Ad
سفر نامہ

​دیارِ حبیب ﷺ میں پہلا قدم عبدالرشید سرشار.... پانچویں قسط

✍️ :. عبد الرشید سرشار 


​23 اپریل 2026ء کی شام، آٹھ بجے کا وقت تھا۔ اکاسہ ایئر لائن (Akasa Air) کا طیارہ جب سعودی عرب کے معروف اور مصروف ترین ہوائی اڈے، امیر محمد بن عبدالعزیز ایئرپورٹ کے رن وے پر اترا، تو روح تک ایک  عجیب خوشبو سے مہک اٹھی۔ زائرین کے دل فرطِ مسرت سے بالیدہ ہو رہے تھے اور آنکھیں شکر کے آنسوؤں سے نم، کہ بالآخر ہم نے سرزمینِ حجاز کے دوسرے مقدس ترین شہر، اور سرورِ کونین ﷺ کے مسکن، مدینہ منورہ کی معطر فضاؤں میں قدم رکھ دیا تھا۔

​تقریباً ایک گھنٹے کے مختصر وقفے میں پاسپورٹ اور ویزا کی تفتیش، بائیو میٹرک اور دیگر ضروری دفتری مراحل طے پائے۔ پاسپورٹ پر جیسے ہی آمد کی مہر ثبت ہوئی، دل کی دھڑکنیں درود و سلام کے زمزموں میں ڈھل گئیں۔ ہوائی اڈے کے باہر معلم کی گاڑیاں منتظر تھیں اور ہم درود و سلام کا تحفہ لبوں پر سجائے روح پرور منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔

      ​مدینہ منورہ، جسے تاریخی کتب میں "یثرب" کے نام سے یاد کیا گیا ہے، اپنے سرسبز و شاداب نخلستانوں، زرخیز مٹی اور تجارتی گزرگاہ ہونے کی بنا پر ازمنہ قدیم ہی سے تاریخ کا ایک درخشندہ باب رہا ہے۔ روایت ہے کہ طوفانِ نوح  کے بعد قومِ عمالقہ کے ایک شخص یثرب بن قانیہ نے اس زرخیز وادی کو پہلی بار آباد کیا تھا، جس کی نسبت سے یہ دیار "یثرب" کہلایا۔

​پہلی یا دوسری صدی عیسوی میں، جب رومن حکمرانوں کے مظالم حد سے بڑھے، تو شام اور ملحقہ علاقوں سے یہودیوں کے تین مشہور قبیلوں "بنو قینقاع"، "بنو نضیر" اور "بنو قریظہ"نے یثرب کی سمت رختِ سفر باندھا۔ ان قبیلوں نے یہاں کی زرخیزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زراعت اور باغبانی کو فروغ دیا، پانی کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمایا اور مضبوط و مستحکم قلعے تعمیر کر لیے۔

​بعد ازاں، یمن میں سدِ مارب کی تباہی کے نتیجے میں "بنو ازد" کا ایک قبیلہ ہجرت کر کے یہاں آن بسا، جس کی دو شاخیں آگے چل کر اوس اور خزرج کے نام سے موسوم ہوئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ "اوس و خزرج" نے سیاسی و اجتماعی قوت حاصل کی اور یہودیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا۔ یہودیوں نے اپنی روایتی مکر و خباثت کا سہارا لیتے ہوئے ان دونوں عرب قبیلوں کے درمیان عداوت اور بغض کے بیج بو دیے۔ جنگِ بعاث اسلام کی آمد سے قبل ان دونوں قبیلوں کے درمیان لڑی جانے والی آخری خونریز جنگ تھی، جس نے ان کی اجتماعی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ان مسلسل ہلاکت خیز معرکوں کی وجہ سے اوس و خزرج کے ہنسے بستے کھیت، کھجوروں کے شاداب باغات، پانی کے کنویں ، حتیٰ کہ ان کے ابھرتے ہوئے جوان بھی یہودیوں کے پاس رہن (گروی) ہو چکے تھے۔

​جغرافیائی ہیئت اور صنعتی و زرعی اہمیت

​مدینہ منورہ 589 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ فطرت نے اسے ایک خاص جغرافیائی حصار میں رکھا ہے۔اس کےشمال میں جبلِ احد اور خیبر کا تاریخی علاقہ ہے. جنوب میں جبلِ عیر اور وادیِ عقیق،مشرق میں حرّہ واقم (سیاہ پتھریلا علاقہ) اور​مغرب میں حرّہ الوبرہ واقع ہے ۔

​اسلام کی آمد سے قبل بھی مدینہ، جزیرہ نما عرب اور شام کے درمیان ایک انتہائی اہم تجارتی پڑاؤ تھا۔ خصوصاً قدیم بخور شاہراہ (Incense Route) پر واقع ہونے کی وجہ سے اس کی اقتصادی اور سیاسی اہمیت مسلمہ تھی۔

​جب مکہ کے افق پر اسلام کا سورج طلوع ہو رہا تھا، اس وقت مدینہ کی صنعت و حرفت پر یہودیوں کا مکمل تسلط تھا۔ وہ زیورات، جنگی اسلحہ، برتن سازی اور زرعی اوزار بنانے کی منڈیوں پر قابض تھے۔ زرعی لحاظ سے یہ وادی کھجور اور انگور کی پیداوار کے لیے بے مثال تھی۔ آج بھی مدینہ شریف عجوہ، عنبرہ اور صفاوی جیسی اعلیٰ اور بابرکت کھجور کی اقسام کے لیے عالمِ اسلام میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔

​مدینہ شریف کا تعلق محسنِ انسانیت ﷺ کی ذاتِ گرامی سے نزولِ وحی سے بھی پہلے کا ہے۔ آپ ﷺ کے پردادا  ہاشم نے مدینہ میں بنو نجار قبیلے کی ایک معزز خاتون  سلمیٰ سے عقد فرمایا تھا۔

​آپ ﷺ کے والد ماجد عبداللہ تجارت کی غرض سے شام کے سفر پر گئے اور واپسی پر مدینہ کے مقام پر عین شباب میں داعیِ اجل کو لبیک کہا اور اسی دھرتی کی آغوش میں آسودہ خاک ہوئے۔ بعد ازاں، جب آپ ﷺ کی عمر مبارک چھ سال تھی، تو سیدہ آمنہ اپنے یتیم بچے کو ان کے والد کی مرقد کی زیارت کے لیے مدینہ لائیں۔ ایک ماہ کے قیام کے بعد واپسی کے سفر میں ابواء کے مقام پر سیدہ آمنہ کا انتقال ہوا، اور اس غم ناک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ صرف حضرت امِ ایمن رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔

   *​انوارِ اسلام کا طوع اور ہجرتِ نبویﷺ*

​یثرب کی تقدیر کا ستارہ اس وقت چمکا جب نبوت کے 12 ویں سال (621ء) حج کے موقع پر یثرب کے 12 نفوس نے مقامِ عقبہ پر رسولِ اکرم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ یہ تاریخی واقعہ بیعتِ عقبہ اولیٰ کہلایا۔ ان کی درخواست پر حضور اکرم ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو سفیرِ اسلام بنا کر مدینہ روانہ کیا، جن کی حکمت اور حسن اخلاق سے اسلام کا آفاقی پیغام گھر گھر پہنچ گیا۔

​اگلے ہی سال، 13 نبوی (622ء) میں 75 پاک نفوس نے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر سرورِ دو عالم ﷺ کو اپنے شہر آنے کی پرخلوص دعوت دی۔

​بالآخر، اللہ تعالیٰ کے حکم سے 27 صفر المظفر کو خاتم النبیین ﷺ اپنے رفیقِ سفر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر 12 ربیع الأول کو مدینہ کے نواحی علاقے قبا پہنچے۔

​یثرب سے مدینۃ النبی ﷺ

​نبیِ کریم ﷺ کے قدمِ مبارک کی برکت سے یثرب کی اداس اور آلودہ فضا روشنی میں نہا گئی۔ یثرب کی گمنامی اور حسرتیں ختم ہوئیں اور یہ دیار "مدینۃ النبی" (نبی کا شہر) بنا، جو وقت کے ساتھ اختصار کے ساتھ مدینہ کے نام سے دنیا کے  مسلمانوں کا مرجع بن گیا۔

​آپ ﷺ نے اسی شہر کو اسلامی ریاست کا پہلا دارالخلافہ (Capital) قرار دیا۔ عہدِ رسالت کے بعد خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم نے بھی اسی مقدس شہر کو اپنا پائہ تخت بنائے رکھا۔

​آج مدینہ منورہ سعودی عرب کا چوتھا بڑا شہر ہے، لیکن اس کی حقیقی عظمت اس کی اینٹ اور پتھر میں نہیں، بلکہ اس کے ذرے ذرے میں سموئی ہوئی خلافتِ راشدہ اور اسلامی تاریخ کے زریں دور کی یادگاروں میں ہے۔ یہی وہ باوفا زمین ہے جہاں مسلمانوں نے اپنی بقا کی جنگیں لڑیں اور یہودی فتنے کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اور اسی مقدس ترین شہر کے قلب میں مرجعِ خلائق، تمام جہانوں کی دوسری اور عظمت میں بے مثال عبادت گاہ مسجدِ نبوی مرجعِ انوار و تجلیات ہے۔

(باقی آئندہ بشرط زندگانی)

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!