بین الاقوامی
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت، ماہر الاسد اور عاطف نجیب بھی مجرم قرار

دمشق:11 اگست 2026 کو دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت نے سابق شامی صدر بشار الاسد، ان کے بھائی ماہر الاسد اور کزن عاطف نجیب کو جنگی جرائم، قتل، تشدد اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمے میں سزائے موت سنائی۔ بشار اور ماہر کے خلاف فیصلہ غیر حاضری میں دیا گیا، کیونکہ دونوں شام سے باہر ہیں۔
شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو تقریباً 14 سالہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم، قتل، تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالت نے بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد اور ان کے کزن عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی۔
عدالت کا فیصلہ بشار الاسد اور ماہر الاسد کے خلاف غیر حاضری میں سنایا گیا، جبکہ عاطف نجیب عدالت میں موجود تھے۔ عاطف نجیب پر 2011 میں درعا میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائی میں کردار سمیت سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مقدمہ شام میں جاری رہنے والے تقریباً 14 سالہ تنازع کے دوران ہونے والے مبینہ مظالم سے متعلق ہے، جس میں مختلف اندازوں کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ فیصلہ بشار الاسد کی حکومت کے دسمبر 2024 میں خاتمے کے بعد ان کے خلاف پہلا بڑا عدالتی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بشار الاسد دسمبر 2024 میں اقتدار سے معزولی کے بعد روس چلے گئے تھے، جبکہ ماہر الاسد بھی شام سے باہر ہیں۔ شام کی موجودہ حکومت ان کی حوالگی کی کوششیں کر رہی ہے، تاہم فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ان کی گرفتاری اور شام واپسی ضروری ہوگی۔