مضامین
صحبت اور ماحول — شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار

صحبت اور ماحول — شخصیت اور مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار (حصہ اول)
قدرت نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام عطا کرتے ہوئے اسے بے شمار صلاحیتوں، فکری قوتوں اور اخلاقی امکانات سے نوازا ہے۔ ہر انسان اس دنیا میں ایک منفرد استعداد لے کر آتا ہے۔ کوئی علم کی دولت سے معاشرے کو روشن کرتا ہے، کوئی کردار کی عظمت سے دلوں کو فتح کرتا ہے اور کوئی اپنی محنت، ہمت اور عزم سے تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر باصلاحیت انسان اپنی صلاحیتوں کی معراج تک نہیں پہنچ پاتا۔ بے شمار ذہین اور قابل افراد گمنامی کی دھول میں کھو جاتے ہیں، جبکہ بعض معمولی صلاحیت رکھنے والے لوگ غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس فرق کی بنیادی وجہ کیا ہے؟اس سوال کے بے شمار جوابات دیے جا سکتے ہیں، اگر ایک بنیادی سبب تلاش کیا جائے تو وہ صحبت اور ماحول ہے۔ انسان کی شخصیت صرف اس کی فطری صلاحیتوں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ اس ماحول سے بھی تشکیل پاتی ہے جس میں وہ پرورش پاتا ہے، جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، جن کی باتیں سنتا ہے، جن کے خیالات سے متاثر ہوتا ہے اور جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسان کا ماحول اس کی شخصیت کا خاموش معمار ہوتا ہے۔اس حقیقت کو ایک معروف سبق آموز حکایت نہایت مؤثر انداز میں واضح کرتی ہےکہتے ہیں کہ ایک شاہین کا ننھا بچہ حادثاتی طور پر اپنے گھونسلے سے گر کر کوّوں کے گھونسلے میں جا پڑا۔ کوّوں نے اسے اپنا ہی بچہ سمجھ کر پال لیا۔ وہ انہی کے ساتھ پلا بڑھا، انہی کے ساتھ خوراک تلاش کرتا، انہی کی طرح آوازیں نکالتا اور انہی کی طرح مختصر سی اڑان بھر کر مطمئن ہو جاتا۔ اس نے کبھی اپنے پروں کی طاقت آزمانے کی کوشش نہیں کی، کیونکہ اس نے اپنے گرد کسی کو بلند پرواز کرتے دیکھا ہی نہیں تھا۔ایک دن اس کی نگاہ نیلے آسمان کی وسعتوں میں نہایت شان و شوکت سے پرواز کرتے ہوئے ایک عظیم الشان پرندے پر پڑی۔ اس کی پرواز میں اعتماد تھا، اس کے پروں میں طاقت تھی اور اس کی نگاہیں افق کی آخری حدوں کا تعاقب کر رہی تھیں۔شاہین کے اس بچے نے حیرت سے ایک کوّے سے پوچھا:"یہ کون ہے؟" کوّے نے جواب دیا:"یہ شاہین ہے، پرندوں کا بادشاہ۔ اس کی پرواز ہماری پہنچ سے کہیں بلند ہے۔ ہم اس جیسے نہیں بن سکتے۔"یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ اسے کبھی معلوم ہی نہ ہو سکا کہ جس عظمت کو وہ دور سے دیکھ رہا ہے، وہ عظمت خود اس کی فطرت میں بھی موجود تھی۔اس کی ناکامی کی وجہ صلاحیتوں کی کمی نہیں تھی، بلکہ ایسی صحبت اور ایسا ماحول تھا جس نے اس کے اندر موجود صلاحیتوں کو کبھی پروان ہی نہ چڑھنے دیا۔یہ حکایت اگرچہ علامتی ہے، لیکن انسانی زندگی کی ایک ناقابلِ تردید حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔
دنیا میں بہت سے لوگ اپنی صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ غلط صحبت، منفی ماحول اور محدود سوچ کی وجہ سے ناکام رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے اندر چھپی ہوئی طاقت کو کبھی دریافت ہی نہیں کر پاتے، کیونکہ ان کے گرد موجود لوگ انہیں ہمیشہ اپنی ہی سطح پر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معروف قول اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے:"اگر آپ شاہینوں کے ساتھ اُڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو کوّوں کے ساتھ رہنا چھوڑنا ہوگا۔"اس قول کا مقصد کسی انسان کی توہین کرنا نہیں بلکہ ایک فطری اصول بیان کرنا ہے۔ انسان اپنی صحبت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اگر وہ ایسے لوگوں کے درمیان رہے جو ہر وقت مایوسی، سستی، بے مقصدی اور بہانوں کی بات کرتے ہوں تو رفتہ رفتہ اس کی سوچ بھی محدود ہو جاتی ہے۔ اس کے خواب چھوٹے ہو جاتے ہیں، اس کے حوصلے پست پڑ جاتے ہیں اور وہ اپنی اصل صلاحیتوں پر یقین کھو بیٹھتا ہے۔اس کے برعکس، اگر انسان ایسے لوگوں کی رفاقت اختیار کرے جن کے دل میں بڑے خواب، ذہن میں مثبت خیالات، کردار میں دیانت، عمل میں محنت اور نگاہوں میں بلند منزلیں ہوں تو ان کی صحبت اس کے اندر بھی نئی روح پھونک دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کے اساتذہ، والدین، دوستوں اور رہنماؤں کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔صحبت صرف انسان کے اخلاق کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کی سوچ، زبان، عادات، ترجیحات، خواب اور مستقبل تک کو بدل دیتی ہے۔ ایک طالب علم اگر ایسے دوستوں میں بیٹھتا ہے جو مطالعہ کرتے ہیں، سوال کرتے ہیں اور وقت کی قدر کرتے ہیں تو وہ خود بھی علم کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ لیکن اگر وہ ایسے لوگوں میں بیٹھ جائے جن کی دلچسپی صرف وقت ضائع کرنے، دوسروں پر تنقید کرنے یا بے مقصد سرگرمیوں میں ہو تو آہستہ آہستہ اس کی اپنی شخصیت بھی اسی رنگ میں ڈھلنے لگتی ہے۔درحقیقت اچھی صحبت اور صحیح ماحول کا نمایاں اثر انسان کی تربیت پر پڑتا ہے اور تعلیم کے ساتھ اگر صحیح تربیت نہ ہو تو وہ اجتماعیت کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوتی۔ ایسی تعلیم بظاہر انسان کو علم تو عطا کر دیتی ہے، لیکن اگر وہ اس کے کردار، اخلاق اور شعور کی آبیاری نہ کرے تو وہ سماج، قوم اور ملک کے لیے خیر و فلاح کا ذریعہ بننے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
تربیت ہی انسان کو اپنے علم کا درست استعمال، اخلاقی حدود کی پاسداری، معاملات میں اعتدال اور حالات کے مطابق صحیح فیصلے کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ یہ تربیت صرف کتابوں کے صفحات سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ عمدہ صحبت، صالح ماحول اور ان لوگوں کی رفاقت سے پروان چڑھتی ہے جن کے درمیان انسان پرورش پاتا، سیکھتا اور زندگی گزارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شخصیت کی تعمیر میں تعلیم جتنی ضروری ہے، اتنی ہی ضروری اچھی صحبت اور پاکیزہ ماحول بھی ہیں۔اکثر کہا جاتا ہے کہ انسان اپنی تقدیر اپنے فیصلوں سے بناتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان فیصلوں کی سمت کا تعین بڑی حد تک اس کی صحبت اور ماحول کرتے ہیں۔ اچھی صحبت اور سازگار ماحول ایک معمولی صلاحیت کو بھی غیر معمولی کامیابیوں سے ہم کنار کر دیتے ہیں، جبکہ بری صحبت اور ناسازگار ماحول غیر معمولی صلاحیتوں کو بھی ماند کر کے انسان کو اپنی حقیقی منزل سے دور کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں کامیابی، کردار کی پختگی اور روشن مستقبل کے لیے اچھی صحبت کا انتخاب اور مثبت ماحول کی تشکیل ناگزیر ہے۔یہ اصول صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ خاندانوں، قوموں اور پورے معاشرے پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ جس معاشرے کا ماحول ایسا ہو جہاں علم کو عزت، کردار کو وقار، محنت کو قدر اور دیانت داری کو کامیابی کا حقیقی معیار سمجھا جائے، وہاں ایسی نسلیں پروان چڑھتی ہیں جو علم و عمل، اخلاق و کردار اور ترقی و خوشحالی کی علامت بن جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب کسی معاشرے میں جھوٹ، دھوکہ، سفارش، بے مقصد تفریحات اور اخلاقی انحطاط عام ہو جائے تو وہاں نہ صرف اقدار زوال پذیر ہونے لگتی ہیں بلکہ صلاحیتیں بھی گھٹن کا شکار ہو کر دم توڑ دیتی ہیں۔ نتیجتاً ایسے معاشرے اپنی تخلیقی قوت، اجتماعی شعور اور ترقی کی رفتار کھو بیٹھتے ہیں، اور بالآخر زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔