Ad
مضامین

کشمیر کے مقامی مزدوروں کی زبوں حالی

✍️ :. اعجاز جعفر / سرینگر 

کشمیر میں آج کل ہر طرف کھیتوں میں دھان کی پنیری لگانے (دھان کی فصل) کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ دھان کی یہ فصل کسی بھی خطے یا ریاست کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ براہِ راست لوگوں کے لیے معاشی خود کفالت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس زرعی سرگرمی کی وجہ سے سرمایہ مارکیٹ میں گردش کرتا ہے، مزدوروں کے پاس پہنچتا ہے اور وہ اپنے گھر کا چولہا جلانے اور اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے قابل ہوتے ہیں۔

​لیکن افسوس! اگر آج آپ کشمیر کے کھیتوں اور باغات کا رخ کریں، تو وہاں ہر جگہ مقامی لوگوں کے بجائے غیر ریاستی (باہر سے آئے ہوئے) مزدور ہی نظر آتے ہیں، جبکہ ہمارا اپنا کشمیری مزدور آج اپنے ہی وطن میں در در کی ٹھوکریں کھانے اور کام کے لیے ترسنے پر مجبور ہے۔

​اس سنگین صورتحال کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں۔ ہمارے ذہنوں میں ایک منظم طریقے سے یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ "کشمیری مزدور کام چور ہے"، "یہ صرف تمباکو پیتا ہے"، "نخرے زیادہ کرتا ہے" اور "پیسے بھی زیادہ لیتا ہے"۔ اس منفی پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے اپنے ہی بھائیوں کو چھوڑ کر بیرونی مزدوروں کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

​اگر ہم عقل اور انصاف کی بنیاد پر حساب لگائیں، تو سچائی اس پروپیگنڈے کے بالکل برعکس نظر آئے گی کشمیری مزدور جب صبح کام کے لیے گھر سے نکلتا ہے، تو وہ اپنا دوپہر کا کھانا (ٹفن) اور دیگر ضروریات اپنے ساتھ لاتا ہے۔ گھر کے مالک پر اس کے کھانے پینے کا کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔اس کے برعکس، جب ہم کسی غیر ریاستی مزدور کو کام پر لگاتے ہیں، تو اسے دن کے کھانے، شام کے کھانے کے ساتھ ساتھ دن میں دو تین مرتبہ چائے بھی دینی پڑتی ہے۔

​اب اگر آپ دو وقت کے کھانے، چائے اور دیگر خاطر مدارات کا کل خرچہ جوڑیں اور پھر اس میں اس بیرونی مزدور کی دیہاڑی شامل کریں، تو یہ کل رقم کشمیری مزدور کی مزدوری سے کہیں زیادہ بنتی ہے! اس کے باوجود، صرف ایک اندھی تقلید اور پروپیگنڈے کی وجہ سے ہم اپنے مقامی مزدور کا استحصال کر رہے ہیں۔

​ہمارے معاشرے کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ یہاں مقامی کاریگروں (ترکھان، راج مستری، لوہار وغیرہ) کو وہ عزت اور اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ ہمیں اپنے گھروں، دکانوں اور کھیتوں کا کام ترجیحی بنیادوں پر اپنے مقامی کاریگروں سے کروانا چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے کا پیسہ ہمارے اپنے ہی لوگوں کے کام آئے۔

​تاہم، اس معاملے کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ہمارے مقامی کاریگروں اور مزدوروں کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے کام میں مزید نکھار، صفائی اور مہارت (Skill) پیدا کرنی چاہیے۔ انہیں جدید طریقے سیکھنے چاہئیں تاکہ کسی بھی بڑے یا تکنیکی کام کے لیے ہمیں باہر سے کاریگر منگوانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

​آج کشمیر کا ایک بڑا المیہ بے روزگاری ہے۔ ہمارے لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان سرکاری نوکریوں کی آس میں اور بڑے بڑے خوابوں کے چکر میں اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کو اس سراب سے باہر نکلنا ہوگا اور کوئی نہ کوئی ہنر (Skill) سیکھنا ہوگا تاکہ وہ باعزت طریقے سے روزی کما کر اپنے بوڑھے والدین اور گھر کی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔

​امام احمد بن حنبلؒ کا ایک بڑا ہی عبرت ناک اور حکیمانہ قول ہے:

​"جو ہنر نہیں سیکھتا، وہ اپنا دین بیچتا ہے۔"

​ہنر مندی صرف ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی ڈھال بھی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان کوئی نہ کوئی کام کاج سیکھیں گے اور اپنے کام میں مشغول رہیں گے، تو وہ آوارہ گردی سے بچیں گے اور معاشرے میں پھیلی ہوئی بے شمار اخلاقی برائیوں، جیسے کہ شراب نوشی، چرس، سگریٹ اور دیگر مہلک نشوں کی لت سے خود بخود محفوظ ہو جائیں گے، کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔

​کشمیر کی خوشحالی کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ ہم اپنے وسائل، اپنی زمین اور اپنے لوگوں کی قدر کریں۔ آئیے عزم کریں کہ ہم اپنے مقامی مزدوروں اور کاریگروں کا ہاتھ تھامیں گے، انہیں روزگار میں ترجیح دیں گے اور ان کے خلاف ہونے والے ہر پروپیگنڈے کو مسترد کریں گے۔ اسی طرح ہمارے نوجوانوں کو بھی شرم و جھجک کا لبادہ اتار کر ہنر مندی کی راہ اپنانی ہوگی، کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے اور ہنر مند انسان ہی معاشرے کا اصل اثاثہ ہوتا ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!