Ad
ادب

نظم... استاد

✍️ : سید بشارت گیلانی 


مقدر پھر وہیں چمکا، جہاں استاد نے تھاما

وہیں ہونا اجالا تھا، جہاں استاد نے تھاما

--------------------------------

مجھے خود پر یقیں کم تھا، شکن ہر اک جبیں پر تھی

وہیں خود سے ملا رشتہ، جہاں استاد نے تھاما

-------------------------------------

جو منزل دور لگتی تھی، جو رستہ سخت لگتا تھا

سفر ہوتا گیا سادہ، جہاں استاد نے تھاما 

---------------------------------

مجھے تو خوف لگتا تھا پرانے راستوں سے پھر

نیا اک راستہ نکلا، جہاں استاد نے تھاما

-------------------------------

میں اپنی ذات میں الجھا، میں قسمت کا جو مارا تھا

مگر ہر خوف ہی چھوٹا، جہاں استاد نے تھاما 

----------------------------------

جہالت کے اندھیروں میں، اسیرِ پا ہوا تھا جب

مرے دل کا یقیں لوٹا، جہاں استاد نے تھاما 

-----------------------------------

قدم تب لڑکھڑاتے تھے، کٹھن جب راستہ آیا

نہیں وہ راستہ روٹھا، جہاں استاد نے تھاما 

----------------------------------

میں سیّد آج جو کچھ ہوں، مری وہ ذات میں کب تھا

مرا کردار پھر بدلا، جہاں استاد نے تھاما



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!