Ad
مضامین

سفرِ محمود ...... (قسط نمبر 5)

✍️ :. ​عبد الرشید سرشار


​معلم کی بسیں مدینہ منورہ کی کشادہ سڑکوں پر خراماں خراماں آگے بڑھ رہی تھیں۔ ادھر زائرین کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا اور وہ بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ رات کا تاریک دامن چار سو روشن بلبوں کی ضیا پاشیوں سے جگمگا رہا تھا،یوں کہیے کہ روشنیوں کا ایک سیلاب تھا جو امڈ آیا تھا، مگر قدرت کی وہ فطری روشنی ناپید تھی جس کا دل مشتاق تھا۔ زائرین کی آرزو تھی کہ کاش! وہ دن کے اجالے میں پہلی بار مسجدِ نبوی اور روضۂ اقدس کی زیارت کا شرف حاصل کرتے اور اپنی پیاسی نگاہوں کو طہارت کا مژدہ سناتے، مگر شاید یہ ہمارے گناہوں کا غبار تھا جو حائل ہو رہا تھا۔

​سری نگر ایئرپورٹ سے دوپہر سوا ایک بجے پرواز ہوئی تھی۔ اندازہ تو یہی تھا کہ زیادہ سے زیادہ شام چھ بجے تک ہم مدینہ منورہ پہنچ جاتے۔ چونکہ سعودی عرب کا وقت بھارت سے ڈھائی گھنٹے پیچھے ہے، اس لیے دل میں بڑے حسین ارمان سجا رکھے تھے کہ جب دن کی روشنی میں اس پاک شہر پر ہماری گنہگار آنکھیں پڑیں گی، تو رحمان کے کرم سے گناہوں کا غبار اشکوں کی صورت میں بہہ جائے گا، اور حرمِ پاک کی طہارت کے ساتھ ساتھ عہدِ بلوغت سے لے کر آج تک کا دفترِ سیاہ بھی دھل جائے گا۔

​بقولِ شاعر:

​کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

​مدینہ شریف کی صاف شفاف اور کشادہ شاہراہوں سے گزرتے ہوئے رات کے ٹھیک دس بجے ایک بلند بالا عمارت کے سامنے ہماری گاڑی رک گئی۔ "طیبہ ہلز"

جی ہاں، یہی نام تھا اس ہوٹل کا!

 گاڑی کا رکنا تھا کہ زائرین شوق اور عجلت میں تمام تر نصائح بھول گئے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی سبقت میں گاڑیوں سے کودنے لگے۔

​پھر دمِ خود رفتگی نے گریبان تھاما... سوچا، یہ میرے آقاؐ کا شہر ہے! یہاں تو بلند آواز میں بات کرنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس متبرک سرزمین پر لاکھوں صحابہ کرامؓ کے نقشِ پا ثبت ہیں، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خود یہاں جلوہ افروز ہیں، امہات المؤمنینؓ کی آرام گاہیں اسی مٹی کا پیوند ہیں، بلالِ حبشیؓ اسی فضا کے نغمہ خوانِ اذان تھے، اور سلمان فارسیؓ نے غزوۂ احزاب کے موقع پر خندق کھودنے کا تاریخی مشورہ اسی دھرتی پر دیا تھا۔ مگر کیا کیجیے! جب ایک انسان جنم لیتا ہے تو ایک شیطان بھی اس کے ساتھ جنم لیتا ہے، پھر دونوں کا عمر بھر کا ساتھ رہتا ہے۔ اب اس شیطان کو مغلوب کرنا انسان کا امتحان ہے، مگر افسوس کہ اس کشمکش میں اکثر انسان خود ہی ہار جاتا ہے۔

​ہم ہوٹل کی وسیع و عریض لابی میں داخل ہوئے، تو سفری تھکاوٹ کے کچھ آثار نمایاں ہونے لگے۔ حالانکہ سفر ہوائی جہاز کا تھا، کسی اونٹ یا گھوڑے کی سواری نہ تھی؛ سفر کا محض دوسرا ہی دن تھا، مہینوں کی آبلہ پائی بھی نہ تھی؛ صبح ترو تازہ نہا دھو کر گاڑی اور پھر جہاز میں سوار ہوئے تھے اور محض آٹھ گھنٹے کی ہوائی مسافت کے بعد عالیشان بسوں کے ذریعے آدھے گھنٹے میں ہوٹل پہنچ گئے تھے۔ مگر سچ ہے، انسان واقعی بڑا ناشکرا اور جلد باز واقع ہوا ہے!

​ویسے بھی زائرین کی اکثریت عمر رسیدہ بزرگوں اور خواتین پر مشتمل تھی۔ میری عمر اگرچہ پچاس سال ہے، لیکن اس لمحے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں بزرگوں کی اس صف میں سب سے 'جوان' ہوں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اب میں بھی جوان نہیں رہا۔

​ہوٹل انتظامیہ نے رات کے کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا، مگر کچھ ہمارا مزاج اور کچھ ہماری لاابالی طبعت کہ وہ کھانا ہماری نگاہوں میں سمانہ سکا۔ میں نے بھی بمشکل دو چار لقمے حلق سے اتارے اور ہاتھ کھینچ لیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ حجاجِ کرام ایک طویل قطار میں کھڑے ہیں اور ہر کوئی آگے نکلنے کی دھن میں ہے۔ ہوٹل میں غیر معمولی ہجوم تھا اور شور و غل کا یہ عالم کہ 'کان پڑی آواز سنائي نہیں دیتی تھی'۔ کسی نے خبر دی کہ کمروں کی الاٹمنٹ ہو رہی ہے۔

​دیارِ نبیؐ میں محض آٹھ دن کا قیام تھا اور انسان کی ناشکری دیکھیے کہ جو آٹھ دن پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں (خاتم النبیینؐ کا دربار ہے، دس دن کا تو اعتکاف ہوتا ہے اور ہفتہ تو یوں ہی ہوا ہو جاتا ہے)، اس کے لیے ہر شخص پہلے کمرہ حاصل کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی حجاج سے کہا: "آپ اطمینان سے بیٹھیے، میں کمرے کی سلپ لے کر آتا ہوں"۔

​میں کاؤنٹر پر گیا، اپنا نام، پاسپورٹ اور ویزا پیش کیا اور عرض کی کہ ہم پانچ حجاج ہیں، براہِ کرم ہمارے کمرے کی چابی عنایت کیجیے۔ کاؤنٹر پر موجود اہلکار نے بڑے ہی پیشہ ورانہ انداز میں کہا: "حاجی صاحب! پہلے نسک (Nusuk) کارڈ دکھائیے، تبھی چابی مل سکے گی"۔

​مجبوراً مجھے ایک دوسری قطار میں جا کر کھڑا ہونا پڑا۔ پیٹھ پر آٹھ کلو کا وزنی بیگ لادے میں اپنی باری کا منتظر تھا اور صرف میں ہی نہیں، اس قطار میں اسّی سال کے ضعیف، ستر سال کی مائیں، معذور اور بیمار حجاج، سبھی ہاتھ باندھے 'نسک کارڈ' کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہوٹل والے بھی مصنوعی ہجوم کا بہانہ بنا کر اپنے اپنے قوانین کی پاسداری کروا رہے تھے۔

​خدا خدا کر کے مجھے کارڈ مل ہی گیا۔ گلے میں کارڈوں کی ایک بہتات ہو چکی تھی بھارتی شناختی کارڈ، ہیلتھ کارڈ، اور اب یہ نسک کارڈ... خدا جانے آگے اور کتنے کارڈ گلے کی زینت بننے والے تھے!

​کارڈ ملتے ہی دسویں منزل پر ہمیں ایک شاندار کمرہ الاٹ ہو گیا۔ ہوٹل "مرکزیہ" کی حدود میں واقع تھا اور کمرے میں چار صاف ستھرے بیڈ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ اب رات کے ۱۲ بج چکے تھے۔ ہم نے اس وقت جلدی میں سوئے حرم چلنا مناسب نہ سمجھا؛ فکر یہ تھی کہ پہلے تھوڑا آرام کر لیا جائے، نہا دھو کر، مسواک کر کے اور عطر لگا کر دیارِ حبیبؐ میں حاضری دی جائے۔ ویسے بھی رحمة للعالمین ﷺ کو طہارت و پاکیزگی بے حد پسند تھی، گرد و غبار میں اٹے ہوئے جانا شاید قرینِ ادب نہ ہوتا، اور پھر تھکن کے باعث حاضری کے دوران کہیں اونگھ نہ آ جائے یا خاکی انسان سو نہ جائے! لہٰذا تھوڑی دیر سستانا ہی بہتر جانا۔

​اگلا دن جمعۃ المبارک کا بابرکت دن تھا۔ ہم نے عزم کیا کہ جمعہ کی اولین ساعتوں میں مسجدِ نبوی میں حاضری دیں گے، شاید ہمارے گناہوں کی گٹھری دیارِ حبیبؐ میں اس مبارک دن دھل جائے۔ بس یہی ارمان دل میں سجائے سجائے آنکھ لگ گئی اور ہم میٹھی نیند کی آغوش میں چلے گئے...

​باقی آئندہ... بشرطِ زندگانی!

​عبد الرشید سرشار

حال: ہالسیڈار، ویریناگ

رابطہ: 7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!