Ad
مضامین

نیت کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہوتی

✍️:. احمد اقبال اِکز / سہی پورا قاضی آباد 


کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے سبق دے جاتی ہے جو کسی کتاب، کسی یونیورسٹی اور کسی سیمینار سے نہیں ملتے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایسے اساتذہ اکثر چھوٹے قد کے ہوتے ہیں، بستہ اٹھائے اسکول آتے ہیں، اور عمر کے اُس حصے میں ہوتے ہیں جہاں ہم انہیں ابھی "بچہ" کہہ کر پکار رہے ہوتے ہیں۔

چند روز قبل اسکول میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جس نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور رکھا۔

لنچ ٹائم تھا۔ نماز ادا کرکے دفتر واپس آیا تو ابھی کھانے کا ڈبہ ہاتھ میں ہی لیا تھا کہ دوسری جماعت کا ایک طالب علم، صفوان، تیزی سے دفتر میں داخل ہوا۔ چہرے پر غصہ تھا، مگر آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔

"سر! میرے ستر روپے کلاس میں چوری ہوگئے ہیں۔ مجھے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنی ہے۔"

ہم نے اسے تسلی دی اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کھول دی۔

کچھ ہی دیر بعد اسکرین پر ایک بچہ صفوان کے بیگ کے پاس آیا، جیب میں ہاتھ ڈالا، کچھ نکالا اور آگے بڑھ گیا۔

منظر بظاہر بالکل واضح تھا۔ ہمارے پاس ویڈیو بھی تھی، گواہ بھی اور ثبوت بھی۔

ہم نے ویڈیو روک کر صفوان سے پوچھا، "اسے جانتے ہو؟"

"جی سر، عبداللہ ہے... میرا دوست۔"

"تو پھر اسے بلاتے ہیں۔"

لیکن صفوان نے فوراً کہا، "نہیں سر! یہ میرا دوست ہے۔"

ہم نے پوچھا، "تم اسے معاف کرتے ہو؟"

اس نے بغیر کسی توقف کے کہا، "جی سر۔"

"اور اپنے پیسے واپس لوگے؟"

"نہیں سر، مجھے پیسے بھی واپس نہیں چاہیے۔"

یہ جواب سن کر چند لمحوں کے لیے دفتر میں خاموشی چھا گئی۔

ہم ابھی صفوان کی معصوم درگزر پر حیران ہی تھے کہ عبداللہ کو بھی بلا لیا گیا۔

اس سے پوچھا گیا، "بیٹا، تم نے صفوان کے بیگ سے پیسے کیوں نکالے؟"

اس نے بار بار ایک ہی جواب دیا، "سر، میں نے چوری نہیں کی۔"

ہم نے کہا، "سی سی ٹی وی میں سب کچھ موجود ہے۔"

وہ خاموشی سے صفوان کی طرف دیکھنے لگا اور بولا، "سر، ان کو پیسے مل گئے ہیں۔"

صفوان نے اپنی جیب سے ستر روپے نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیے۔

اب حیران ہونے کی باری ہماری تھی۔

عبداللہ نے نہایت سادگی سے کہا:

"سر! صفوان نے پیسے بیگ کی اگلی جیب میں رکھے تھے۔ وہاں سے گر بھی سکتے تھے یا کوئی بھی نکال سکتا تھا۔ میں نے صرف انہیں اندر والی جیب میں، کتاب کے اندر رکھ دیا تھا تاکہ محفوظ رہیں۔"

ایک لمحے میں پوری کہانی بدل گئی۔

جو منظر چند لمحے پہلے ہمیں "چوری" دکھائی دے رہا تھا، وہ دراصل "امانت" کی حفاظت کا منظر تھا۔

اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ کیمرہ کبھی بھی مکمل حقیقت نہیں دکھاتا۔ وہ صرف حرکت محفوظ کرتا ہے، محرک نہیں؛ عمل ریکارڈ کرتا ہے، نیت نہیں۔

افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی زندگی کو بھی ایک سی سی ٹی وی کی نظر تک محدود کر دیا ہے۔ ہم کسی کی ایک تصویر دیکھ کر اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں، ایک مختصر ویڈیو دیکھ کر عدالت لگا لیتے ہیں، ایک جملہ سن کر نیت کا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں۔ تحقیق، حسنِ ظن اور تحمل جیسے الفاظ ہماری لغت سے نکلتے جا رہے ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر وہ ہاتھ جو کسی چیز کو اٹھاتا ہے، ضروری نہیں کہ چوری کر رہا ہو؛ کبھی وہ اسے بچا بھی رہا ہوتا ہے۔ ہر خاموش شخص مجرم نہیں ہوتا، ہر دکھائی دینے والا منظر پوری حقیقت نہیں ہوتا، اور ہر ثبوت فیصلہ سنانے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔

اس روز دوسری جماعت کے دو بچوں نے ہمیں دو الگ الگ سبق دیے۔

ایک نے سکھایا کہ دوستی کا اصل حسن معافی میں ہے۔

دوسرے نے بتایا کہ امانت کی حفاظت کرنے والا ہر شخص اپنی صفائی بیان کرنے میں ماہر نہیں ہوتا۔

ہم اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، مگر کبھی کبھی بچے ہمیں انسان ہونا سکھا دیتے ہیں۔

اور شاید اسی لیے آج بھی میرے ذہن میں ایک ہی جملہ بار بار گونجتا ہے:

"نیت کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہوتی۔"

[ نوٹ: یہ مضمون ہمارے اسکول میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے]

احمد اقبال ( اِکز )  ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔

رابطہ: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!