Ad
مضامین

چنار کتاب میلہ: کتابوں کی خوشبو اور بدلتے موسموں کا نوحہ

✍️ :. عبدالرشید سرشار


​سماجی رابطہ گاہوں کی دنیا میں ایک اشتہار بڑی دھوم دھام سے گردش کر رہا تھا،ایک ایسی خبر جو دلِ عشاق کے لیے کسی نویدِ جاں سے کم نہ تھی۔ شہرہ آفاق ڈل جھیل کے حسیں کناروں پر، زبرون کی فلک بوس پہاڑیوں کی آغوش میں، 'نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا' اور 'قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان' کے اشتراک سے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں ایک عظیم الشان کتاب میلے کا انعقاد ہو رہا تھا۔ گزشتہ چند برسوں کی طرح، امسال بھی یہ ادبی کہکشاں سرینگر کے معروف 'ایس کے آئی سی سی' (SKICC)  میں سجائی گئی تھی۔

​انٹرنیٹ کے طوفان اور پانچویں جنریشن (5G) کے سحر نے کاغذی کتب بینی اور اخبار بینی کو طاقِ نسیاں  کر دیا ہے۔ ہماری عمر بھر کی کمائی، یعنی کتابوں کا قیمتی ذخیرہ، اب بند الماریوں میں مقید گرد و غبار چاٹ رہا ہے۔

​ان ناگفتہ بہ حالات میں کتاب لکھنا، اسے زیورِ طبع سے آراستہ کرنا اور پھر قارئین کی دید کے انتظار میں بازار کی زینت بنانا، بالکل اس دوشیزہ کی مانند ہے جو سنِ نکاح کو پہنچ چکی ہو، تمام تر علمی و اخلاقی محاسن کے باوجود کسی شریکِ حیات کی منتظر ہو، اور اس طویل انتظار کی کوفت نے جس کے سیاہ بالوں میں چاندی بکھیر دی ہو۔ اس کی آرزوئیں، امنگیں اور خواب بس ایک لامتناہی انتظار کی سولی پر لٹکے دم توڑ رہے ہوں۔

​ٹھیک یہی حال آج چھپی ہوئی کتابوں کا ہے، اور اگر بات اردو زبان کی ہو، تو یہ المیہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ اردو، جو کبھی برصغیر کی زینت،شہد سے بھی شیرین زبان اور سرکار کی زبان تھی، آج اپنے ہی وطن میں بے وطن اور پشت بہ دیوار کر دی گئی ہے۔

​ان تمام تلخیوں کے باوجود، 'چنار کتاب میلہ' میں شرکت کرنا میرا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے۔ بھلے ہی کوئی کتاب نہ پڑھوں، مگر علم و ادب کے سفیروں، ادیبوں، قلم کاروں، دانشوروں اور پبلشروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس محفل میں حاضری دینا میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔

​جولائی کی اٹھارہ تاریخ تھی، اور شدتِ امس کا یہ عالم تھا کہ الامان و الحفیظ! گرمی کی تپش سے سر سے پسینہ یوں بہہ رہا تھا جیسے لیموں نچوڑا جا رہا ہو۔ ٹریفک کا لامتناہی جام، جگہ جگہ گاڑیوں کی روک ٹوک کے مراحل طے کرتے ہوئے جب ڈل جھیل کے کنارے پہنچے، تو گرم ہوا کے تھپیڑوں نے استقبال کیا۔ خیر، شوق کا سفر تھا، سو تمام صعوبتیں جھیل کر ہم 'چنار بک فیسٹول' کے پنڈال میں داخل ہو ہی گئے۔

​وہاں مختلف پبلشروں نے نہایت قرینے اور سلیقے سے اپنے اسٹال سجا رکھے تھے۔ کتابیں دلہن کی طرح جلوہ افروز تھیں، مگر افسوس! ان کے خریدار اور قدردان آٹے میں نمک کے برابر تھے۔

​میں نے بھی اپنے مقدور اور جیب کی بساط کے مطابق چند کتابیں خریدیں۔ کتابوں کے صفحات کو چھو کر پرانی یادوں کے دریچے وا کیے، ان کی مانوس اور مسحور کن خوشبو کو روح میں اتارا۔ شام کے چار بجے، جب میں نے واپسی کا رخ کیا، تو کتابوں کی وہ ازلی خوشبو میرے ذہن و دل کو معطر کر چکی تھی، اور اسی سرشاری کے عالم میں، میں اپنے گھر لوٹ آیا۔

رابطہ: 7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!