Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود قسط نمبر...... 13

✍️ :. عبدالرشید سرشار 


​یہ 3 مئی 2026ء کا دن ہے۔ مسجدِ حرام میں فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد ہم شٹل بس کے ذریعے عزیزیہ میں واقع اپنی قیام گاہ پر پہنچے۔ آتے ہی چائے کا اہتمام ہوا اور کشمیر سے اپنے ساتھ لائے ہوئے مخصوص روایتی کلچوں کے ساتھ چائے نوشِ جاں کی گئی۔ جسم تھکن سے چور تھا۔ ریلوے اسٹیشن تک پہنچنے اور وہاں انتظار کے چار گھنٹے، پھر بلٹ ٹرین کا چار گھنٹے کا برق رفتار سفر، اسٹیشن سے قیام گاہ تک کی دوڑ دھوپ، سامان کی ترتیب و سیٹنگ میں دو تین گھنٹے کا صرف ہونا اور پھر ذوق و شوق سے عمرہ کی ادائیگی، طواف و سعی کے بعد حرمِ پاک کے پرسکون سائے میں بیٹھ کر تسبیح و استغفار میں گزری رات ،ان سب مصروفیات کے بعد جسم کا آرام کی چاہت فطری امر تھا۔ اتفاق سے دن بھی اتوار کا تھا،  صبح پانچ بجے سے لے کر گیارہ بجے تک وقت ہی وقت تھا، سو ہم نے دس بجے تک خوب آرام کیا۔

​دس بجے بستر چھوڑا، نہائے دھوئے، تیاری مکمل کی۔ ہاتھوں میں بڑے سائز کی چھتریاں سنبھالیں، کندھوں پر ہلکے پھلکے بیگ لٹکائے اور سروں پر بھیگے ہوئے رومال باندھ کر جب ہم باہر نکلے تو سورج سوا نیزے پر تھا۔ دن کا پارہ 40 اور 50 کے درمیان اٹھک بیٹھک کر رہا تھا۔ یوں گمان ہوتا تھا کہ ہم کسی ایسے کارخانے کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں بھٹی میں لوہا پگھلایا جا رہا ہو، فضا میں انگارے برس رہے تھے۔

​کوئی تیس قدم کے فاصلے پر انڈین حج کمیٹی کی ایئر کنڈیشنڈ بس کھڑی تھی۔ ہم جلدی سے اس کے اندر داخل ہو گئے۔ بس میں زائرین اپنے معمول کے لباس میں سوار تھے اور ہر ایک کی اپنی دنیا آباد تھی۔ کوئی ہاتھ میں تسبیح لیے انگلیاں گھما رہا تھا، تو کسی کے لب خاموشی سے ذکرِ الٰہی میں متحرک تھے۔ کہیں ہلکا پھلکا ہنسی مذاق چل رہا تھا، تو کہیں دروازے میں کسی معمر زائر کی وہیل چیئر پھنس گئی تھی جسے دو چار حجاج نے لپک کر سہارا دیا اور اندر چڑھایا۔ ایک صاحب نے برابر والی نشست پر پانی کی بوتل اِس انداز سے جما کر رکھی تھی گویا وہ جگہ پہلے سے محفوظ ہو، کیونکہ موصوف کی اہلیہ ابھی بس میں سوار نہیں ہوئی تھیں۔ دوسری طرف ایک مسافر ٹھنڈے پانی کی بوتل سے ہلکا سا فوارہ بنا کر اپنے تپتے ہوئے چہرے اور جسم کو تر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

​اور ایک میرا وجود تھا، مجھ جیسے گناہ گار کا دماغ بس کی کھڑکی کے پاس بیٹھ کر عرشِ بریں کے تصورات میں گم تھا۔ دل اپنی خوش نصیبی پر نازاں بھی تھا اور حیران بھی کہ الٰہی! اعمال تو ایسے ہرگز نہ تھے کہ کائنات کا مالک پسند فرماتا اور اپنے دربار میں حاضری کا پروانہ عطا کرتا!

 انہی خیالات میں گم، میں کھڑکی کے شیشے سے باہر قدرت کے کارخانے کو تک رہا تھا۔ نہ ہاتھوں میں تسبیح تھی، نہ زباں پر کوئی مخصوص ورد،

بس صانعِ ازل کی صناعی پر غور و فکر جاری تھا۔

​باہر نگاہ ڈالی تو دور تک سپاٹ، ریتلے اور درمیانی اونچائی والے ننگے پہاڑ پھیلے ہوئے تھے۔ گھاس کا ایک تنکا تک عنقا، ہریالی کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ بے ساختہ ذہن وطن کی طرف مڑ گیا۔ پہاڑ تو ہمارے ہاں بھی ہیں، لیکن وہ اونچے اور سرسبز پہاڑ! وادیٔ کشمیر، جنتِ بے نظیر! جہاں کا خوشگوار موسم پارہ 20 اور 30 کے درمیان رکھتا ہے۔ سدا بہار گہرے جنگلات، سال بھر کلکل بہتے شفاف دریا، نیلا اور کبھی روئی کے گالوں جیسا سفید آسمان، فلک بوس چوٹیوں پر بچھی برف کی سفید چادریں، اور ہر دو چار میل کے بعد وسیع و عریض باغات۔ چناروں کی اپنی ایک الگ ہی متوازی کائنات ہے، سرو اور دیودار کے ایسے گھنے سلسلے ہیں جن کا کوئی مالی نہیں، مگر قدرت خود کروڑوں درختوں کی آبیاری کرتی ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور جنگلی حیات کی چہل پہل ،

اسی لیے تو اسے  جنت ارضی کہا گیا ہے۔ گو کہ وہ خطہ بے جان جسموں میں نئی روح پھونک دیتا ہے، مگر کیا وہ ایسی روحانی جنت کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

​میری متجسس نگاہوں نے کشمیر کی یادوں سے دامن چھڑایا اور شیشے کے پار حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہم السلام کی اس مقدس وادی میں دوبارہ بچھ گئیں۔

​بس جس سڑک پر رواں تھی، اس کے بائیں ہاتھ  ایک ٹیڑھا میڑھا راستہ مڑتا تھا۔ یہ کوئی کچی پگڈنڈی نہیں بلکہ ایک کشادہ، شاندار شاہراہ ہے، جس پر بچھی تارکول اور چمکتی سفید لکیریں دھول مٹی سے اتنی پاک ہیں کہ انسان اپنا عکس دیکھ لے۔ تپش ایسی کہ پاؤں رکھو تو جھلس جائیں، اور ہوائیں اتنی گرم کہ جگر تک چھلنی کر دیں۔ لاریاں فراٹے بھرتی گزر رہی تھیں اور ٹیکسیاں زائرین  کو منزل کی طرف لے جا رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ آگے چل کر پہلے کچھ سیڑھیاں آتی ہیں، پھر ایک دشوار گزار راستہ، اور بالآخر پہاڑ کے سینے میں بنی ایک قدرتی خوشنما اور تاریخی غار۔ زائرین ذرا سے فاصلے کی سواری کے لیے چالیس چالیس ریال بخوشی نچھاور کر رہے تھے، عقیدت و محبت کا ایک طوفان تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، ہر کوئی اس زیارت سے فیضیاب ہونا چاہتا تھا۔

​یہ منظر دیکھتے ہی میں سنہ 622 عیسوی کے تاریخی اور پرآشوب دور میں پہنچ گیا۔ وہ وقت جب آخری نبی، سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سنگدل ماحول میں شب و روز رب کا پیغام پہنچا کر یہ محسوس فرمایا کہ اب اس بستی میں بظاہر کوئی ایسی سعید روح باقی نہیں بچی جو حق کی پکار پر لبیک کہے۔ دوسری طرف کفر کا مرکز 'دارالندوہ' تھا، جہاں مکہ کے سردار سر جوڑ کر سازشیں بن رہے تھے۔ ان کا غصہ یہ تھا کہ ابو طالب کے یتیم بھتیجے نے 360 بتوں کی بے بسی ظاہر کر کے ان کے معبودوں کی توہین کی ہے، ایک خدا کی دعوت دے کر باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے الگ کر دیا ہے، صدیوں پر محیط قریشی جاہ و جلال کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے غلاموں کو آقاؤں کے برابر لا کھڑا کیا ہے اور حسب و نسب کی زنجیریں توڑ کر صرف تقویٰ و کردار کو عزت کی بنیاد بنا دیا ہے۔

​ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ابولہب اور امیہ بن خلف جیسے خونخوار سردار اکٹھے تھے۔ سوال یہ تھا کہ اس عظیم ہستی کے ساتھ کیا کیا جائے؟ 

کیا شہر بدر کر دیا جائے؟ کیا قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے؟ یا العیاذ باللہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کا خاتمہ کر دیا جائے؟ 

انسانی عقل کے یہ کھوٹے سوداگر چھوٹی سوچ کے ساتھ ناپاک منصوبے بنا رہے تھے، مگر وہ غافل تھے کہ ایک تدبیر عرش والا بھی فرما رہا تھا، اور اللہ کی تدبیر ہی سب پر غالب ہے۔

​اسی دور کا ایک روشن کردار حضرت ابو قحافہ کے فرزند ہیں، جن کا نام پہلے عبد الکعبہ تھا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ رکھا۔ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے جگری یار تھے، مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے، اور جن کی مساعیٔ جمیلہ سے کئی سعید روحوں کو دولتِ ایمان نصیب ہوئی۔

​جب قریش کے مظالم کی انتہا ہو گئی، شفیق چچا ابو طالب کا سایہ بھی اٹھ گیا اور غمگسار رفیقۂ حیات حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا بھی داغِ مفارقت دے گئیں، تو ایک رات اللہ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسی صدیق کے ہمراہ خاموشی سے نکلے۔ مکہ کی گھاٹیوں میں چھپتے چھپاتے، رات کے گھپ اندھیرے میں، وہ اسی سامنے نظر آنے والے دشوار گزار پہاڑ پر چڑھے۔ راستے میں نوکیلے پتھر اور تیز سنگریزے تھے جن سے مبارک پاؤں زخمی ہو رہے تھے، چڑھائی ایسی کہ سانس پھول جائے۔ تاریخ کے وہ دو عظیم ترین انسان پہاڑ کے اوپر پہنچ کر جس تنگ غار میں پناہ گزیں ہوئے، تیسرا ان کا خود پروردگارِ عالم تھا۔

​اسی کو 'غارِ ثور' کہتے ہیں۔ یہی وہ مقامِ مقدس ہے جو مکی زندگی کی انتہا اور تاریخ ساز مدنی دور کی تابناک ابتدا کا سنگِ میل ثابت ہوا۔

​میں تاریخ کے ان پرنور اوراق کی ورق گردانی میں گم  ہی تھا کہ اچانک بس کے بریک لگے اور ڈرائیور کی بلند آواز کانوں سے ٹکرائی "حرم! حرم!" خوابیدہ لمحوں کا طلسم ٹوٹا۔ ہم سب بس سے اترے اور تیز تیز قدموں سے  نماز  ظہر کی ادائیگی کے لیے ایک بار پھر مسجدِ حرام کے دامن میں جا پہنچے۔

عبدالرشید سرشار 

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!