشق حسین، فاطمہ الیاس، زیرت حسین ملک اور دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری اور محمد اکرم نے مشترکہ طور پر نہایت عمدہ، شائستہ اور ادبی انداز میں انجام دی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔ اپنے اختتامی کلمات میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حضرت امام حسینؑ کے آفاقی پیغام—حق، انصاف، ایثار، اخوت، رواداری اور انسانی وقار—کو فروغ دینے کے لیے مستقبل میں بھی ایسی علمی، ادبی، روحانی اور ثقافتی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ آخر میں ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے صدرِ مجلس، مہمانانِ گرامی، شعراء، ادباء، دانشوروں، میڈیا نمائندگان اور وادیٔ کشمیر کے مختلف علاقوں سے تشریف لانے والے تمام شرکاء کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حاضرین کی بھرپور شرکت، محبت، تعاون اور حوصلہ افزائی ہی اس عظیم الشان کانفرنس کی کامیابی کا اصل سرمایہ ہے۔ شرکاء نے ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کی اس بامقصد، منظم اور معیاری ادبی و روحانی تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تنظیم آئندہ بھی اسی جذبے اور معیار کے ساتھ ایسی علمی و ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی رہے گی۔