Ad
مضامین

قتلِ حسینؑ اصل میں مرگ یزید ہے

✍️ :. محمد رفیق راتھر 


تاریخِ عالم میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض ماضی کا حصہ نہیں بنتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے واقعات انسانیت کے اجتماعی شعور پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے باوجود ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ واقعۂ کربلا بھی تاریخ کا ایسا ہی عظیم اور ناقابلِ فراموش واقعہ ہے جس نے حق و باطل، صداقت و ظلم اور عدل و جبر کے درمیان واضح فرق کو ہمیشہ کے لیے نمایاں کر دیا۔ اسی تناظر میں یہ مشہور قول "قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے" ایک گہری حقیقت اور وسیع پیغام کا حامل ہے۔ یہ محض ایک شعر یا جملہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفۂ حیات ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ حق کی خاطر دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی اور ظلم کی طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے۔

یزید ایک شخص کا نام ضرور تھا، لیکن درحقیقت وہ ایک سوچ، ایک نظام اور ایک ایسے طرزِ حکمرانی کی علامت تھا جو ظلم، جبر، طاقت کے غلط استعمال اور ذاتی مفادات پر قائم تھا۔ جب یزید اقتدار میں آیا تو اس نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے امام حسینؑ سے بیعت کا مطالبہ کیا۔ یہ صرف ایک سیاسی معاملہ نہیں تھا بلکہ دین اور اصولوں کا مسئلہ تھا۔ امام حسینؑ بخوبی جانتے تھے کہ اگر انہوں نے یزید کی بیعت قبول کر لی تو دینِ اسلام کی اصل روح مجروح ہو جائے گی اور اسلامی تعلیمات کو ذاتی مفادات کے تابع کر دیا جائے گا۔

امام حسینؑ نے دنیاوی اقتدار یا حکومت کے حصول کے لیے قیام نہیں کیا تھا بلکہ ان کا مقصد اصلاحِ امت، حق کی سربلندی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ انہوں نے خود فرمایا کہ وہ فساد یا اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ اپنے نانا حضرت محمد ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکلے ہیں۔ ان کا یہ اقدام ایک عظیم نظریاتی اور اخلاقی جدوجہد تھی۔

کربلا کا میدان صرف تلواروں کی جنگ کا میدان نہیں تھا بلکہ یہ کردار، اصول، صبر اور قربانی کی عظیم آزمائش تھی۔ ایک طرف دنیاوی طاقت، وسیع لشکر اور حکومتی اختیار موجود تھا جبکہ دوسری طرف ایک مختصر قافلہ تھا جو سچائی اور حق کے علمبرداروں پر مشتمل تھا۔ امام حسینؑ کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم تھی، لیکن ان کے حوصلے، ایمان اور مقصد کی عظمت بے مثال تھی۔ انہوں نے بھوک، پیاس اور سخت مشکلات کے باوجود حق کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

واقعۂ کربلا کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انسانیت کو قربانی کا حقیقی مفہوم سکھایا۔ امام حسینؑ نے اپنے اہلِ خانہ اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ ایسی قربانی پیش کی جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اصولوں کی حفاظت کے لیے جان کی قربانی دی جا سکتی ہے مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔

بظاہر دیکھا جائے تو میدانِ کربلا میں یزید کی فوج کامیاب نظر آتی تھی کیونکہ اس نے امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا تھا۔ لیکن تاریخ کا فیصلہ اس ظاہری کامیابی سے بالکل مختلف ثابت ہوا۔ وقتی طاقت اور ظاہری فتح ہمیشہ دائمی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ یزید نے جسموں کو شہید کیا مگر وہ افکار، نظریات اور پیغام کو ختم نہ کر سکا۔ امام حسینؑ کی قربانی نے لوگوں کے دلوں میں حق کی محبت اور ظلم کے خلاف نفرت پیدا کر دی۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے صفحات میں آج امام حسینؑ عزت، عظمت، قربانی اور حق کی علامت کے طور پر زندہ ہیں جبکہ یزید ظلم، جبر اور ناانصافی کی مثال بن چکا ہے۔ دنیا کے مختلف مذاہب اور قوموں کے لوگ بھی امام حسینؑ کی شخصیت اور ان کی قربانی سے متاثر نظر آتے ہیں کیونکہ ان کی جدوجہد صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم سبق رکھتی ہے۔

شاعر نے اسی حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

"قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد"

اس شعر کا مفہوم یہ ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی آواز وقتی طور پر خاموش کی جا سکتی ہے مگر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حق کے لیے دی جانے والی قربانی نئی نسلوں کے دلوں میں بیداری پیدا کرتی ہے اور انہیں حق و انصاف کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔

آج کے دور میں بھی کربلا کا پیغام پوری انسانیت کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ معاشرے میں جہاں بدعنوانی، ناانصافی، ظلم، استحصال اور حق تلفی کے مختلف مظاہر موجود ہیں، وہاں حسینی کردار اپنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ امام حسینؑ کا کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، حق اور سچائی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام حسینؑ کی شہادت بظاہر ایک سانحہ تھی لیکن حقیقت میں یہ ظلم کے نظام کی شکست اور حق کی فتح تھی۔ یزید وقتی طور پر فاتح نظر آیا لیکن تاریخ نے اسے شکست خوردہ قرار دیا۔ آج بھی امام ؑ کے نام سے انسانیت، قربانی اور حق کا تصور ذہن میں آتا ہے جبکہ یزید ظلم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ "قتلِ حسینؑ اصل میں مرگِ یزید ہے"۔

مضمون نگار  ٹریڈیونین لیڈر استاد اور یک معروف قلمکار ہیں ۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!