مضامین
استاد محترم کو میرا سلام کہنا!

زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے ملتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ہماری نظروں سے اوجھل تو ہو جاتے ہیں، مگر دل سے کبھی دور نہیں ہوتے۔ ان کی باتیں، ان کی نصیحتیں، ان کا اندازِ تربیت اور کبھی کبھی ان کی ڈانٹ بھی یادوں کے دریچوں میں ہمیشہ روشن رہتی ہے۔ استاد بھی ایسی ہی ایک عظیم ہستی کا نام ہے۔ وہ صرف کتاب کے صفحات پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے زندگی کے راستوں پر چلنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
ہر سال 5 ستمبر کو ہندوستان میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی دن نہیں، بلکہ ان تمام اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے ہماری شخصیت کی تعمیر میں اپنا وقت، علم اور محبت صرف کی۔ اس دن جب بچے اپنے اساتذہ کو پھول پیش کرتے ہیں، مبارک باد دیتے ہیں اور ان کے لیے چند الفاظ کہتے ہیں تو دراصل وہ اپنے ماضی، اپنی تربیت اور اپنی کامیابیوں کے ان لوگوں کو یاد کر رہے ہوتے ہیں جن کے بغیر شاید ان کی زندگی کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔
جب میں اپنے تعلیمی سفر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتا ہوں تو بے اختیار ایک نام دل کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے.. محترم منظور صاحب۔ وہ میرے پہلے استاد تھے، جنہوں نے Kirmani Memorial Institute Of Wagoora میں مجھے تعلیم کی ابتدائی منزل سے روشناس کرایا۔ بچپن میں شاید ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ کلاس روم میں ہمارے سامنے کھڑا شخص ہماری آنے والی زندگی پر کس قدر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ اس وقت استاد کی ڈانٹ بھی بڑی لگتی ہے اور سبق یاد کرنا بھی ایک بوجھ محسوس ہوتا ہے، لیکن برسوں بعد جب زندگی کے تجربات انسان کو سمجھ دار بناتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈانٹ بھی محبت تھی اور وہ سختی بھی ہماری بھلائی کے لیے تھی۔
منظور صاحب میرے لیے صرف پہلے استاد نہیں تھے، بلکہ وہ اس راستے کے پہلے رہنما تھے جس پر چلتے ہوئے میں نے علم کی قدر سیکھی۔ ابتدائی عمر میں استاد کے الفاظ ذہن پر جس طرح نقش ہوتے ہیں، شاید بعد میں کسی اور کی بات اتنی گہرائی سے اثر انداز نہ ہو۔ الفاظ کا تلفظ، کتاب سے رشتہ، سوال کرنے کی عادت، دوسروں کا احترام اور اپنے کام کو ذمہ داری سے انجام دینا—یہ سب چیزیں رفتہ رفتہ شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ استاد کا اصل کام صرف یہ نہیں کہ وہ ہمیں نصاب مکمل کرائے۔ ایک اچھا استاد بچے کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ غلطی سے گھبرانا نہیں، سوال کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرنی اور ناکامی کو آخری منزل نہیں سمجھنا۔ وہ طالب علم کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ کبھی ایک جملہ، کبھی ایک حوصلہ افزا نظر اور کبھی ایک چھوٹی سی تعریف بچے کے اندر وہ یقین پیدا کر دیتی ہے جو اسے برسوں آگے لے جاتا ہے۔
استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی عجیب رشتہ ہے۔ اس میں خونی رشتے کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی، مگر اس کے باوجود استاد کی دی ہوئی تعلیم اور تربیت انسان کی شخصیت میں اس طرح شامل ہو جاتی ہے کہ عمر کے کسی بھی حصے میں اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ ایک طالب علم جب کامیاب ہوتا ہے، اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہے اور زندگی میں کوئی مقام حاصل کرتا ہے تو اس کامیابی کے پیچھے اس کے والدین کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ کئی اساتذہ کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تعلیم کو اکثر صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ ہم یہ بھولتے جا رہے ہیں کہ تعلیم کا مقصد ایک اچھا پیشہ ور بنانے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان بنانا بھی ہے۔ اس کام میں استاد کا کردار سب سے اہم ہے۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، صحافی، شاعر، افسر یا کاروباری شخص بننے سے پہلے انسان بننا ضروری ہے، اور انسان کی تعمیر میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آج کے دور میں استاد کے لیے بھی حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے۔ ایک طالب علم چند لمحوں میں دنیا بھر کا علم اپنے موبائل کی اسکرین پر حاصل کر سکتا ہے، لیکن معلومات اور علم میں فرق ہے۔ معلومات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ کیا موجود ہے، جبکہ استاد ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اس معلومات کو زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ انٹرنیٹ بہت کچھ بتا سکتا ہے، مگر کردار سازی، احساس، اخلاق، برداشت اور انسان دوستی کا سبق آج بھی ایک اچھا استاد ہی بہتر انداز میں دے سکتا ہے۔
اسی لیے یومِ اساتذہ پر ہمیں صرف پھول اور تحفے دینے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ استاد کا حقیقی احترام یہ ہے کہ ہم ان کی محنت کو اپنی زندگی میں نظر آنے دیں۔ اگر استاد نے ہمیں سچ بولنے کا سبق دیا ہے تو ہم سچ بولیں۔ اگر انہوں نے محنت کی تلقین کی ہے تو ہم محنت کریں۔ اگر انہوں نے دوسروں کا احترام کرنا سکھایا ہے تو ہم اپنے عمل سے اس تعلیم کو زندہ رکھیں۔ یہی استاد کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے۔
اور آج، اس یومِ اساتذہ کے موقع پر، میں اپنے پہلے استاد محترم منظور صاحب کو دل کی گہرائیوں سے یاد کرنا چاہتا ہوں۔ Kirmani Memorial Institute Of Wagoora کے وہ ابتدائی دن شاید وقت کی گرد میں کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں، مگر ان دنوں کی یادیں آج بھی میرے اندر زندہ ہیں۔ زندگی نے بہت سے چہرے دکھائے، بہت سے لوگ ملے، بہت سے راستے بدلے، مگر پہلا استاد ہمیشہ پہلا استاد رہتا ہے۔
کاش وقت کی رفتار کچھ لمحوں کے لیے رک جائے اور ہم اپنے ان اساتذہ کے سامنے دوبارہ بیٹھ سکیں جنہوں نے ہماری انگلی پکڑ کر علم کی پہلی سطر لکھوائی تھی۔ کاش ہم ان سے کہہ سکیں کہ آپ کی محنت رائیگاں نہیں گئی، آپ کی کہی ہوئی باتیں آج بھی ہمارے ساتھ ہیں، اور آپ کی دی ہوئی روشنی نے زندگی کے کئی اندھیروں میں ہمارا راستہ روشن کیا۔
استاد محترم کو میرا سلام کہنا۔
ان ہاتھوں کو سلام جنہوں نے تختی پر پہلا حرف لکھنا سکھایا۔
ان آنکھوں کو سلام جنہوں نے ہماری صلاحیت کو ہم سے پہلے پہچانا۔
ان لبوں کو سلام جن سے علم، اخلاق اور زندگی کے سبق ملے۔
اور ان تمام اساتذہ کو سلام جنہوں نے اپنے شاگردوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی سال وقف کر دیے۔
آج اگر ہمارے لفظوں میں کوئی ترتیب ہے، سوچ میں کوئی پختگی ہے اور زندگی کے فیصلوں میں کوئی شعور ہے تو اس میں ہمارے اساتذہ کا حصہ ضرور ہے۔
یومِ اساتذہ دراصل استاد کو ایک دن یاد کرنے کا نام نہیں؛ یہ اپنے پورے تعلیمی سفر کے احسانات کو تسلیم کرنے کا دن ہے۔
Khursheenabi47@gmail.com