مضامین
سفرِ محمود....... (قسط نمبر 4)

اپریل کی ۲۲ تاریخ کا سورج اپنی تابانی سمیٹ رہا تھا اور ہم ظہر کی نمازِ باجماعت کے بعد گھر سے رختِ سفر باندھنے کی تیاری میں تھے۔ صبح ہی سے در و دیوار پر خلوص و محبت کا میلہ سا لگا تھا۔ پاس پڑوس کے لوگ، عزیز و اقارب، ہمساۓ، جوان و بزرگ اور خواتین ،سبھی حسرت و محبت کی تصویر بنے آ رہے تھے۔ ان سب کی متبرک اور بوجھل محبتوں سے رخصت لے کر جب میں نے قدم آگے بڑھایا تو ایسا محسوس ہوا جیسے پاؤں سڑک کے سخت سینے پر نہیں، بلکہ رفعتِ آسمان پر پڑ رہے ہوں۔
کچھ بادہ خوارانِ محبت مجھے دائیں بائیں سے سنبھالے ہوئے تھے اور کچھ فرطِ عشق میں میرے گلے میں مصنوعی پھولوں کے ہار ڈال رہے تھے۔ میری نگاہیں ندامت اور خوشی کے امتزاج سے جھکی ہوئی تھیں، مگر ہر ملنے والے کی زبان پر دعاؤں کی دلپذیر جھنکار تھی۔ جو بھی ملاقی ہوتا، وہ رب ذوالجلال کے مبارک دربار اور دنیا کی پہلی عبادت گاہ (بیت اللہ) میں اس احقر و بے مقدار کی زبان سے اپنے لیے دعاؤں کا متمنی تھا۔
سہ پہر تین بجے کا وقت تھا۔ ہم سفید و مطہر لباس میں ملبوس، بچوں کو ساتھ لیے گاڑی میں سوار ہوئے۔ مسنون دعائیں لبوں پر جاری ہوئیں اور گاڑی سرینگر کی سمت روانہ ہو گئی۔ ہمارا سفرِ شوق، سیّدِ کونین، خاتم النبیین اور رحمت للعالمین ﷺ کے دیارِ پاک مدینہ منورہ کی طرف تھا (جہاں پہنچنے کی تاریخ ۲۳ اپریل ۲۰٢٦ء طے تھی)۔ چونکہ ہمیں صبح چھ بجے ہی "حج ہاؤس" میں حاضری دینی تھی، اس لیے ہم نے پیشگی سفر کو ہی عافیت جانا، تاکہ رات سکون و اطمینان سے گزرے اور نظم و ضبط میں کوئی خلل نہ پڑے۔
ابھی ہماری گاڑی "بیچ بہاڑا سنگم اننت ناگ "کے قریب پہنچی ہی تھی کہ سامنے سے ایک گاڑی نے آ کر ہمارا راستہ روکا ۔ ہم نے گاڑی تھام لی۔ لبوں پر مسلسل الٰہی دعائیں رواں تھیں۔ آگے والی گاڑی کے ڈرائیور نے کمالِ عجز و نیاز اور ملتجیانہ انداز میں اپنی معذرت پیش کی اور صرف ایک التجا کی: "میرے حق میں بھی دعائے خیر کیجیے گا!"
محبت کا یہ بے ساختہ اظہار دیکھ کر دل بھر آیا۔
مغرب کا دھندلاہٹ بھرا سایا پھیلا تو ہم "سری نگر حج ہاؤس" پہنچ چکے تھے۔ ہم نے الوداع کہنے والے احباب کو باہر ہی سے رخصت کیا اور حج ہاؤس کی مسجد میں نمازِ مغرب ادا کی۔ ریاست کے دور دراز علاقوں سے آۓ عازمینِ حرم شام تک پہنچ چکے تھے، لہٰذا انتظامیہ نے رات کے طعام کا اہتمام کر رکھا تھا۔ وہاں تقریباً پچاس زائرینِ حرم کا ایک پاکیزہ کارواں مجتمع تھا۔ کچھ کا تعلق کپوارہ سے تھا، کچھ سوپور اور بانڈی پورہ سے آۓ تھے، اور ہم پانچ عازمین کا تعلق اننت ناگ کی مردم خیز زمین سے تھا۔ سب نے ایک دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھایا، حال احوال پوچھا اور باہم شیر و شکر ہو گئے۔ آخر اگلے دو مہینوں تک دیارِ حرم کی مقدس فضاؤں میں ہمیں ایک ساتھ ہی سانس لینا تھی، ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا اور حج کا عظیم الشان فریضہ انجام دینا تھا۔
۲۳ اپریل کی صبحِ نو کا سورج طلوع ہوا تو زائرین کی اکثریت تہجد کے وقت ہی اپنے رب کے حضور بیدار ہو چکی تھی۔ نماز پڑھ کر ناشتہ کیا اور پھر قدم بوجھل انداز میں چہل قدمی کرنے لگے۔ فضا میں ایک عجیب سی تراوٹ اور خنکی تھی، جس سے سردی کا احساس ہوتا تھا۔ دل کے نہاں خانے میں ایک طرف دیارِ حبیب ﷺ میں حاضری کی نشاط انگیز خوشی تھی، تو دوسری طرف اپنون سے بچھڑنے کا ایک خاموش اور بوجھل غم… ایک عجیب کیفیتِ جاں تھی!
اسی عالم میں ریاستی انتظامیہ نے ہمیں ایک وسیع و عریض ہال میں جمع کیا۔ ہمارے سامان کی باریک بینی سے تفتیش ہوئی۔ گلے میں نئے شناختی کارڈ آویزاں کیے گئے، کلائیوں پر اسمارٹ واچز سجائی گئیں، سامان کے ٹیگز ہمارے سپرد کیے گئے اور کچھ زریں ہدایات دی گئیں:
" کہ آپ ایک بے حد مقدس سفر پر گامزن ہیں۔ آپ کی نشست و برخاست ایسی ہو کہ کسی کو اذیت نہ پہنچے۔ شور و غل سے کنارہ کش رہیں، کیونکہ آپ امن کی اس نگری جا رہے ہیں جہاں ایک گھاس کا ایک تنکا تک کاٹنا بھی زائرِ حرم پر حرام کر دیا گیا ہے۔"
ہمارے ہاتھوں میں بورڈنگ پاس اور واپسی کی ٹکٹیں تھما دی گئیں۔ ہم نے پاسپورٹ، ویزا اور ہیلتھ کارڈز سلیقے سے اپنے ہینڈ بیگز میں محفوظ کیے اور آرام دہ، صاف ستھری بسوں میں سوار ہو کر 'شیخ العالم انٹرنیشنل ایئرپورٹ، سرینگر' کی طرف روانہ ہو گئے۔
صبح کے دس بجنے والے تھے۔ ہم نے اپنے پیاروں کو آخری الوداعی کال کی اور سفر آگے بڑھا۔ آدھے گھنٹے میں ہماری بس ایئرپورٹ کی سرحدوں میں داخل ہو چکی تھی۔ انتہائی احترام کے ساتھ ہمیں بس سے اتارا گیا، ایک منظم قطار میں چلنے کی ہدایت دی گئی اور کاغذی کارروائی شروع ہوئی۔
ایک سیکیورٹی آفیسر کے پاس جب میرا پاسپورٹ اور ویزا کی فوٹو کاپی پہنچی، تو وہ بڑی دیر تک، نہایت باریک بینی سے اسے اور میرے چہرے کو دیکھتا رہا۔ مجھے بے ساختہ آئی سی ایس بیورو کریٹ قدرۃ اللہ شہاب کا وہ واقعہ یاد آ گیا جب وہ حج سے جدہ کی بندرگاہ پر لوٹ رہے تھے اور ٹھنڈے مشروب کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ دوکان کے شیشے میں اپنی ہی شکل دیکھ کر انہیں لگا کہ سامنے کوئی بابرکت بزرگ کھڑے ہیں۔ انہوں نے تعظیماً اپنی باری اس ’بزرگ‘ کے نام کر دی، تو دکاندار نے انہیں دیوانہ سمجھا کیونکہ شیشے میں کوئی اور نہیں، خود قدرت اللہ شہاب کا اپنا ہی عکس تھا جسے وہ پہچان نہ سکے تھے!
سچ تو یہ ہے کہ قدرت اللہ شہاب ایک پہنچے ہوئے اور صاحبِ بصیرت انسان تھے اور وہ حج کی سعادت سے فارغ ہو چکے تھے، جبکہ میں تو ابھی اس سفر کی پہلی دہلیز پر ہی کھڑا تھا۔ ان جیسے عظیم انسان سے اپنا موازنہ کرنا میری شدید جسارت ہو گی…
شاید سیکیورٹی آفیسر کو بھی میری ویزا والی پرانی تصویر اور میری موجودہ شکل و صورت میں کوئی بڑا مغالطہ یا اشکال نظر آ رہا تھا!
وہ بڑی دیر تک کاغذات کو اوپر نیچے کھنگالتا رہا، اور بالآخر مطمئن ہو کر جانے کی اجازت دے دی۔
دوپہر کے ۱۲ بج چکے تھے۔ لہذا کھانا پیش کیا گیا جسے ہم نے نوشِ جان کیا۔
اس کے بعد الیکٹرک سیڑھیوں (Escalators) پر چڑھنے کا مرحلہ آیا۔ اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھام کر ان متحرک سیڑھیوں پر قدم رکھنا ہر ایک کے لیے آسان نہیں ہوتا، اور میری اہلیہ کے لیے تو یہ زندگی کا پہلا تجربہ تھا۔ عمر بھر بھلے ہی میں نے عام حالات میں یوں ان کا ہاتھ نہ تھاما ہو، مگر اب تو ہم دیارِ حبیب ﷺ کے سفر پر نکلے تھے! تمام تر روایتی شرم و جھجھک کو بالاۓ طاق رکھتے ہوئے، میں نے مضبوطی سے اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھاما اور ہم طیارے کی سمت بڑھ گئے۔
'اکاسا ایئر' (Akasa Air) کا یہ طیارہ تقریباً ۳۰۰ زائرین کی گنجائش رکھتا تھا، مگر ہماری تعداد تقریباً ڈیڑھ سو کے قریب تھی۔ روایتی برائے نام لباس میں ملبوس ایئر ہوسٹسز مسافروں کا استقبال کر رہی تھیں، اور ہماری غیرتِ ایمانی و حیا کا تقاضا تھا کہ ہماری نگاہیں زمین میں گڑی رہیں۔
ٹھیک ڈیڑھ بجے ہمارے طیارے نے فضا کا سینہ چیرتے ہوئے اڑان بھری۔ ہم نے سیٹ بیلٹس پہلے ہی کس لیے تھے۔ میری اہلیہ میرے دائیں جانب بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے انہیں ہلکا سا دلاسہ دیا۔ طیارے نے رفتار پکڑی اور ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ کہکشاؤں کی جانب محوِ پرواز ہو گیا۔
ہمارا اگلا پڑاؤ، ہماری روح کا مرکز… مدینہ منورہ تھا!
(باقی آئندہ بشرط زندگانی)
حالسیڈار، ویریناگ
7006146071