Ad
مضامین

ہندوستانی معاشرے میں ازدواجی زندگی کی تشویشناک صورتِ حال ـ ایک جائزہ

✍️ : عنایت نزیر/ اچھن پلوامہ


email: enayatnazir2024@gmail.com

بعض اوقات ایک معمولی سا واقعہ انسان کو کسی بڑے سماجی مسئلے پر غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ میرے ساتھ  بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ چند روز قبل میرے ایک رفیقِ کار  جناب ارشد احمد شیخ صاحب (لیکچرر انگریزی) نے میرے ساتھ ایک ڈیٹا شیئر کیا، جس میں ہندوستان میں میاں بیوی کے درمیان قتل کے چند اعداد و شمار درج تھے۔ ان اعداد و شمار نے مجھے چونکا دیا۔ میں نے اس کی حقیقت جاننے کے لیے مختلف ذرائع سے تحقیق کی، متعدد رپورٹس کا مطالعہ کیا اور دستیاب معلومات کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ اعداد و شمار نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف میڈیا رپورٹس میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ہندوستان میں ازدواجی تعلقات سے متعلق مسائل واقعی ایک سنجیدہ سماجی حقیقت ہیں۔ یہی احساس اس مضمون کی محرکِ تحریر بنا۔

اسلام میں نکاح کو ایک مقدس عبادت اور مضبوط عہد قرار دیا گیا ہے۔ نکاح صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں کو محبت، اعتماد اور احترام کے رشتے میں جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب اس رشتے کی بنیاد تقویٰ، اخلاص، صبر اور حسنِ اخلاق پر ہو تو گھر سکون، رحمت اور خوشیوں کا گہوارہ بن جاتا ہے، لیکن جب اس میں انا، غصہ، خودغرضی، بداعتمادی اور بے صبری داخل ہو جائے تو یہی رشتہ اختلاف، نفرت اور بسا اوقات تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں گھریلو جھگڑوں، طلاق، خودکشی اور قتل جیسے افسوسناک واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران 785 شوہر اپنی بیویوں کے ہاتھوں قتل ہوئے، جبکہ اسی عرصے میں ہزاروں خواتین بھی اپنے شوہروں یا ازدواجی تنازعات کے نتیجے میں جان سے محروم ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار کسی ایک فریق کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہیں۔ ان اعدادوشمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمارے خاندانی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اگر ہم ان حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان مسائل کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ دینی تعلیمات سے دوری اور دین بیزاری ہے۔ جب انسان کے دل سے اللہ تعالیٰ کا خوف، آخرت کی جواب دہی کا احساس اور قرآن و سنت کی تعلیمات کمزور ہو جائیں تو رشتوں کی حرمت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشی پریشانیاں، بے روزگاری، سوشل میڈیا کا بے جا استعمال، فحاشی و عریانی، منشیات، خاندانی مداخلت، عدم برداشت، جلد بازی میں فیصلے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا بھی ازدواجی زندگی میں تلخی پیدا کرتے ہیں۔ آج معمولی اختلافات بھی صبر اور حکمت سے حل کرنے کے بجائے انا کا مسئلہ بنا دیے جاتے ہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ ازدواجی اختلافات کو گھر کی چار دیواری کے اندر حل کرنے کی بہترین کوشش اور احسن طریقے کو چھوڑ کر سوشل میڈیا پر اچھالا جاتا ہے جس کے نتیجے میں طلاق، تشدد، خودکشی اور قتل جیسے افسوسناک واقعات جنم لیتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ظلم کسی کے ساتھ بھی ہو، وہ قابلِ مذمت ہے۔ اسلام مرد اور عورت دونوں کو عزت، احترام اور مساوی انسانی وقار عطا کرتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی مرد ظلم کا شکار ہو یا کوئی عورت، دونوں صورتوں میں انصاف کا تقاضا ایک ہی ہے۔ ہمیں اس مسئلے کو مرد اور عورت کی جنگ کے بجائے ایک خاندانی اور سماجی بحران کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

اس مسئلے کا حل صرف سخت قوانین میں نہیں بلکہ بہتر تربیت اور مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے میں بھی پوشیدہ ہے۔ والدین اپنی اولاد کو بچپن ہی سے دینی تعلیم، اچھے اخلاق، صبر، برداشت، تحمل اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھائیں۔ نوجوانوں کو نکاح سے پہلے ازدواجی حقوق و فرائض سے آگاہ کیا جائے۔ اختلاف پیدا ہو تو غصے اور ضد کے بجائے گفتگو، مشورے، معافی اور درگزر کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

:اسلام کی نظر میں خاندانی زندگی

اسلام نے خاندان کو ایک مضبوط اور پاکیزہ ادارہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔" (سورۂ روم: 21)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ نکاح کا مقصد سکون، محبت اور رحمت حاصل کرنا ہے، نہ کہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔" (جامع ترمذی)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:

"کوئی مومن مرد اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری عادت ضرور پسند آئے گی۔" (صحیح مسلم)

یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز محبت، صبر، برداشت، معافی اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے میں ہے۔ جب میاں بیوی اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں گے تو ان کا گھر سکون اور رحمت کا گہوارہ بن جائے گا۔

اختتامیہ

آج ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کہیں ہماری غفلت، دینی تعلیمات سے دوری اور مادہ پرستی ہمارے گھروں کا سکون تو نہیں چھین رہی۔ اگر ہم اپنے گھروں کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کی طرف واپس آنا ہوگا، اپنے بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دینی ہوگی اور نکاح کے مقدس رشتے کو صرف ایک سماجی رسم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر نبھانا ہوگا۔

یاد رکھیے، خوشحال معاشرے کی بنیاد مضبوط خاندان ہوتے ہیں، اور مضبوط خاندان وہی ہوتے ہیں جن کی بنیاد ایمان، محبت، احترام، صبر اور باہمی اعتماد پر قائم ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کے مطابق اپنی خاندانی زندگی گزارنے، ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے اور اپنے گھروں کو محبت، رحمت، سکون اور خیر و برکت کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: مضمون نگار اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بحیثیت لائبریرین اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!