مضامین
سفرِ محمود :..... تیسری قسط

"ٹیکنالوجی کی جلوہ گری اور حج 2026ء کے مشاہدات
فریضۂ حج کی ادائیگی محض ایک سفر نہیں، بلکہ روح کا اپنے خالق سے وصال اور بندگی کا وہ والہانہ اظہار ہے جہاں مالی و بدنی عبادات یکجا ہو جاتی ہیں۔ سال 2026ء کے دوران، بھارتی سرکار نے کچھ ایسے انقلابی اور دور رس اقدامات عمل میں لائے جن کا مقصد معاصر ٹیکنالوجی کے خاطر خواہ استعمال سے اس دو ماہی مقدس سفر کو آسان، پرامن اور حجاجِ کرام کے لیے یکسوئی کا ضامن بنانا تھا تاکہ زائرینِ حرم دنیاوی الجھنوں سے بے نیاز ہو کر ہمہ تن باری تعالیٰ کی بارگاہ میں سرِ بسجود رہ سکیں اور مناسکِ حج کی ادائیگی خشوع و خضوع کے ساتھ ہو۔
نسک (Nusuk): سعودی حکومت کا سمارٹ تحفہ
سعودی حکومت نے اس بار حجاج کی سہولت کے لیے "نسک" نامی ایک جامع اور جدید ترین ڈیجیٹل ایپلیکیشن متعارف کروائی۔ یہ ایپلیکیشن زائرِ حرم کے پاسپورٹ، ویزا اور دیگر اہم ترین کوائف کی تصدیق کے بعد متحرک ہوتی تھی۔ خصوصاً مدینہ منورہ میں سرورِ کائنات ﷺ کے روضۂ اطہر کے قرب، یعنی ریاض الجنہ میں حاضری کے اذن کے لیے یہ ایپلیکیشن ایک بہترین اور کارگر کلید ثابت ہوئی۔
سعودی سرکار نے اسی "نسک" ایپ کے ڈیٹا کی بنیاد پر ہر حاجی کے لیے ایک ہمہ مقصدی سمارٹ شناختی کارڈ تیار کیا، جسے دورانِ سفر ہر وقت پہننا لازم قرار دیا گیا۔ یہ کارڈ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں حاجی کی مکمل تفصیلات منٹوں میں سامنے لے آتا تھا۔ اس ڈیجیٹل حصار کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جتنے خوش نصیب زائرین نے سرکاری یا خانگی طور پر حج فارم بھرے تھے، صرف وہی اس مقدس سرزمین پر مناسکِ حج ادا کر سکیں۔ غیر قانونی اور دھوکہ دہی کے ذریعے نظام کو چکما دینے والے عناصر کو سعودی انتظامیہ نے بروقت دھر لیا، جس کے نتیجے میں رجسٹرڈ حجاج نے انتہائی سکون، امن اور فراخی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے۔
حج سویدھا ایپ: بھارتی سرکار کی سفری معاون
جہاں سعودی حکومت نے "نسک" سے سرفراز کیا، وہیں دوسری طرف حکومتِ ہند نے اپنے زائرین کے لیے "حج سویدھا ایپ" کا گلدستہ پیش کیا۔ یہ ایپلیکیشن کسی رہنما سے کم نہ تھی۔ اس میں حاجی کے جملہ کوائف کے ساتھ ساتھ مدینہ منورہ، عزیزیہ اور مشاعراتِ حرم (منیٰ و عرفات) میں قیام گاہوں کی تفصیل،
بلڈنگ، مکتب اور کمرہ نمبر۔
پاسپورٹ، ویزا، فون نمبر اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات درج تھیں۔
قربانی کے لیے جمع شدہ رقم کا ریکارڈ درج تھا۔
اس ایپ کی سب سے بڑی مایہ ناز خصوصیت اس کی گوگل میپنگ کی سہولت تھی۔ اس فیچر نے ایک زائر کو مکہ عرفات مزدلفہ اور جمرات کے اژدہام میں یہ حوصلہ دیا کہ وہ کسی بھی انجان جگہ سے پلک جھپکتے میں اپنی رہائشی عمارت تک کا راستہ خود ڈھونڈ سکے۔
سمارٹ واچ: ایک خوشنما کھلونا اور جیب پر بوجھ
ٹیکنالوجی کے اس سیلاب میں ساڑھے سات ہزار روپے کی مالیت سے ہر ایک زائر کو ایک الیکٹرک سمارٹ گھڑی بھی سونپی گئی۔ یہ گھڑی بظاہر تو معلومات کا خزینہ تھی؛ ایک بٹن دبانے پر حاجی کا نام، کور نمبر اور فون نمبر سکرین پر نمودار ہو جاتے۔ ابتدا میں حجاج نے اس گھڑی کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ چرچا تو یہ بھی تھا کہ یہ گھڑی راہ سے بھٹکے ہوئے ضعیف حاجی کو اس کے مسکن تک پہنچا دے گی، اور گمشدگی کی صورت میں حج کمیٹی کو فوراً اطلاع بھیج دے گی۔ مزید برآں، اس میں بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور دورانِ خون کی پیمائش کے سائنسی آلات بھی نصب تھے۔
مگر افسوس! ٹیکنالوجی کا یہ شاہکار صحرائے عرب کی تپش اور عملی میدان میں اوندھے منہ گر پڑا۔
اس کی سب سے بڑی خامی اس کی مختصر بیٹری لائف تھی۔ بارہ گھنٹے کی طویل چارجنگ کے بعد یہ گھڑی بمشکل دو تین گھنٹے ہی سانس لے پاتی تھی، اور پھر اس کا "نظامِ تنفس" بحال کرنے کے لیے اسے دوبارہ چارجنگ کی بیساکھی کی ضرورت پڑتی۔ چونکہ حجاجِ کرام کی اکثریت سادہ لوح، ناخواندہ، بزرگوں اور خواتین پر مشتمل تھی، اس لیے یہ گھڑی زائرین کی کلائیوں پر ایک بے جان کھلونا اور ان کی جیبوں پر ایک بھاری مالی بوجھ بن کر رہ گئی۔ عملی طور پر یہ سمارٹ واچ ایک فیصد کے دسویں حصے کے برابر بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی۔
صوتی و بصری تربیت: کامیابی کا اصل راز
اس پورے سفر کو پروقار اور سہل بنانے میں روانگی سے قبل کی تربیت نے سب سے کلیدی کردار ادا کیا۔ ریاستی حج کمیٹی نے سوشل میڈیاپلیٹ فارم خصوصاً واٹس ایپ کا سہارا لے کر رجسٹرڈ حجاج کے گروپس تشکیل دیے۔ حج انسپیکٹرز نے اپنی سطح پر صوتی (Audio) اور بصری (Video) پروگراموں کے ذریعے حجاج کی فکری بالیدگی کا سامان کیا۔
انہی رہنماؤں میں ایک معتبر اور متحرک نام محترم فیصل مقبول صاحب کا ہے، جنہوں نے انتھک محنت کرتے ہوئے لگ بھگ ۵۰ تربیتی سیشنز منعقد کیے۔ انہوں نے حج کے جملہ جزیات اور باریکیوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ خصوصاً ایامِ حج کے دوران نقشوں (Maps) کی مدد سے منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور جمرات کے راستوں کی ایسی واشگاف رہنمائی فرمائی کہ حجاج کے دلوں سے انجان راستوں کا خوف دور ہو گیا۔
اس مسلسل اور مکرر تربیت کا یہ خوش آئند نتیجہ نکلا کہ:
حجاج کی اکثریت نے منیٰ کے پیچیدہ راستوں، پلوں اور پول نمبروں کی مدد سے اپنے اپنے مکاتب میں خود پہنچنا سیکھ لیا۔
مزدلفہ سے جمرات تک کی شاہراہوں اور وہاں موجود تینوں پلوں کے استعمال کی تکنیک حجاج کے ذہنوں میں نقش ہو گئی۔
سفر کے دوران پیش آنے والی ممکنہ مشکلات اور مصائب سے قبل از وقت نبرد آزما ہونے کے لیے انہیں ذہنی اور عملی طور پر مضبوط کیا گیا۔
جب یہ فکری اور تکنیکی حکمتِ عملی یکجا ہوئی، تب جا کر یہ مبارک اور مقدس سفر حسنِ اسلوب کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
اگلی قسط میں، انشاء اللہ الرحمن، حج پر روانگی کے رقت آمیز اور ایمان افروز احوال کے حوالے سے بات ہوگی۔
عبدالرشید سرشار
حالسیڈار، ویریناگ
رابطہ: 7006146071