Ad
سفر نامہ

سفر محمود قسط... نمبر 12

دیارِ حرم میں پہلی حاضری

✍️ :. عبدالرشید سرشار 


​2 مئی کا دن تھا اور دوپہر کے ٹھیک دو بجے کا وقت۔ بلٹ ٹرین کے خودکار دروازے کھلے اور قدم پلیٹ فارم پر پڑتے ہی تپتی ہوئی لو اور حد سے زیادہ گرمی نے جیسے اپنے حصار میں لے لیا۔ ریلوے اسٹیشن کے ہجوم میں "اِثراء الخیر" کے کارندے "انڈیا، انڈیا" کی گردان کرتے ہوئے ہمیں ایک مخصوص سمت بلا رہے تھے۔ باہر چار پانچ بسیں قطار اندر قطار منتظر کھڑی تھیں۔ سورج نصف النہار سے ذرا ڈھل چکا تھا مگر اس کی تپش اب بھی تیکھی تھی۔ ہم نے قطار بنائی اور ایئر کنڈیشنڈ بسوں میں سوار ہو گئے اس جھلساتی دوپہر میں بس کی ٹھنڈک بڑی خوشگوار محسوس ہوئی۔

​کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ہماری گاڑیاں ایک وسیع و عریض مگر پرانے طرز کی عمارت کے سامنے رک گئیں۔ عمارت کے صدر دروازے پر جلی حروف میں "114" درج تھا۔ "اثراء الخیر" کے ذمہ داران نے پاسپورٹ اپنی تحویل میں لیے، ہماری باقاعدہ گنتی ہوئی اور ہاتھ میں ایک کارڈ بورڈ کا کارڈ تھما دیا گیا جس پر ہمارے بس اسٹاپ کا کوڈ "A-1" درج تھا۔ یہی ہماری پہچان تھی۔ موبائل ایپ کی بدولت ہمیں اپنے کمرے کا نمبر پہلے سے معلوم تھا کمرہ نمبر 106۔

​عزیزیہ کی اس بستی میں ہمیں لگ بھگ ڈیڑھ مہینہ گزارنا تھا۔ ہمارے ساتھ کمرے میں کون لوگ مقیم ہوں گے، ان کا رہن سہن کیسا ہوگا، ان کے نام تو فہرست میں دیکھے تھے مگر مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ان سے شناسائی کی کوئی سبیل نہ بن سکی تھی۔ عمارت کی دوسری منزل پر جب ہم اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو نام کا تو وہ کمرہ تھا، حقیقت میں کسی بڑے ہال سے کم نہ تھا۔ چاروں کونوں میں حجاج کے لیے بستر آراستہ تھے اور بیچ کے کھلے فرش پر ایک پرانا سا قالین بچھا تھا۔ اگر بستر ہٹا دیے جاتے تو اس میں تیس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش نکل آتی، لیکن خدا کا شکر کہ یہ انتظام ہم آٹھ حجاج کے لیے تھا۔ برابر والے ہال میں چھ حجاج ٹھہرائے گئے تھے۔ یوں کل چودہ نفوس۔

مگر  ہمارے لیے محض پانچ ضرب چھ فٹ کا ایک مشترکہ حمام و بیت الخلا تھا۔ عمارت کی لفٹ شاید ساٹھ کی دہائی کی یادگار تھی چار مسافر سوار ہوئے نہیں کہ لفٹ کی سانس پھولی اور بتی گل! ہم دل ہی دل میں مسکرائے کہ شاید ہماری درجہ بندی "ڈی کیٹگری" میں کی گئی ہے۔

​ہماری رہائش گاہ کے قریب ترین مسجد "جامع بن محفوظ" تھی۔ حرم شریف تک شٹل بس کے ذریعے کم و بیش بارہ تیرہ کلومیٹر کا فاصلہ تھا، اور عمارت کے باہر چالو حالت میں گاڑیاں ہر دم تیار کھڑی رہتی تھیں۔ مغرب کی نماز ہم نے عمارت کے زمینی ہال میں باجماعت ادا کی اور ایجنسی کی طرف سے ایک ہلکا سا عشائیہ پیش کیا گیا۔ ادھر زائرین کی حالت ماہیِ بے آب جیسی تھی۔ دس بارہ گھنٹے سے ہم احرام کی حالت میں تھے اور اب یہ تھوڑا  سا فاصلہ بھی مریخ کی مسافت جیسا دُور اور کٹھن لگ رہا تھا۔ دل مچل رہا تھا کہ جلد از جلد خلیل اللہؑ کی تعمیر کردہ پہلی عبادت گاہ میں پہنچ کر عمرے کی ادائیگی کریں۔ مگر حج انسپکٹر بار بار سمجھا رہا تھا:

 "بھائیو! صبر کرو، بھیڑ اور حبس زیادہ ہے، ہجوم بھی بے پناہ ہے، مغرب کے بعد ہی نکلنا مناسب ہے۔"

​خدا خدا کر کے شٹل بس کے ذریعے ہم ایک سرنگ کے دہانے پر پہنچے، وہاں سے گاڑی تبدیل کی اور اجیاد کے قریب بس کا سفر تمام ہوا۔ اب ہم سفید احراموں میں ملبوس، دیوانہ وار لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے بابِ شاہ عبدالعزیز (گیٹ نمبر 1) سے مسجدِ حرام میں داخل ہو رہے تھے۔

​اللہ کی عبادت کا پہلا گھر! احکم الحاکمین کے دربار میں انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ دل دہل رہا تھا اور آنکھیں بے اختیار برس رہی تھیں۔ تلبیہ کہتے کہتے جب ہم رکنِ یمانی کے پاس سے گزر کر حجرِ اسود کے سامنے پہنچے تو اپنی گناہ گار آنکھیں جھکائیں، دونوں ہاتھ اٹھائے، "بسم اللہ، اللہ اکبر" کی صدا بلند کی، دور سے استلام کرتے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں کا بوسہ لیا، اور کعبۃ اللہ کو اپنے دل کی سمت رکھتے ہوئے طواف کا آغاز کر دیا۔

​آگے پیچھے، دائیں بائیں، بس سر ہی سر تھے کوئی الجزائر کا سیاہ فام، کوئی ترکیہ کا سرخ و سپید، کوئی حنائی داڑھی سجائے بنگلہ دیشی، تو کوئی انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان اور بھارت سے آیا ہوا۔ زائرین پروانوں کی طرح اس منور مرکز کے گرد مسلسل چکر کاٹ رہے تھے، جیسے کولہو کا بیل ایک ہی دائرے میں محوِ گردش رہتا ہے۔ کسی کا قد لمبا، کوئی پست قامت، کوئی دبلا پتلا، کوئی فربہ اندام۔ یہاں نہ کوئی مرد تھا نہ عورت۔ نہ کوئی رتبہ باقی تھا نہ وطن کا امتیاز۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ دنیا میں کیا تھا، اس کی بساط کیا تھی اور اس کا حسب نسب کیا تھا۔ سب امتیازات مٹ چکے تھے۔ دل کے کسی گوشے میں ملعون شیطان کی رسائی ممکن نہ تھی۔ بس ایک ہی احساس تھا کہ ہم عاجز، بے بس اور گناہ گار بندے ہیں اور ارحم الراحمین کے حضور اپنی بخشش کی بھیک مانگنے حاضر ہوئے ہیں۔

​یہ بابِ کعبہ ہے یہ ملتزم ہے یہاں لوگ لپٹ کر گریہ کناں ہیں یہ حطیم ہے یہاں ہر شخص دو رکعت نفل کے لیے ترستا ہے یہ رکنِ شامی اور رکنِ عراقی ہیں اور آگے مقامِ ابراہیم ہے جہاں عشاق کی آنکھیں بچھی جا رہی ہیں۔ ہم بھی اس بہاؤ کا حصہ تھے۔ کبھی اپنے قدموں سے چلتے، تو کبھی ہجوم کے دوش پر بہتے چلے جاتے۔ پاؤں تلے کچل جانے کا دھڑکا ضرور تھا، مگر عالم یہ کہ اگر ذرا سا کندھا بھی کسی سے چھو جائے تو سامنے والا جھک کر معافی مانگتا دکھائی دیتا۔

​اسی کشمکش میں عشاء کی اذان کی پرشکوہ گونج سنائی دی۔ قطاریں بنیں اور خودکار انداز میں ہم بھی صف کا حصہ بن گئے۔ محسوس ہوا جیسے دماغ میں کوئی غیبی سافٹ ویئر نصب ہو گیا ہو

 ارادے اور ارادیت کے بغیر ہی تجلیات کا مشاہدہ ہو رہا تھا اور انوار کی بارش میں روح بھیگتی چلی جا رہی تھی۔ یہ وہ نوری برسات تھی جو نیک و بد کی تمیز کیے بنا ہر سر پر یکساں برس رہی تھی۔ طواف کے سات چکر مکمل ہوئے تو مقامِ ابراہیم کے عقب میں شکرانے کی دو رکعتیں ادا کیں۔ اس کے بعد اس چشمۂ آبِ حیات کی طرف بڑھے جو ہزاروں سال قبل حضرت اسماعیل علیہ السلام کی معصوم ایڑیوں کے رگڑنے سے پھوٹا تھا۔ زمزم کے چند گھونٹ گناہ گار حلق میں انڈیلے تو باطن میں ایک عجیب سی طہارت و تازگی اتر گئی۔

​اندر کی صفائی ہوئی تو ہم نے مائی ہاجرہ سلام اللہ علیہا کی یاد میں صفا اور مروہ کے مابین سعی کا آغاز کیا۔ صفا سے مروہ تک، دائیں بائیں وہی نسلِ انسانی کا تنوع

کوئی یوسفِ مصر جیسا خوبرو اور اجلا، تو کوئی بلالِ حبشیؓ کا ہم رنگ۔ مگر سب کے سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے۔ میلینِ اخضرین (سبز ستونوں) کے درمیان پہنچ کر ہم نے اپنے گناہوں کا انبار کاندھوں پر لیے قدرے تیز دوڑ لگائی

ٹھیک اسی مقام پر جہاں ایک بے بس ماں اپنے پیاسے لختِ جگر کی خاطر تڑپ کر دوڑی تھی۔

​سعی مکمل ہوئی تو پیروں پر ورم آ چکا تھا۔ اب سر سے گناہوں کی گٹھری اتارنے کے لیے حلق کروانا تھا یعنی بال منڈوانے تھے۔ یہ وہی بال تھے جن کی روز کنگھی اور سیرم سے دیکھ بھال کی جاتی تھی، مگر آج یہ بوجھ محسوس ہو رہے تھے۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ پروردگار کے حضور اس گناہ گار گردن کا بوجھ ہی ہلکا کر دیا جائے، مگر عشق کا وہ مقام ابھی نصیب کہاں تھا! 

استرے نے ایک ایک بال صاف کیا اور احرام کی پابندیوں سے باہر آ گئے۔

​فارغ ہوئے تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ مسجدِ حرام اور مولود النبیﷺ کے درمیانی صحن میں ہم نے ایک کونے کا انتخاب کیا۔ دل نے حساب لگایا کہ چودہ کلومیٹر دور عزیزیہ جا کر محض دو گھنٹے سونا اور پھر فجر کے لیے بھاگنا بے وقوفی ہے۔ کیوں نہ حرم ہی میں شب گزاری کی جائے!

 مگر ساتھ ہی نفسِ امارہ کا چور بھی سرگوشی کر رہا تھا کہ "خوب رہے گا، دو گھنٹے حرم میں گزارو اور ساری عمر احباب میں ڈھنڈورا پیٹتے پھرو کہ ہم نے تو حرم شریف میں راتیں کاٹی ہیں!"

​نفس کی اسی ہیرا پھیری میں آنکھ لگ گئی۔ خدا بھلا کرے میری اہلیہ کا، جو پاس ہی موجود تھیں۔ انہوں نے جھنجھوڑ کر بیدار کیا اور ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں کہنے لگیں: "یہاں انوار و برکات کی بارش ہو رہی ہے اور تم غفلت کی نیند سو رہے ہو؟ یہ شب و روز زندگی میں بار بار نہیں ملتے، معلوم نہیں یہ سعادت پھر نصیب ہوگی یا نہیں! مرنے کے بعد تو ساری عمر سونا ہی ہے، اب ہوش میں آؤ!"

​بیگم کی اس تنبیہ پر مجھے بے ساختہ صوفی بابا قدرت اللہ شہاب کی اہلیہ محترمہ عفت شہاب یاد آ گئیں۔ محترمہ عفت تو خیر ڈاکٹر تھیں اور میری شریکِ حیات ایک سادہ گھریلو خاتون، مگر اس لمحے وہ روحانی فہم میں پوری کی پوری عفت شہاب پر گئی تھیں۔ میں نے انگڑائی لے کر اپنے نفسِ امارہ کو خوب لتاڑا اور خود کو ملامت کرتے ہوئے ذکر و فکر میں گم ہو گیا، یہاں تک کہ فضا میں تہجد کی دلنواز اذان گونج اٹھی۔

​ہم نے بابِ علی کے پاس ابوجہل کے گھر کے نام سے منسوب غسل خانوں کا رخ کیا، وضو کر کے منہ ہاتھ دھویا، اور ایک بار پھر اپنے رب کے حضور خلیل اللہ علیہ السلام کے دربار میں سربسجود ہونے کے لیے حاضر ہو گئے

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!