مضامین
حضرت امام حسینؓ کی قربانی اور ہماری ذمہ داریاں

آج ہم ایک ایسی عظیم ہستی کا تذکرہ کرنے جا رہی ہوں جن کی قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتی رہے گی۔ وہ عظیم شخصیت حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جو نبی کریم ﷺ کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے لختِ جگر تھے۔حضرت امام حسینؓ کی زندگی ایمان، تقویٰ، صبر، استقامت اور حق پر ڈٹے رہنے کا عملی نمونہ تھی۔ جب باطل طاقتوں نے دینِ اسلام کی اصل روح کو مسخ کرنے کی کوشش کی تو امام حسینؓ نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے ساتھیوں کی قربانی دے دی، لیکن حق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ میدانِ کربلا میں آپؓ نے ثابت کر دیا کہ ایک مسلمان حق کے لیے ہر قربانی دے سکتا ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔محترم حاضرین!ہم ہر سال محرم الحرام میں حضرت امام حسینؓ کی قربانی کو یاد کرتے ہیں، ان کے فضائل بیان کرتے ہیں اور ان کے لیے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ یقیناً یہ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ سے بے پناہ محبت فرمائی۔ لیکن ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہم صرف امام حسینؓ کا ذکر کرتے ہیں یا ان کے پیغام پر بھی عمل کرتے ہیں؟آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے اسلام کے لیے کیا کیا ہے؟ امام حسینؓ نے دین کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، مگر کیا ہم دین سیکھنے کے لیے وقت نکالتے ہیں؟ کیا ہم قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے ہیں؟ کیا ہم اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ دنیاوی معاملات میں تو بہت محنت کرتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں غفلت کا شکار ہیں۔ نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، قرآنِ کریم کی تلاوت ترک ہو جاتی ہے، جھوٹ، غیبت، حسد اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، مگر ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم دین سے کتنی دوری اختیار کر رہے ہیں۔محترم حاضرین!اگر ہم واقعی حضرت امام حسینؓ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سیرت کو اپنانا ہوگا۔ ان کا پیغام صرف محرم کے چند دنوں تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ حق بات کہنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ مسلمان مشکلات اور آزمائشوں میں بھی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ دین کی خاطر قربانی دینا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔آج اسلام کو ہماری ضرورت ہے۔ دین کی خدمت صرف میدانِ جنگ میں جان قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے کردار کو اسلامی بنانا بھی دین کی خدمت ہے۔ نماز کی پابندی کرنا دین کی خدمت ہے۔ قرآن سیکھنا اور سکھانا دین کی خدمت ہے۔ اپنے والدین کی خدمت کرنا دین کی خدمت ہے۔ سچ بولنا، امانت داری اختیار کرنا، لوگوں کے حقوق ادا کرنا اور اچھے اخلاق اپنانا بھی دین کی خدمت ہے۔ہمیں اپنے نوجوانوں کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو قرآن اور سنت کی تعلیم دینی چاہیے۔ ہمیں اپنے گھروں کو اسلامی ماحول کا گہوارہ بنانا چاہیے۔ اگر ہر مسلمان اپنے گھر، اپنے محلے اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی فکر کرے تو امتِ مسلمہ دوبارہ عزت و سربلندی حاصل کر سکتی ہے۔محترم حاضرین!حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مسلمان کبھی ناانصافی، ظلم اور گمراہی کے سامنے خاموش نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے اور باطل سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام ہمیں اتحاد، محبت، اخوت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے اور امتِ مسلمہ کی وحدت کے لیے کام کرنا چاہیے۔آج ہم سب کو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوال کرنا چاہیے کہ "آج میں نے اسلام کے لیے کیا کیا ہے؟" کیا میں نے آج قرآنِ کریم کی تلاوت کی؟ کیا میں نے کسی کو دین کی بات پہنچائی؟ کیا میں نے کسی کی مدد کی؟ کیا میں نے اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی کوشش کی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔آخر میں، میں اپنے اور آپ سب کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ کی سچی محبت نصیب فرمائے، ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں دینِ اسلام پر استقامت عطا فرمائے، قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی توفیق دے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"مُحرِّرہ شاہ قادریہ عالمہ فاضلہ