ادب
غزل.... از: فرقان احمدے

✍️ :. فرقان احمد
اکِ عمر گُزری بیکاری میں
اور دوجی پھر بیداری میں
بچ گئی جو نیلام ہوی وہ
دل کی کاروباری میں
----------------------------
سودا ہوا تو درد ملا
آگیے ہیں اس لاچاری میں
سمیٹا جو تھا بیچ دیا خود
دل کی کاروباری میں
--------------------------------
غیروں سے کیا شکوہ کریں اب
ہارے اپنی یاری میں
خود کو ہی ہم بیچ آیے ہیں
دل کی کاروباری میں
----------------------------------
کتنا گنوا دیا فرقان تم نے
کیسی ضدی سی خودداری میں
قرض پہ دی ہے دل کی وراثت
عشق کی اس خُماری میں
*****