تبصرہ کُتب
اقبال کا شاہین...... تبصرہ

نام کتاب: اقبال کا شاہین مصنف: ڈاکٹر غلام قادر لون صفحات: ٣٢، قیمت: ٤٠ روپے اشاعت اول: جولائی ٢٠٢٦ ناشر: سنڈیکیٹ میڈیا، سرینگر
علامہ اقبال ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں ایک بلند پایہ مقصد ہے، انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امت مسلمہ کو بیدار کیا، انہیں ان کا مقام اور منصب یاد دلایا، انہیں تاریخ کے آئینے میں ان کا ماضی، حال اور مستقبل بتایا۔ امت مسلمہ کا نوجوان کس گیلکسی (galaxy) سے تعلق رکھتا ہے، وہ کس جہاں اور ستاروں کے جھرمٹ کا ٹوٹا ہوا تارا ہے ، یہ سب باتیں، تاریخی شواھد اور ان کی ذمہ داریوں کا عکس اپنے کلام میں جگہ جگہ دے دیا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں نوجوانوں کو خصوصی طور پر ایڈریس کیا ہے، اور انہیں شاہین کی طرح فکری پرواز ، بلند حوصلگی، غیرت، استغناء اور جہد مسلسل کو اپنی زندگی کا شعار بنانے پر ابھارا ہے ۔
علامہ اقبال نے شاہین کو اپنے کلام میں یہ مقام کیوں دیا ہے؟؟ اس کا جواب بال جبریل میں شاہین کے عنوان سے ایک نظم کے تحت، شاہین کی وہ ساری صفات بیان کیں ہیں، شاہین کی انہیں صفات اور خصوصیات میں، علامہ اقبال کو "مرد مومن" کی صفات کا پرتو نظر آتا ہے۔
علامہ اقبال کے ناقدین، شاہین میں درندگی، ظلم و سفاکی اور خونریزی دیکھتے ہیں، لیکن اقبال نے اپنی مذکورہ نظم میں اپنے ناقدین کو شاہین کی صفات حمیدہ بتا کر خاموش کردیا، ان صفات کو ایک مسلم نوجوان اپنی زندگی میں کس طرح مربوط کریں، کس طرح عمل پیرا ہوں، اس کا خاکہ جگہ جگہ بتاکر ان ناقدین کا منہ توڑ جواب دیا ۔ علامہ اقبال نے ایک خط ظفر احمد صدیقی کے نام لکھ کر اپنے کلام میں شاہین کو مقام کیوں دیا، اس کا جواب اس طرح لکھا ہے " شاہین کی تشبیہ محض شاعرانہ تشبیہ نہیں ہے ۔ اس جانور (پرندے) میں اسلامی فقر کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ (١) خوددار اور غیرت مند ہے کہ اور کے ہاتھ کا مارا ہوا شکار نہیں کھاتا (٢) بے تعلق ہے آشیانہ نہیں بناتا (٣) بلند پرواز ہے (٤) خلوت پسند ہے (٥) تیز نگاہ ہے ۔ (علامہ اقبال کی نظم"شاہین" میں ان ساری صفات کا ذکر شاعرانہ انداز میں ہے) ۔
اقبال کے اسی استعارے کو ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب نے اپنی کتاب"اقبال کا شاہین " عنوان دے کر اس موضوع کا حق ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر لون صاحب علمی دنیا میں مشہور و معروف محقق ہے، ان کی کئی کتابیں نہ صرف برصغیر میں بلکہ عالمی سطح پر بطور مراجع و مصادر کی حیثیت رکھتی ہیں جن میں خصوصیت سے "قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے سائنسی کارنامے " اور مطالعہ تصوف: قرآن و سنت کی روشنی میں" قابل ذکر ہے۔ مصنف محترم کو بیک وقت چھ زبانوں (عربی، فارسی ، اردو، انگریزی کشمیری اور ہندی) پر مکمل دسترس حاصل ہیں، وہ ان کے اصل ماخذ سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان سے استفادہ کرنے کا سلیقہ بھی رکھتے ہیں۔ اقبال شناسی کے ساتھ ساتھ، حافظ شیرازی، مولانا جامی، مولانا رومی اور عرب شعراء کے کلام پر بھی محققانہ نظر رکھتے ہیں، وہ جگہ جگہ اپنے مدعا اور بات کی توضیح کے لئے، ان کے کلام سے بھی استشہاد کرتے نظر آتے ہیں، زیر تبصرہ کتاب میں بھی ان کے کلام کو پیش کیا گیا ہے۔
"اقبال کے شاہین" میں نوجوانوں سے اقبال کے کلام سے ان کی حیثیت اور منصب پہچانے پر زور دیا گیا ہے، ان کی خودی کو پروان چڑھانے کے لئے موثر نسخے تجویز کئے گئے ہیں۔ علامہ نے اپنی زندگی میں ہی مسلم نوجوانوں کو اپنی تاریخ اور تہذیب سے دور ہوتے دیکھا تھا، ان کے کلام میں ایک درد دل اور تڑپ کی نمایاں تصویر جھلکتی ہیں، جو نوجوانوں کے اس رویہ سے سخت آبدیدہ ہے، مکتب کا نوجوان عام حضرات کو زندہ نظر آتا مگر حقیقت میں وہ مغرب کے مصنوعی نظام تنفس پر زندگی کے دن پورے کررہا ہے
تجھ کو مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
مردہ ہے، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس
اقبال بار بار امت مسلمہ کے خداوند ان مکتب کو اس طرف توجہ دلاتے رہے کہ نوجوانوں کی فکر میں بلند پروازی کی تعلیم دو، انہیں خاک بازی کا درس نہ دو، مادی ترقی کے بجائے ان میں حقیقی تشخص اور روحانی پرواز کا علم دو ، بقول اقبال
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
اقبال نے بار بار اپنے کلام میں جوانوں کو اپنے اسلاف کی تاریخ کا مطالعہ کرنے، اس کے واقفیت پر زور دیا ہے،تاکہ مسلم نوجوان کو معلوم رہے " رہ ورسم شاہبازی" کیا ہے، اس کی تعلیم و تربیت میں "فریب خوردہ شاہین" کی طرح نہیں بلکہ ہم نسب شاہبازوں کی خصلت زندہ رہے، وہ کس جہاں سے تعلق رکھتا ہیں، اسے خبر ہونی چاہیے،
کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا
تمدن آفریں خلاق آئین جہاں داری
وہ صحرائے عرب یعنی شتربانوں کا گہوارا
بہرحال، کتاب تحقیقی انداز میں پیش کی گئی ہے، اقبال کے شاہین کو ایڈریس کیا گیا ہے، اقبال کے شاہین میں کیا صفات ہونی چاہیے، اقبال کے کلام کی روشنی میں بیان کرنے کی بہترین کوشش ہے ۔
چند مشورے
البتہ بات یہ بھی صحیح ہے کہ اقبال کے شاہینوں میں، علم کی کمی ہے، اسلاف کی روایات سے ناواقفیت ہے، اور اب تو اُردو سے اس رسمی کا تعلق ہے ۔۔۔
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سیارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
اس لئے بعض اشعار کی تشریح رہ گئی ہیں، (جیسے پیام مشرق میں شاہین و ماہی کا مکالمہ شیخ سعدی کا شعر صفحہ نمبر ٢٢ پر) ، بعض الفاظ کا ترجمہ قوسین میں یا ان کی انگریزی اصطلاح لکھے ( جیسے تنازع للبقاء، بقائے اصلح)، اسی طرح بلعم بن باعور کے قصے کا ذکر حاشیہ میں درج کریں ۔
یہ ایک المیہ ہے کہ نئی نسل اردو صحیح سے نہیں پڑھ پاتی ہے، فارسی تو دور کی بات ہے، اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ (گرچہ یہ کار درد ہے) اگر فارسی اشعار پر حرکات و سکنات کا اضافہ کیا جائے تو کم سے کم وہ اس کا تلفظ صحیح سے ادا کرتے ۔۔۔