Ad
مضامین

طلبہ پر مرکوز تبادلہ پالیسی میں ReT اساتذہ کو شامل کرنا ناگزیر ہے

✍️:. فردوس احمد نجار


جموں و کشمیر میں حال ہی میں متعارف کرائی گئی تبادلہ پالیسی کو شفافیت، انصاف اور تعلیمی نظام میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انصاف پر مبنی نفاذ کے دعووں کو بھی نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام دعووں کے باوجود یہ پالیسی تدریسی عملے کے ایک ایسے وسیع اور نہایت اہم طبقے، یعنی رہبرِ تعلیم (ReT) اساتذہ، کو اپنے دائرۂ کار سے باہر رکھتی ہے۔ یہی پہلو اس پالیسی کی جامعیت، غیر جانب داری اور حقیقی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

کسی بھی تعلیمی نظام میں کسی پالیسی کی کامیابی کا معیار نہ انتظامی سہولت ہوتی ہے، نہ جدید ٹیکنالوجی، اور نہ ہی کسی مخصوص کیڈر کو حاصل ہونے والا فائدہ۔ اصل سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ کیا اس سے طلبہ کو فائدہ پہنچتا ہے اور ان کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری آتی ہے؟ افسوس کہ جب اساتذہ کی تقریباً تین چوتھائی تعداد کو تبادلہ پالیسی سے باہر رکھا جائے اور صرف ایک محدود طبقے کو اس کا حصہ بنایا جائے تو یہ اقدام زمینی حقائق، تعلیمی اداروں کی حقیقی ضروریات اور طلبہ کے وسیع تر مفاد سے چشم پوشی کا مظہر بن جاتا ہے، خصوصاً ابتدائی اور بنیادی تعلیم کے اس مرحلے میں جہاں مضبوط بنیاد ہی پورے تعلیمی سفر کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے۔

رہبرِ تعلیم اساتذہ جموں و کشمیر میں پرائمری اور مڈل سطح کی تعلیم کا بنیادی ستون ہیں۔ ان میں سے بیشتر دور دراز اور دیہی علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں سرکاری اسکول ہی تعلیم کا واحد سہارا ہیں۔ یہی اساتذہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کی ذمہ داری نبھاتے ہیں، اور یہی مرحلہ ان کی آئندہ علمی، سماجی اور جذباتی نشوونما کی بنیاد بنتا ہے۔ ایسے وسیع اور اہم تدریسی طبقے کو تبادلہ اصلاحات سے باہر رکھنا محض ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ تعلیمی نظام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں پورے نظامِ تعلیم پر مرتب ہوتے ہیں۔

محکمۂ اسکولی تعلیم کے لیے رہبرِ تعلیم اساتذہ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وادی کے نہایت کٹھن اور غیر معمولی حالات میں، جب بدامنی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث سرکاری تعلیمی نظام شدید متاثر ہو چکا تھا، انہی اساتذہ نے اپنی بے لوث محنت، استقامت اور احساسِ ذمہ داری سے سرکاری اسکولوں کو دوبارہ فعال بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ متعدد ایسے تعلیمی ادارے جو طویل عرصے تک غیر فعال یا بند پڑے رہے، انہی کی انتھک کاوشوں اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک بار پھر علم و آگہی کے مراکز بنے۔

رہبرِ تعلیم اساتذہ نے نہ صرف انتہائی محدود وسائل اور دشوار حالات میں تدریسی ذمہ داریاں نبھائیں بلکہ سرکاری نظامِ تعلیم پر عوام کے اعتماد کی بحالی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں انہوں نے گھر گھر رابطہ مہم، مسلسل تدریسی محنت اور مقامی برادری کے تعاون سے طلبہ کے داخلوں میں قابلِ ذکر اضافہ ممکن بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری تعلیم کی مضبوط بنیادوں میں رہبرِ تعلیم اساتذہ کی قربانیاں، خدمات اور وابستگی ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہیں، جسے نظر انداز کرنا نہ تاریخ کے ساتھ انصاف ہوگا اور نہ ہی نظامِ تعلیم کے مستقبل کے ساتھ۔

آج انہی اساتذہ کو اس بنیاد پر تبادلہ پالیسی سے محروم رکھا جا رہا ہے کہ ان کی تقرری مخصوص اسکولوں کے لیے عمل میں آئی تھی۔ اگرچہ یہ دلیل کاغذی طور پر انتظامی اعتبار سے مناسب محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس کے تعلیمی نتائج نہایت دور رس ہیں۔ ایک طرف زیادہ طلبہ والے اسکول اساتذہ کی شدید کمی کا شکار ہیں، جبکہ دوسری جانب متعدد اساتذہ دہائیوں تک ایک ہی ادارے میں محدود رہنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ انہیں پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع میسر آتے ہیں اور نہ ہی مختلف تعلیمی ماحول میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

دنیا کا کوئی بھی جدید تعلیمی نظام اپنے تدریسی عملے کے ایک بڑے حصے کو جمود کا شکار رکھ کر ترقی نہیں کر سکتا۔ تبدیلی صرف اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان افراد کے لیے بھی ناگزیر ہے جو ان اداروں کو زندگی بخشتے ہیں۔ ایک استاد جو پندرہ، بیس یا پچیس برس تک مسلسل ایک ہی اسکول میں خدمات انجام دیتا رہے، اس کی پیشہ ورانہ توانائی، تخلیقی صلاحیت اور تدریسی جوش میں بتدریج کمی آنا ایک فطری امر ہے۔ مختلف اسکولوں، نئے طلبہ اور متنوع تعلیمی ماحول میں کام کرنے سے اساتذہ میں نئی سوچ، تازہ جذبہ اور بہتر تدریسی طریقوں کو اپنانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ طلبہ کو پہنچتا ہے۔

یہ معاملہ محض تبادلوں تک محدود نہیں بلکہ سرکاری تعلیم کے مستقبل، اس کے معیار اور نظام کی پائیداری سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ایسی پالیسیاں جو تدریسی برادری کے ایک محدود طبقے کو تو انصاف اور سہولت فراہم کریں مگر بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والی اکثریت کو نظر انداز کر دیں، انہیں ہرگز جامع یا حقیقی اصلاحات نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی تناور درخت کی شاخوں کو تو پانی دیا جائے مگر اس کی جڑوں کو پیاسا چھوڑ دیا جائے۔ وقتی طور پر شاید شاخیں سرسبز دکھائی دیں، لیکن جب جڑیں ہی محروم رہ جائیں تو درخت کا اندر سے کمزور ہونا اور بالآخر اس کی نشوونما متاثر ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ابتدائی اور بنیادی تعلیم کا اصل سہارا بننے والے اساتذہ کو اصلاحاتی عمل سے باہر رکھا جائے تو پورا تعلیمی نظام اپنی مضبوط بنیادوں سے محروم ہو جائے گا۔

ان پالیسی خامیوں کا سب سے زیادہ نقصان ان معصوم طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے جو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہیں انتظامی سختیوں اور ناقص منصوبہ بندی کی قیمت اپنی تعلیم اور اپنے مستقبل کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ اگر جموں و کشمیر واقعی اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانا چاہتا ہے تو اصلاحات کو ہر حال میں جامع، متوازن اور طلبہ پر مرکوز بنانا ہوگا۔! 

ایک مؤثر، منصفانہ اور بامقصد تبادلہ پالیسی اُس وقت تک اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس میں رہبرِ تعلیم اساتذہ کو شامل نہ کیا جائے۔ آج ReT اساتذہ کسی عارضی انتظام کا نام نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کا ایک مستقل، تجربہ کار، باصلاحیت اور ناگزیر حصہ ہیں۔ انہیں اصلاحاتی عمل سے باہر رکھنا نہ صرف انصاف اور مساوات کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ تعلیمی ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اگر کسی پالیسی کو حقیقی، دیرپا اور مثبت نتائج دینا مقصود ہوں تو ناگزیر ہے کہ نظامِ تعلیم سے وابستہ ہر فریق، بالخصوص بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی اکثریت، کے ساتھ مساوات، وقار اور انصاف کا برتاؤ کیا جائے۔ تبھی اصلاحات اپنے حقیقی مقاصد حاصل کر سکیں گی، سرکاری تعلیم کو مضبوط بنیادیں فراہم کریں گی اور جموں و کشمیر کے طلبہ کے لیے ایک روشن، باوقار اور امید افزا مستقبل کی راہ ہموار کریں گی۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!