مضامین
بے روزگاری سے جرائم کا سفر: معاشی مجبوری یا معاشرتی ناانصافی؟

کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کے نوجوانوں پر ہوتا ہے۔ یہی نوجوان اس کے مستقبل کے معمار، اس کی معیشت کے ستون اور اس کی تہذیب کے امین ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہی نوجوان اپنی صلاحیتوں کے باوجود بے روزگاری، معاشی بے یقینی اور سماجی بے حسی کا شکار ہو جائیں تو ان کے خوابوں کی شکست صرف ذاتی المیہ نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم کا مطالعہ کرتے وقت صرف عدالتوں کے فیصلے کافی نہیں ہوتے، بلکہ ان راستوں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے جو کسی نوجوان کو جرم کی دہلیز تک لے جاتے ہیں۔
عصر حاضر میں ہمارے معاشرے کی یہ تلخ حقیقت بن چکی ہے کہ جب ایک نوجوان خاص طور پر جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اپنی بنیادی سہولیات (روٹی، کپڑا، مکان وغیرہ) پورا کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو یہ انسان اندر ہی اندر ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ اور معاشی بدحالی سے ناامیدی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے اور فارغ البال ہو کر شیطانی وسوسے کا شکار بن جاتا ہے۔ اور اس کہاوت کا مصداق بن کر رہ جاتا ہے کہ "خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔"
بے روزگاری انسان سے صرف آمدنی نہیں چھینتی بلکہ اس کی خود اعتمادی، عزتِ نفس، سماجی شناخت اور مستقبل پر یقین کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی خاموشی کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس خاموشی کے پیچھے بے شمار سوال، ناکام کوششیں اور ٹوٹتی ہوئی امیدیں دفن ہوتی ہیں۔
چونکہ تعلیم سے فارغ ہو کر جب یہ معاشرے میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہے تو اپنے ہی گھر کے در و دیوار اس کو نوچنا شروع کرتے ہیں اور یہ شخص اپنی بقا کی جنگ کے خاطر سب سے پہلے اپنی بنیادی سہولیات کے لیے اپنے جسم کو حرکت میں لاکر کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح حلال کمائی کر کے اپنے اور اپنے اہل و عیال کو کسی حد تک مطمئن کر سکوں۔
وہ محنت سے نہیں گھبراتا، چھوٹے کام کو اپنی توہین نہیں سمجھتا، بلکہ اس کی پہلی خواہش صرف اتنی ہوتی ہے کہ اس کے والدین کو اس کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے گھر کا چولہا حلال رزق سے جلتا رہے، اس کی بہنوں کی عزت محفوظ رہے، اس کے بچوں کا مستقبل تاریک نہ ہو اور اس کی زندگی خودداری کے ساتھ آگے بڑھے۔
لیکن زندگی کی آزمائش صرف روزگار کی تلاش پر ختم نہیں ہوتی۔
ظاہر ہے ہمارے معاشرے کے رسم و رواج اور معاشرتی دباؤ جو کہ صرف دکھاوے پر مبنی ہے جو رسمیں عام آدمی کے لئے ذہنی، سماجی اور معاشی بوجھ بن چکے ہیں جس کا ہمارے دین اسلام کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے کسی نہ کسی حد تک اس نوجوان کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس کی یہ حلال اور قليل روزی اس کے سماج کے سامنے ایک مرتبہ پھر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
ہم نے انسان کی عزت کو اس کے کردار کے بجائے اس کی جیب سے جوڑ دیا ہے۔ شادیوں میں فضول خرچی، نمود و نمائش، بے جا رسومات، قرض لے کر تقریبات منعقد کرنا اور دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر زندگی گزارنے کی خواہش، ایک ایسے نوجوان کو اندر سے توڑ دیتی ہے جو پہلے ہی معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہوتا ہے۔
اسلام نے زندگی کو آسان بنایا، مگر ہم نے اسے رسموں کا قیدی بنا دیا۔ دین نے سادگی کو عزت دی، مگر ہم نے اسراف کو وقار سمجھ لیا۔ یہی تضاد ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اس سوچ پر مجبور کرتا ہے کہ شاید دیانت داری کے راستے پر چلتے ہوئے وہ کبھی ان معاشرتی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکے گا۔
بس یہیں سے ایک نئی کشمکش شروع ہو جاتی ہے اور اس کی یہ بقا کی جنگ پیچھے رہ کر معاشرتی دباؤ میں آکر اور رسموں کی زد میں چل کر غیر ضروری سماجی ضروریات کو پورا کرنے کی دوڑ میں لگ جاتی ہے اور بالآخر یہیں سے اس کے جرائم کا سفر شروع ہو جاتا ہے اور اعلیٰ تعلیم اور صلاحیت کے باوجود وسائل کا فقدان یا سرکاری نوکری کی غیر حصولی اس نوجوان کے اندر ریاست اور معاشرے کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو آگے چل کر بہت سارے جرائم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر یہی شخص کبھی فراڈ، سائبر کرائمز، منشیات فروخت وغیرہ جیسے القاب سے پکارا جاتا ہے۔
جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے والا ہر شخص ایک جیسی کہانی نہیں رکھتا، لیکن بہت سی کہانیوں کا آغاز ایک جیسے احساس سے ضرور ہوتا ہے—احساسِ محرومی۔ وہ محرومی جو پہلے دل میں سوال پیدا کرتی ہے، پھر سوچ میں بغاوت، اور اگر وقت پر اس کا مداوا نہ ہو تو بعض اوقات عمل میں انحراف کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ایک نوجوان کے سامنے دو راستے کھڑے ہوتے ہیں؛ ایک صبر، جدوجہد اور مسلسل انتظار کا، اور دوسرا فوری فائدے، وقتی آسائش اور غیر قانونی ذرائع کا۔ افسوس یہ ہے کہ جب معاشرہ دیانت دار محنت کش کی نسبت ناجائز دولت کمانے والے کو زیادہ عزت دینے لگے تو کمزور دلوں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔
یہاں ایک حقیقت کو واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ بے روزگاری یا غربت کسی جرم کا جواز نہیں بن سکتی۔ قانون شکنی ہر حال میں قابلِ مذمت ہے، لیکن ایک مہذب معاشرہ صرف مجرم کو سزا دے کر مطمئن نہیں ہوتا بلکہ اس ماحول کا بھی جائزہ لیتا ہے جس نے جرم کو جنم دیا۔ اگر ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جو کسی درسگاہ، تحقیق گاہ یا صنعت کی زینت بن سکتا تھا، آخرکار سائبر فراڈ، منشیات، مالی بدعنوانی یا دیگر جرائم میں ملوث پایا جائے تو یہ صرف اس فرد کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی نظام کے لیے بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام بھی اس بحران سے پوری طرح لاتعلق نہیں۔ ہم نوجوانوں کو برسوں کتابوں کے درمیان رکھتے ہیں، مگر عملی زندگی کی ضروری مہارتوں سے بہت کم آشنا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں ڈگریاں ہر سال تقسیم ہوتی ہیں، مگر روزگار کے مواقع ان کے ہم قدم نہیں چلتے۔ تعلیم اگر ہنر سے نہ جڑے تو ڈگری اکثر دیوار پر لٹکا ہوا ایک خوبصورت فریم بن کر رہ جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک نوجوان کو تعلیم اور ڈگریوں تک ہی محدود نا رکھا جائے بلکہ اس کے اندر ضرورت کے مطابق ہنر سکھایا جائے۔
آج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنے نوجوانوں کو صرف ملازمت کا امیدوار نہیں بلکہ مواقع پیدا کرنے والا انسان بنایا ہے۔ فنی تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، زرعی اختراع، کاروباری شعور، ڈیجیٹل مہارت اور خود روزگار کی تربیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس نوجوان کے ہاتھ میں ہنر ہو، وہ مشکل حالات میں بھی اپنے لیے راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
معاشرتی ذمہ داری کو قبول کر کے اہلِ ثروت افراد نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اپنا ایک اہم کردار ادا کریں۔ اور اپنے ارد گرد اپنے ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے جو خاموشی سے اپنی معاشی تنگی برداشت کر رہے ہیں۔
ہمارے اردگرد ایسے بے شمار نوجوان موجود ہیں جو سفید پوشی کی وجہ سے اپنی مشکلات زبان پر نہیں لاتے۔ وہ مانگتے نہیں، مگر ان کی خاموش آنکھیں بہت کچھ کہتی ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی مدد صرف خیرات سے نہیں بلکہ اعتماد، تربیت، رہنمائی اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے کی جا سکتی ہے۔ کسی کے ہاتھ میں ایک ہنر دے دینا، اسے ہمیشہ کے لیے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچا سکتا ہے۔
معاشرے سے غیر ضروری اور فرسودہ رسم و رواج کے خاتمے کیلئے بالخصوص اہل علم، علماء کرام اور باشعور طبقہ کو چاہیے کہ وہ اپنا مؤثر، مثبت اور بھرپور کردار ادا کریں۔ تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک سادہ، متوازن معاشرہ میسر آسکے۔
یہ صرف علماء، اساتذہ یا دانشوروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر اس فرد کی ذمہ داری ہے جو اپنے معاشرے کو بہتر دیکھنا چاہتا ہے۔ جب تک ہم عزت کا معیار دولت کے بجائے کردار، دیانت، محنت اور سادگی کو نہیں بنائیں گے، تب تک بے شمار نوجوان احساسِ محرومی کا شکار ہوتے رہیں گے۔
ریاست کی حقیقی طاقت اس کے ہتھیاروں، عمارتوں یا منصوبوں میں نہیں بلکہ اس کے نوجوانوں کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر نوجوان خود کو باوقار، محفوظ اور بااختیار محسوس کریں تو وہ قوم کو بلندیوں تک لے جاتے ہیں، لیکن اگر وہ خود کو بے مقصد، بے وسیلہ اور نظر انداز شدہ محسوس کریں تو یہی توانائی منفی سمت بھی اختیار کر سکتی ہے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بے روزگاری کو صرف معاشی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک سماجی، اخلاقی اور قومی چیلنج کے طور پر دیکھیں۔ نوجوانوں کو ڈگری کے ساتھ ہنر، خوابوں کے ساتھ مواقع، اور محنت کے ساتھ انصاف فراہم کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے معاشرے کو ایسی مصنوعی روایات سے آزاد کرنا ہوگا جو انسان کی حیثیت کو اس کی جیب سے ناپتی ہیں۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہر مجرم کی فائل عدالت میں کھلتی ہے، مگر اس کی کہانی معاشرے کی بے حسی، معاشی محرومی اور ٹوٹتے ہوئے خوابوں کے درمیان لکھی جاتی ہے۔ اگر ہم ان خوابوں کو بکھرنے سے بچا لیں، تو شاید بہت سے جرائم وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دیں، اور یہی ایک باشعور، ذمہ دار اور مہذب معاشرے کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
احمد اقبال ( اِکز ) ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔
توصیف ندوی ایک معلم ہے۔
رابطہ: 7006857283 ' 7006776361
ای میل: ikkzikbal@gmail.com