Ad
مضامین

دل کا بلاوا اور عزمِ سفر :..... سفر نامہ حج

قسطِ اول

​✍️: عبدالرشید سرشار


 دل کا بلاوا اور عزمِ سفر

​غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم

نہایت اس کی حُسینؑ، ابتدا ہے اسمٰعِیلؑ

​ہر مسلمان کے دل کے نہاں خانے میں ایک کسک، ایک تڑپ اور ایک گہرا ارمان ہمیشہ کروٹیں لیتا رہتا ہے، اور وہ ہے دیارِ حبیب ﷺ کی حاضری اور بیت اللہ کا طواف۔ یہ وہ مقناطیسی کشش ہے جو روح کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ لیکن دنیاوی سفر اور اس "سفرِ محمود" میں ایک نمایاں فرق ہے؛ یہاں رسائی محض ارادے سے نہیں، بلکہ تائیدِ غیبی، زادِ راہ کی دستیابی اور سب سے بڑھ کر "بلاوے" پر منحصر ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی استطاعت کو قبولیت کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

​بات جولائی اگست 2025 کی ہے، جب فضائیں مانوس سی دستک سے گونجیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے سال 2026ء کے مقدس سفر کے لیے عازمین سے درخواستیں طلب کرنے کا اشتہار جاری کیا۔ میری نظروں سے جب یہ اشتہار گزرا، تو دل میں چھپا وہ دیرینہ ارمان مچلنے لگا جو ایک عرصے سے سینے میں قید تھا۔ شوق کی فراوانی تو تھی، مگر ساتھ ہی شریعت کا وہ اصول بھی ذہن میں گھوم گیا کہ اس راہ کا مسافر بننے کے لیے "زادِ راہ" اولین شرط ہے۔

​میں ایک سرکاری ملازم ہوں، اور ہمارے معاشرے میں سرکاری ملازمین کے لیے زندگی کا ایک روایتی اور طے شدہ دستورِ حیات بن چکا ہے۔ پہلے مکان کی تعمیر، پھر زمین و جائیداد کی خریداری، اس کے بعد بچوں کی شادیاں اور ان کی زندگی کو پٹری پر لانا!

 اور جب عمر کی شام ہونے لگے، انسان دنیا جہان کے جھمیلوں اور پریشانیوں سے سبکدوش ہو جائے، تب کہیں جا کر ریٹائرمنٹ کے بعد حجِ بیت اللہ کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ اس روایتی پس منظر میں، ملازمت کے دوران ہی سفرِ محمود کا میرا یہ ارادہ بہت سے لوگوں کے لیے عجیب اور روایت سے ہٹ کر تھا، حالانکہ روحِ شریعت یہی ہے کہ اگر اللہ نے انسان کو جوانی اور صحت کے ساتھ صاحبِ استطاعت بنایا ہو، تو اس عظیم فریضے کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

​اس کشمکشِ شوق میں ایک خوبصورت موڑ اس وقت آیا جب میری اہلیہ نے کمالِ محبت اور اصرار کے ساتھ مجھ سے کہا: "مجھے بھی حج کرائیے!"

​ان کا یہ اصرار ایک دو بار تو عام خواہش کی طرح لگا، لیکن رفتہ رفتہ اس اصرار میں وہ تڑپ شامل ہو گئی جسے ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ دوسری طرف، حج فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ سر پر آن پہنچی تھی اور گھڑی کی سوئیاں تیزی سے دوڑ رہی تھیں۔ وقت کم تھا اور فیصلہ بڑا۔ بالاخر، میں نے تمام تر وسوسوں کو پسِ پشت ڈالا، دل میں "بسم اللہ" کہی، پاسپورٹ ہاتھ میں لیے اور کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھ گیا۔

​آن لائن فارم کی تمام ضروری تفصیلات، خانے اور شرائط ایک ایک کرکے بھرتا گیا۔ وہ لمحہ بھی عجیب تھا جب انگلیوں کے ایک کلک کے ساتھ میرا فارم ڈیجیٹل دنیا سے ہوتا ہوا حج کمیٹی کے پاس جمع ہو گیا۔

​اب انتظار کا ایک ہفتہ شروع ہوا، جو امید اور بیم کی کیفیت میں گزرا۔ لیکن ربِ کریم کا کرم دیکھیے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر مجھے فارم کی باضابطہ رسید موصول ہو گئی۔ میں نے اپنی بھری ہوئی تمام تفصیلات، نام، پتے اور دستاویزات کو ایک بار پھر باریک بینی سے جانچا، پرکھا اور جب سب کچھ درست پایا، تو دل کی گہرائیوں سے رب العزت کا شکر ادا کیا کہ اس نے پہلے مرحلے میں اس عاجز کی نیت کو قبولیت بخشی۔

​یہ تو بس پہلا قدم تھا، ابوابِ حجاز کھلنے کی پہلی دستک تھی۔ اگلی منزلیں کیا تھیں، قرعہ اندازی کا انتظار اور دل کی دھڑکنوں کا سفر کیسے آگے بڑھا؟ یہ داستانِ شوق اگلی قسط میں۔

​جاری ہے...



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!