افسانہ
افسانہ..... تحفہ

✍️:. فردوس احمد نجار
(njfirdous090@gmail.com)
صبح کے اخبار میں ایک خبر نمایاں حروف میں شائع ہوئی: "محمد صادق، گورنمنٹ مڈل اسکول صادق آباد کے ممتاز استاد، قومی سطح کے بہترین استاد کے ایوارڈ کے لیے منتخب۔
صادق آباد کے لیے یہ محض ایک خبر نہیں تھی، فخر کا ایک لمحہ تھا۔ اسکول میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ساتھی اساتذہ نے مبارک باد دی، شاگردوں نے خوشی کا اظہار کیا اور محلے کے لوگوں نے اسے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
محمد صادق واقعی اس اعزاز کا مستحق تھا۔
وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، قابل، محنتی اور فرض شناس استاد تھا۔ کئی دہائیوں سے گورنمنٹ مڈل اسکول صادق آباد میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ اس نے اپنی جوانی، اپنی صلاحیتیں اور اپنی زندگی کا بہترین حصہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا تھا۔
اس کے ہاتھوں سے تعلیم حاصل کرنے والے کتنے ہی نوجوان آج زندگی کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ کوئی ڈاکٹر تھا، کوئی انجینئر، کوئی پروفیسر، کوئی بیوروکریٹ، کوئی جج اور کوئی پارلیمنٹیرین۔
محمد صادق اکثر کہا کرتا تھا:
محمد صادق اکثر کہا کرتا تھا: "استاد کی اصل کامیابی اس کے شاگردوں کی کامیابی میں ہوتی ہے۔" اور شاید یہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز تھا۔
مگر اب اسے ایک ایسا اعزاز ملنے والا تھا جس کا خواب شاید ہر استاد دیکھتا ہے۔
محکمۂ تعلیم نے اسے قومی سطح کے بہترین استاد کے ایوارڈ کے لیے منتخب کیا تھا۔ اسے نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جہاں ملک کی اعلیٰ ترین شخصیت، صدرِ جمہوریہ محترمہ سرسوتی صاحبہ، جو خود بھی اپنے زمانے کی ایک ممتاز استاد رہ چکی تھیں، اپنے ہاتھوں سے اسے یہ اعزاز عطا کرنے والی تھیں۔
یہ بلاشبہ محمد صادق کے لیے زندگی کا ایک تاریخی لمحہ ہو سکتا تھا۔
مگر زندگی نے اس کے سامنے ایک عجیب سوال رکھ دیا۔
ایک طرف قومی ایوارڈ تھا۔ دوسری طرف اس کی ملازمت۔ اور اس بار سوال محض ملازمت کا نہیں تھا؛ سوال اس کی عزت، اس کے گھر کے مستقبل اور اس کی پوری زندگی کی کمائی کا تھا۔
ملکی انتظامیہ کی طرف سے اچانک ایک حکم جاری ہوا کہ ایسے تمام اسکولی اساتذہ جن کی ملازمت میں پانچ سال سے زیادہ عرصہ باقی ہے، ان کے لیے ٹیچر ایلیجبلٹی ٹیسٹ، یعنی TET، پاس کرنا لازمی ہوگا۔ بصورتِ دیگر ان کی ملازمت خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
محمد صادق باون(52) سال کا تھا۔
اس لیے وہ بھی اس امتحان کے دائرے میں آتا تھا۔
اس نے حکم نامہ پڑھا، کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا اور پھر کیلنڈر کی طرف دیکھا۔
ستمبر کا آخری ہفتہ۔
اسی دوران اس کی بیٹی کی شادی بھی طے تھی۔
اس کے گھر میں پہلے ہی کئی ذمہ داریاں تھیں۔ عمر رسیدہ اور علیل والدین کی دیکھ بھال اسی کے ذمے تھی۔ چار بیٹیاں تھیں، جن میں سے ایک کی شادی ستمبر کے آخر میں ہونے والی تھی۔
صحت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ کئی بیماریوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔
اس کے علاوہ وہ محلے والوں کے اصرار پر مسجد کے انتظامی امور بھی سنبھالتا تھا۔ وہ بی ایل او کی ذمہ داریاں بھی ادا کر رہا تھا اور ملک کے ایک اہم قومی فریضے، مردم شماری، میں بھی شریک تھا۔
اور ان سب کے درمیان اسے TET کی تیاری کرنی تھی۔
امتحان کی تاریخ بھی ستمبر کے آخری ہفتے میں تھی۔
محمد صادق نے دوبارہ دعوت نامہ اٹھایا۔ وگیان بھون، صدرِ جمہوریہ کے ہاتھوں ایوارڈ، قومی سطح پر اعزاز، تالیاں، کیمروں کی چمک، اور دوسری طرف ایک امتحان، جس میں ناکامی اس کی ملازمت چھین سکتی تھی۔
وہ کرسی سے اٹھا، کھڑکی کے پاس گیا اور دیر تک باہر دیکھتا رہا۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
"ایوارڈ میری زندگی کا اعزاز ضرور ہے، مگر ملازمت میرے خاندان کا سہارا ہے۔ پہلے بقا کی جنگ جیتنا ضروری ہے۔"
اس نے محکمۂ تعلیم کو اطلاع دی کہ وہ تقریب میں شرکت نہیں کر سکے گا۔
اس کا خیال تھا کہ اگر وہ اس وقت وگیان بھون دہلی چلا گیا تو امتحان کی تیاری مزید متاثر ہوگی۔ عمر کے اس حصے میں، صحت کے مسائل، گھریلو ذمہ داریوں اور اتنے سارے فرائض کے ساتھ اگر وہ امتحان میں ناکام ہوگیا تو معاشرہ کیا کہے گا؟
وہ دل ہی دل میں سوچتا:
"کل جس شخص کو ملک کا بہترین استاد کہا گیا، اگر وہی آج TET میں فیل ہوگیا تو لوگ اسے کس نظر سے دیکھیں گے؟"
یہ خوف اسے اندر سے کھا رہا تھا۔
مگر محکمۂ تعلیم بھی اپنی مجبوریوں میں گھرا ہوا تھا۔ افسران نے اسے سمجھایا۔ پھر اصرار کیا۔ اور جب وہ پھر بھی نہ مانا تو اسے معطلی اور تنخواہ بند ہونے جیسے خدشات سے آگاہ کیا گیا۔
محمد صادق کے لیے یہ ایک عجیب صورتِ حال تھی۔
جس شخص کو قومی سطح پر بہترین استاد قرار دے کر اعزاز سے نوازا جا رہا تھا، اسی شخص کو تقریب میں شرکت کے لیے اس کی ملازمت کا خوف دکھایا جا رہا تھا۔
آخرکار وہ مجبور ہوگیا۔ وہ وگیان بھون دہلی پہنچا۔ تقریب شاندار تھی۔
ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں سے منتخب اساتذہ موجود تھے۔ اعلیٰ حکام، میڈیا اور مہمانوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔
جب محمد صادق کا نام پکارا گیا تو اس کی کئی دہائیوں پر محیط تدریسی خدمات بیان کی گئیں۔
اس کے تعلیمی کارناموں کا ذکر ہوا، اس کے شاگردوں کی کامیابیوں کو سراہا گیا، اور اس کی فرض شناسی، قابلیت اور تدریسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
صدرِ جمہوریہ محترمہ سرسوتی صاحبہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھیں۔ محمد صادق نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ آگے کیے اور صدرِ جمہوریہ نے قومی بہترین استاد کا ایوارڈ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
کیمرے چمکے، تالیاں بجیں، مسکراہٹیں بکھریں اور محمد صادق نے بھی مسکرانے کی کوشش کی۔
مگر اس کے دل میں ایک ہی سوال تھا:
"اگر میں TET میں ناکام ہوگیا تو کیا یہ ایوارڈ میری ملازمت بچا سکے گا؟"
وہ اگلے ہی روز گھر واپس آگیا۔
قومی ایوارڈ کو الماری میں رکھا اور اپنی کتابیں کھول کر بیٹھ گیا۔
اب اس کے سامنے صرف ایک امتحان نہیں تھا، یہ اس کی عزت، روزگار اور مستقبل کی جنگ تھی، لیکن زندگی نے اسے فرصت کہاں دی تھی؟
وہ کتاب کھولتا تو مردم شماری کی ذمہ داری سامنے آجاتی۔ پھر سے کھولتا تو بی ایل او کی ڈیوٹی یاد آجاتی۔ پھر مسجد کے انتظام کا کوئی مسئلہ سامنے آجاتا۔ کبھی بیٹی کی شادی کی تیاری۔ کبھی بیمار والدین کی تیمارداری۔ کبھی اپنی خراب صحت۔ اور کبھی اسکول کے بچوں کی ذمہ داریاں۔
رات گہری ہوجاتی، مگر کتاب کے صفحات وہیں کھلے رہتے۔
وہ خود سے کہتا: "کل سے پوری تیاری کروں گا۔" مگر وہ "کل" کبھی نہیں آیا۔ امتحان کا دن آگیا اور وہ امتحانی مرکز پہنچا۔
وہی محمد صادق جس نے زندگی بھر اپنے شاگردوں کو امتحانات کے لیے تیار کیا تھا، آج خود ایک ایسے امتحان کے سامنے بیٹھا تھا جس کے نتیجے پر اس کی ملازمت منحصر تھی۔
اس نے سوالات پڑھے، کچھ حل کیے، کچھ پر رک گیا، کچھ سوالات نے اسے الجھا دیا۔ وقت ختم ہوا اور پرچہ جمع کرایا گیا۔
محمد صادق امتحانی مرکز سے باہر نکلا تو اس کے قدم بوجھل تھے۔
اس نے اپنے ایک ساتھی سے صرف اتنا کہا: "پرچہ اچھا نہیں ہوا۔"
اس رات اسے نیند نہ آئی، اس کے ذہن میں ایک ساتھ کئی تصویریں گھومتی رہیں۔
وگیان بھون کی تقریب۔ صدرِ جمہوریہ کے ہاتھوں ملنے والا ایوارڈ۔ تالیاں۔ کیمروں کی چمک۔ اس کے شاگرد۔ اس کا اسکول۔ اس کا گھر۔ اس کی بیٹیاں۔ اس کے بیمار والدین۔ اور پھر TET کا نتیجہ۔
اس کے اندر ایک خوف جنم لے چکا تھا۔
"اگر میں ناکام ہوگیا تو؟" "لوگ کیا کہیں گے؟"
"کیا میری پوری زندگی کی خدمت ایک نتیجے کے سامنے بے معنی ہوجائے گی؟"
بے چینی بڑھتی گئی، صحت پہلے ہی کمزور تھی، پھر ستمبر کی آخری تاریخوں میں نتیجہ آگیا۔
محمد صادق نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا نتیجہ کھولا۔
وہ ناکام ہوگیا تھا۔ چند لمحوں تک وہ اسکرین کو دیکھتا رہا، جیسے اسے یقین ہی نہ آیا ہو۔ پھر اچانک اس کے سینے میں شدید درد اٹھا۔ گھر والے کچھ سمجھ پاتے، اس سے پہلے ہی وہ زمین پر گر پڑا۔
قومی بہترین استاد کا ایوارڈ الماری میں خاموش پڑا رہا۔
اور محمد صادق ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
مغرب کی نماز کے بعد اس کا جنازہ تھا۔ صادق آباد نے شاید ایسا جنازہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کے شاگرد دور دور سے پہنچ رہے تھے۔
ایک پارلیمنٹیرین آیا۔ جج آئے۔ ڈاکٹر آئے۔ انجینئر آئے۔ پروفیسر آئے۔ بیوروکریٹس آئے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگ وہاں موجود تھے۔
ایک دوسرے سے تعارف ہوا تو ایک عجیب حقیقت سامنے آئی۔ ایک نے پوچھا، "آپ بھی صادق صاحب کے شاگرد تھے؟" جواب ملا، "جی!" دوسرے نے کہا، "میں نے بھی انہی سے پڑھا ہے۔" اور کسی نے بے اختیار کہا، "اور میں نے بھی!"
جنازے میں کھڑے ان کامیاب لوگوں کو اچانک احساس ہوا کہ ان کی کامیابیوں کے پیچھے ایک ہی استاد کی محنت تھی۔
ایک نوجوان ڈاکٹر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا: "انہوں نے ہمیں صرف کتابیں نہیں پڑھائی تھیں، ہمیں انسان بننا سکھایا تھا۔"
ایک بیوروکریٹ نے کہا:
"جب انہوں نے ہماری بنیاد مضبوط کی تھی تب جا کے ہم آگے کامیاب ہوئے۔"
ایک انجینئر نے کہا:
"اگر استاد کی اہلیت صرف ایک امتحانی پرچے سے طے ہوتی ہے تو پھر ہماری کامیابیوں کا کیا مطلب ہے؟"
خاموشی چھا گئی۔
پھر اس پارلیمنٹیرین شاگرد نے آہستہ سے کہا:
"ہم نے اپنے استاد کو قومی ایوارڈ تو دے دیا، مگر وہ چیز نہ دے سکے جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت تھی—تحفظ، عزت اور اطمینان۔"
کسی نے جواب نہیں دیا، کیونکہ سوال بہت بڑا تھا۔
کیا ایک استاد کی اہلیت صرف ایک امتحان سے ناپی جا سکتی ہے؟
کیا کئی دہائیوں کا تدریسی تجربہ، کلاس روم کی کارکردگی، تربیت، کردار، تدریسی بصیرت، شاگردوں کی کامیابیاں، پیشہ ورانہ خدمات اور معاشرے میں اس کا کردار ایک سوالنامے کے چند نمبروں سے کم تر ہو سکتے ہیں؟
یقیناً امتحان کسی مخصوص علمی استعداد کو جانچ سکتا ہے، لیکن ایک امتحان ایک استاد کی حکمت، تجربے، کردار، صبر، شفقت، تدریسی بصیرت اور نسلوں پر اثر ڈالنے والے دوسرے پہلوؤں کو نہیں ناپ سکتا۔
محمد صادق کی کہانی صرف اس کی کہانی نہیں۔ یہ آج ملک کے ہر اس استاد کی کہانی ہے جس نے اپنی جوانی قوم کے بچوں کو پڑھاتے ہوئے گزار دی، مگر عمر کے آخری حصے میں اسے اپنی ہی اہلیت ثابت کرنے کے لیے ایک ایسے امتحان کے سامنے کھڑا کر دیا گیا، جس کے پیچھے اس کی پوری زندگی کھڑی تھی۔
محمد صادق کی کہانی شاید صرف محمد صادق کی کہانی نہیں۔
یہ اس تضاد کی کہانی ہے جہاں ایک ہاتھ میں "قومی بہترین استاد" کا ایوارڈ ہے اور دوسرے ہاتھ میں ملازمت بچانے کی فکر۔
یہ اس سوال کی کہانی ہے جو شاید آج بہت سے اساتذہ کے دل میں موجود ہے:
"مجھے تحفہ یا سند نہیں چاہیے؛ مجھے عزت، تحفظ اور وہ کھویا ہوا مقام چاہیے جس کے لیے میں نے اپنی پوری زندگی وقف کردی ہے۔"
اور شاید اس کہانی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ محمد صادق کے ہاتھ میں قومی ایوارڈ تھا، مگر دل میں اپنے مستقبل کا خوف۔
اس قومی یومِ اساتذہ کے موقع پر اساتذہ کو صرف ایوارڈ دینے اور مبارکباد دینے سے قوم کا مستقبل محفوظ نہیں ہوتا؛ بلکہ ان کے تجربے، وقار، عزت اور پیشہ ورانہ تحفظ کی حفاظت سے ہوتا ہے۔
اگر اصلاح کے نام پر ایسا نظام بنایا جائے جو تجربہ کار، فرض شناس اور برسوں سے تدریس سے وابستہ اساتذہ کو محض ایک امتحانی نتیجے کی بنیاد پر اپنی اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کرے، تو یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم نظامِ تعلیم کو مضبوط کرنے کے بجائے اس کی سب سے قیمتی متاع—تجربہ کار استاد—ہی تو نہیں کھو رہے؟
محمد صادق کا المیہ ہمیں یہی سوچنے پر مجبور کرتا ہے:
استاد کو پرکھنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیجیے کہ اس نے کتنی نسلیں سنواری ہیں۔
کیونکہ کبھی کبھی ایک امتحان کا نتیجہ ایک امیدوار کی یادداشت بتا سکتا ہے، مگر ایک استاد کی پوری زندگی اس کی اہلیت کی گواہی دیتی ہے۔