Ad
سفر نامہ

​سفرِ محمود قسط نمبر 6​

✍️ :. عبدالرشید سرشار 


   ٢٤ اپریل کی نورانی اور معطر رات کا دوسرا پہر ڈھل رہا تھا کہ کسی نے ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار کیا۔ ہم نے غسل کیا، پاکیزہ اور اجلا سفید لباس زیبِ تن کیا، عطر کی خوشبو بسائی، مسواک سے سنتِ مطہرہ ادا کی اور زائرینِ حرم کے ہمراہ "طیبہ ہلز" سے باہر آ گئے۔ فضا میں تہجد کی سحر انگیز اور انقلاب آفرین اذان کے سرشاری گھولتے نغمے گونج رہے تھے۔ میں ایک بار پھر ماضی کی زریں یادوں کے غم کدے میں کھو گیا۔

​چودہ سو سال قبل کے درخشاں واقعات ایک ایک کر کے میری فکر کی اسکرین پر کسی خوبصورت فلم کی مانند متحرک ہونے لگے… قبا کی بستی سے نکل کر انقلابِ عالم کے داعی، محسنِ انسانیت اور رحمتِ للعالمین ﷺ اپنے یارِ غار جنابِ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک خاص مقام پر جلوہ فرما ہوتے ہیں، جہاں آپ کی  مبارک سواری  نے قیام کیا اور ان قدسی صفات ہستیوں کے پاکیزہ قدم اس زمین پر ثبت ہوئے۔ وہی مقدس سر زمین آج بلا کسی حجاب کے، مجھ خاکسار کی گنہگار آنکھوں کے سامنے جلوہ افروز تھی۔

​باب نمبر 316 سے جیسے ہی ہمارے قدم اندر داخل ہوئے، ستاروں سے سجی شبِ تا بدار میں گنبدِ خضرا کی پہلی زیارت نے محشر کا سا سماں برپا کر دیا۔ مؤذنِ کی "حیّ علی الصلاۃ" اور "حیّ علی الفلاح" کی ندائیں نماز اور حقیقی کامرانی کی طرف بلا رہی تھیں۔ پاؤں جیسے مرمرین فرش سے پیوست ہو کر رہ گئے۔ چپلیں ہم نے بیگوں میں سنبھال رکھی تھیں۔ کاش! کوئی ایسا عرشی پاپوش مل جاتا جسے ہم اپنے خطاکار پاؤں میں پہن لیتے، کیونکہ ہم صحنِ مسجدِ نبوی میں گامزن تھے یہ وہی مقدس مٹی ہے جس کے گوشے گوشے پر آقائے نامدار ﷺ کے نقشِ پا ثبت ہیں۔ ڈر تھا کہ کہیں ہمارے گنہگار قدموں کی آلودگی اس پاک زمین کی حرمت پر گراں نہ گزرے!

 ہم چپل پہننے کے روادار تو نہ تھے، مگر جس پاکیزہ دیار میں محسنِ انسانیت ﷺ نے ننگے پاؤں رفتار فرمائی ہو، وہاں جوتا پہن کر چلنا بھی روح کو گوارا نہ تھا۔ عجیب تذبذب اور عجیب کیف کا عالم تھا!

​چاروں جانب بیش قیمت سنگِ مرمر اور فاخرہ قالین بچھے تھے۔ 

یکایک صوفی بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب یاد آ گئے، جنہوں نے خاکِ مدینہ کو سرمہٴ جاویداں سمجھ کر اپنی آنکھوں سے لگایا تھا۔ میں بھی ایسی ہی ایک جسارتِ شوق کا خواہاں تھا، مگر شومیٴ قسمت کہ مدینۃ النبی ﷺ کا چپہ چپہ مرمر سے ڈھکا ہوا ہے۔ تبھی مجھے سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ یاد آئے۔ جب امیہ بن خلف نے قبولِ اسلام کے جرم میں مکہ کی تپتی دھوپ اور دہکتی ریت پر ان کے عزم کو آزمانا چاہا تھا؛ وہی حبشہ کے سیاہ فام بلال، جنہیں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خرید کر آزاد کیا تو وہ خالقِ کائنات کے محبوب ترین بندے کے ایسے غلام بنے کہ "مؤذنِ رسول" کے جلیل القدر منصب پر فائز ہوئے۔

​ساتھی زائرین احقر سے جگہوں کی نسبت استفسار کر رہے تھے اور یہ احقر اپنے ہی وجدان کی الگ دنیا میں مگن تھا۔ قرآنِ پاک میں وارد ہے کہ شبِ قدر میں رب العزت کا نزولِ رحمت سماءِ دنیا پر ہوتا ہے اور جبرائیلِ امین فرشتوں کے جھرمٹ میں بندوں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔ لیکن مدینہ منورہ کی یہ  سر زمین وہی مقدس اور مطہر سرزمین ہے جہاں لگاتار دس برسوں تک جبرائیلِ امین بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے رہے اور نوعِ انسانی کو دین سکھانے کی خاطر انسانی روپ دھار کر سفید براق لباس میں سرورِ کائنات ﷺ کے روبرو زانوئے تلمذ تہہ کرتے رہے۔

​سنتِ نبوی کی اتباع میں ہم نے بارگاہِ نبویﷺ میں حاضری دی۔

 مسجدِ نبوی عالمِ اسلام کی دوسری سب سے بڑی اور مقدس ترین مسجد ہے۔ عصرِ حاضر میں حضور ﷺ کے دورِ مبارک کے پورے شہرِ مدینہ کو مسجد کے احاطے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ عہدِ رسالت کی اصل مسجدِ شریف کے حدود کو امتیازی نشانات کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ عالی شان عمارت، دیدہ زیب آرائش، چمچماتی روشنیاں، ایئر کنڈیشننگ کا معجزہ نما انتظام اور شب و روز لاکھوں نمازیوں کی میزبانی دیکھ کر عقل حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ شدید دھوپ اور بارش سے بچاؤ کے لیے خودکار طبعی سائبان (چھتریاں) نصب ہیں۔ مرد و خواتین کے لیے علیحدہ اور باوقار انتظامات ہیں، جبکہ ہزاروں کارکنان صفائی اور خدمات پر مامور ہیں۔ زائرین کے لیے آبِ زمزم کی فراہمی کا ایسا نظم ہے کہ انسان عش عش کر اٹھے۔

​یہ محض ایک مسجد نہیں، بلکہ صدرِ اول میں اسلام کا پارلیمان اور دارالخلافہ تھی۔ یہی وہ مرکز تھا جہاں تزکیہ و تربیت ہوتی تھی، مملکت کی سلامتی اور دفاعی فیصلے طے پاتے تھے، غیر ملکی وفود کا استقبال ہوتا تھا، مہمان نوازی کی جاتی تھی اور مجاہدین کے دَستے تشکیل دیے جاتے تھے۔ صدرِ اول کی وہ مسجد اگرچہ مٹی اور گارے سے بنی تھی، مگر اس کی تعمیر حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ساتھ'سابقون الاولون' (صحابہ کرام) نے اپنے مقدّس ہاتھوں سے کی تھی۔ رفتہ رفتہ مسلم امہ سے وہ بالادستی اور عظمت رخصت ہو گئی، مگر اس عالی شان منظر کو دیکھ کر وہ نورانی عہد بار بار ذہن کے دریچوں پر دستک دیتا ہے۔

​ہم نے اپنے نصیب و مقدر کے مطابق تہجد اور فجر کی نماز اس دربار میں ادا کی جہاں ایک نماز کا ثواب دس ہزار سے پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ اس حرمِ پاک میں غیر مسلموں کا داخلہ شرعاً و قانوناً ممنوع ہے۔ تاہم، 2023ء میں جب احقر پہلی بار یہاں حاضر ہوا تھا، تو سویڈن کے ایک نصرانی سے سامنا ہوا۔ گمان ہوا کہ شاید نو مسلم ہے، مگر حرم کی تصاویر بناتے ہوئے اس نے خود بتایا کہ وہ عیسائی ہے۔ شاید متعلقہ انتظامیہ نے خاص حالات میں ایسی کوئی رعایت دے رکھی ہو۔

​صبح چھ بجے تک ہم ان نورانی دیواروں کے سائے میں اس معطر فضا اور مشاہداتِ حرم کا لطف اٹھاتے رہے اور پھر سرشار و پرکیف دل کے ساتھ اپنے ہوٹل واپس لوٹ آئے۔

(اگلی قسط میں روضہ اقدس پر حاضری اور ریاض الجنہ میں قیام پر روداد بیان ہوگی بشرط زندگانی)۔

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!