مضامین
سفرِ محمود........ قسط دوم

مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے لیے بھارتی حج کمیٹی نے تقریباً آٹھ ہزار حجاج کا کوٹہ مختص کر رکھا تھا، مگر اس بار عازمین کی تعداد ساڑھے چار سے پونے پانچ ہزار کے آس پاس ہی رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرعہ اندازی کی نوبت ہی نہ آئی اور ہر خواہش مند کا نام براہِ راست منتخب ہو گیا۔ یہ خبر سن کر احقر کی مسرت و شادمانی کی کوئی انتہا نہ رہی، لیکن خوشی کی اس لہر کے ساتھ ہی دل کے نہاں خانوں میں کچھ وسوسے اور اندیشے بھی سر اٹھانے لگے۔
ان اندیشوں کا پسِ منظر ماضی کی وہ دو ناکام کوششیں تھیں جن میں نیت ارادہ کرنے کے باوجود میں محروم رہ گیا تھا۔ پہلی بار 2017 میں جب میں نے حج کا فارم بھرا، تو امیدواروں کا ہجوم اس قدر زیادہ تھا کہ خصوصی کوٹے کی واگزاری کے باوجود میرا نام انتظار کی فہرست (Waiting List) میں دس ہزار سے بھی اوپر رہا۔ یوں وہ سال حسرتوں کی نذر ہو گیا۔ دوسری بار 2018 میں جب فارم بھرا، تو چونکہ میری والدہ محترمہ کی عمر 70 سال سے متجاوز تھی، اس لیے ہمیں ضابطے کے تحت قرعہ اندازی سے مستثنیٰ کر کے منتخب کر لیا گیا۔ ہم نے لبیک کہنے کی پوری تیاری کر لی، قسطیں بھی جمع کرا دیں، مگر شاید ابھی ربِ کریم کے دربار سے اذنِ حضوری نہیں ہوا تھا۔ 2019 کے اواخر میں دنیا کووڈ-19 کی ہولناک وبا کی لپیٹ میں آ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کاروبار زندگی ٹھپ ہو گیا، وسیع و عریض کائنات ایک تنگ و تاریک قید خانے کا منظر پیش کرنے لگی اور تمام انسانی رشتے ناتے خوف کی دیواروں کے پیچھے محصور ہو گئے۔ حج کی تمام اقساط ادا کرنے کے باوجود، مشیتِ ایزدی کا اشارہ ابھی 'انتظار' ہی تھا۔
ماضی کے انہی تلخ تجربات اور موجودہ اندیشوں کے پیشِ نظر، میرے دل میں خوف بیٹھ گیا کہ کہیں تاریخ خود کو دہرانے نہ لگے اور دوبارہ کوئی رکاوٹ سامنے نہ آ جائے۔ اسی مصلحت کے تحت میں نے اپنے اس سفر کی خبر کو صیغۂ راز میں رکھا اور خاموشی سے حالات کا جائزہ لیتا رہا۔
دوسری طرف، حج کمیٹی وقتاً فوقتاً اخراجات اور اگلی اقساط کی ادائیگی کے حوالے سے ہدایات جاری کر رہی تھی۔ 2019 کے بعد حج کے اخراجات میں لگ بھگ سو فیصد کا کمر توڑ اضافہ ہو چکا تھا۔ ایک وہ دور تھا جب عازمین ڈھائی لاکھ روپے میں حج کر آتے تھے اور حج کمیٹی انہیں مکہ معظمہ و مدینہ منورہ میں روزمرہ کے اخراجات اور طعام و قیام کی سہولت کے لیے 2100 سعودی ریال بھی واپس کرتی تھی۔ مگر اب حالات بدل چکے تھے، اخراجات کی اسی گراں باری کا نتیجہ تھا کہ اب جموں و کشمیر کا مختص کوٹہ بھی پورا نہیں ہو پاتا تھا اور بچا ہوا کوٹہ دیگر ریاستوں کو منتقل کر دیا جاتا تھا۔
بہرحال ریاستی حج کمیٹی نے ٹیکنالوجی کے اس جدید دور سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عازمین کے لیے آن لائن تربیتی پروگراموں کا اہتمام کیا۔ ان تربیتی نشستوں میں جید علمائے کرام اور فقہ کے ماہرین انتہائی سہل زبان میں سفرِ محمود کے واجبات، فرائض، سنن اور احکامِ حج کے ساتھ ساتھ ممنوعات حج سے آگاہ کرتے رہے۔ جن لوگوں نے حال ہی میں فریضۂ حج ادا کیا تھا، ان کے تجربات پر مبنی ہفتہ وار مذاکرے نشر ہونے لگے۔ جیسے جیسے دن گزرتے، دل کی دھڑکنیں تیز ہوتیں اور روح امید و بیم کے درمیاں جھولنے لگتی۔ گو کہ پرواز میں ابھی پانچ چھ ماہ کا فاصلہ تھا، مگر انتظار اب ضبطِ تحریر سے باہر ہو رہا تھا۔
اس انتظار نے میرے روزمرہ کے معمولات پر گہرا اثر ڈالا۔ فرائض کی ادائیگی میں ماضی میں جو کوتاہیاں ہوتی تھیں، اب ان کی جگہ توبہ، استغفار اور گریہ و زاری نے لے لی۔ قرآنی دعائیں، مسنون اذکار اور ایامِ حج کے معمولات زبان پر جاری رہنے لگے۔ دل میں ایک تڑپ پیدا ہوئی کہ ان تمام ہدایات کو کتابی صورت میں حاصل کروں۔ چونکہ میرا یہ ارادہ ابھی پردۂ راز میں تھا، اس لیے گھر پر کسی دعوت یا شور شرابے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لیکن میں اپنے طور پر یوٹیوب، انٹرنیٹ اور مستند کتابوں کی مدد سے اس منزلِ شوق کا رختِ سفر تیار کرتا رہا۔ برصغیر سے جانے والے اکثر حجاج عمر رسیدہ بزرگ اور تعلیم سے ناآشنا ہوتے ہیں؛ چنانچہ میں نے سوچا کہ زادِ راہ کی یہ علمی تیاری نہ صرف میرے اپنے کام آئے گی بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گی۔ ان دنوں ریاستی حج کمیٹی کے پمفلٹس کے علاوہ مولانا محمد یوسف اصلاحی کی "آسان حج"، سیرتِ پاک پر "حیاتِ طیبہ"،محمد عربیﷺ اور علامہ شبلی نعمانی کی مایہ ناز تصنیف "سیرت النبی ﷺ" مستقل زیرِ مطالعہ رہیں۔
روحانی تیاری تو اپنی جگہ جاری تھی، لیکن اسی دوران ربِ کائنات نے ایک اور آزمائش کھڑی کر دی، میری اہلیہ کی طبیعت کافی ناساز رہنے لگی۔ میں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے رجوع کرنا شروع کیا تاکہ روحانی بالیدگی کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کا مورچہ بھی مضبوط رہے۔ دوسری طرف اپنی جسمانی استطاعت اور پیدل چلنے کی مشق کو بہتر بنانے کے لیے میں نے ایک نیا معمول اپنایا۔ اسکول گھر سے لگ بھگ چار کلومیٹر دور تھا، میں نے روزانہ وہاں پیدل جانے کا عزم کیا۔ راستے میں اکثر واقف کار اور ہمدرد نوجوان مجھے پیدل دیکھ کر اپنی سواری (بائیک یا گاڑی) پر بیٹھنے کی پیشکش کرتے، مگر میں انتہائی لطیف اور شگفتہ انداز میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ کہہ کر معذرت کر لیتا کہ "میں اس وقت واک (مشق) کر رہا ہوں"۔
باقی آئندہ بشرط زندگانی ۔
عبدالرشید سرشار
7006146071