ادب
نظم... استاد

مقدر پھر وہیں چمکا، جہاں استاد نے تھاما
وہیں ہونا اجالا تھا، جہاں استاد نے تھاما
--------------------------------
مجھے خود پر یقیں کم تھا، شکن ہر اک جبیں پر تھی
وہیں خود سے ملا رشتہ، جہاں استاد نے تھاما
-------------------------------------
جو منزل دور لگتی تھی، جو رستہ سخت لگتا تھا
سفر ہوتا گیا سادہ، جہاں استاد نے تھاما
---------------------------------
مجھے تو خوف لگتا تھا پرانے راستوں سے پھر
نیا اک راستہ نکلا، جہاں استاد نے تھاما
-------------------------------
میں اپنی ذات میں الجھا، میں قسمت کا جو مارا تھا
مگر ہر خوف ہی چھوٹا، جہاں استاد نے تھاما
----------------------------------
جہالت کے اندھیروں میں، اسیرِ پا ہوا تھا جب
مرے دل کا یقیں لوٹا، جہاں استاد نے تھاما
-----------------------------------
قدم تب لڑکھڑاتے تھے، کٹھن جب راستہ آیا
نہیں وہ راستہ روٹھا، جہاں استاد نے تھاما
----------------------------------
میں سیّد آج جو کچھ ہوں، مری وہ ذات میں کب تھا
مرا کردار پھر بدلا، جہاں استاد نے تھاما