Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود قسط نمبر ۱۹

✍️ :. ​عبدالرشید سرشار



بعثتِ نبویؐ سے قبل جزیرۃ العرب کی فکری و مذہبی تصویر

​حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی مقدس وادی، مکہ معظمہ جس کی فضاؤں میں کبھی خالص توحید کے نغمے گونجتے تھے اور جہاں کے   ریتلے ذرے تک  اللہِ واحد کے حضور سجدہ ریز رہنے کا درس دیتے تھے، گردشِ ایام اور جہالت کی تاریکیوں نے رفتہ رفتہ اس کے دامن کو شرک سے آلودہ کر دیا۔ دینِ حنیف کی چمک مدھم پڑتی گئی اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ مرکزِ توحید، یعنی خانۂ کعبہ کے اندر اور اردگرد بھی خود تراشیدہ مورتیاں رکھی گئیں،جن کے آگے انسانوں کے سر جھکتے اور  قربانیاں دی جاتیں

​اس دور کے عرب میں فکری و مذہبی انتشار اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ انسان کا شعور مختلف طبقات میں بٹ چکا تھا۔ ایک طبقہ سرے سے وجودِ باری تعالیٰ کا ہی منکر تھا۔ دوسرا گروہ خدا کو تو مانتا تھا مگر حشر  اور جزا و سزا کے تصور کو خواب و خیال سمجھتا تھا۔ جبکہ ایک تیسرا طبقہ ایسا بھی تھا جو خالق کو تسلیم کرتا اور قیامت کا قائل تھا، مگر نبوت و رسالت کے تصور کو عقل سے بالاتر گردان کر اس کا انکار کر دیتا تھا۔

​بت پرستی کے ساتھ ساتھ ستاروں اور سیاروں کی پوجا بھی جڑ پکڑ چکی تھی۔ یمن کا قبیلہ حمیر آفتاب کا پجاری تھا، قبیلہ کِنانہ چاند کے آگے جبہ سائی کرتا تھا، بنو تمیم ستارہ دَبران کے شیدائی تھے، قبیلہ اسد عُطارد سیارے کی پرستش کرتا تھا، جبکہ لَخمی اور جذام کے قبائل مشتری کو اپنا معبود بنائے بیٹھے تھے۔ تاہم اکثریت بت پرستوں کی تھی، اور ان کی یہ بت پرستی بذاتِ خود مضحکہ خیز فلسفے پر قائم تھی۔ وہ ان پتھروں کو حقیقی خدا نہیں مانتے تھے بلکہ ان کا باطل گمان یہ تھا کہ یہ بت  خدا تک پہنچنے کا وسیلہ  ہیں۔

​ مکہ کی اس پاک  سرزمین پر  بت پرستی کا بانی عمرو بن لُحی تھا جس کا اصلی نام ربیعہ بن حارث تھا۔ بنو خزاعہ  اسی  سردار کی نسل سے تھی۔   عمرو نے بنو جرہم کو کعبہ کی تولیت سے بے دخل کر کے حرم کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ ایک مرتبہ یہ رئیس تجارتی قافلے کے ساتھ شام کی سرزمین پر وارد ہوا، جہاں اس نے بلقاء کے لوگوں کو مورتیوں کے آگے سر جھکاتے دیکھا۔ حیرت سے استفسار کیا ”یہ کیسا عمل ہے اور تم ان پتھروں کو کیوں پوجتے ہو؟“

 انہوں نے جواباً کہا

 ”یہ بت ہمارے حاجت روا ہیں، جنگوں میں ہمیں فتح سے نوازتے ہیں، قحط میں بادلوں کو حکم دے کر بارش برساتے ہیں اور ہماری بگڑی بناتے ہیں۔“ عمرو بن لُحی   اس قدر متاثر ہوا کہ وہاں سے چند بت  اپنے ساتھ لے آیا اور انہیں خانۂ کعبہ کے صحن میں لا کر نصب کر دیا۔ کعبہ چونکہ پورے جزیرۃ العرب کا روحانی اور  قبائلی مرکز تھا، اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پورے خطۂ عرب میں پھیل گئی۔

​عرب کا قدیم ترین بت ”منات“ تھا، جو بحیرۂ احمر کے ساحل پر مشلل (قدید کے قریب) نصب تھا۔ اوس اور خزرج جیسے یثرب کے معزز قبائل اس کی چوکھٹ پر قربانیاں چڑھاتے اور حج کا طواف مکمل کرنے کے بعد اسی کی دہلیز پر جا کر احرام کھولتے۔ قبیلہ ہذیل اور خزاعہ بھی اس کی تعظیم کرتے تھے۔ طائف  میں بنو ثقیف کا معبود ”لات“ تھا، جبکہ وادئ نخلہ میں مکہ کے قریش اور بنو کِنانہ ”عُزّیٰ“ کے آگے سر بسجود ہوتے تھے۔ دومۃ الجندل کے صحراؤں میں بنو کلب ”وَدّ“ کی پوجا کرتے، قبیلۂ مذحج اور یمن کے باشندے ”یغوث“ کے پرستار تھے، ہذیل کے حصے میں ”سُواع“ آیا، قبیلۂ ہمدان نے ”یعوق“ کو تھام رکھا تھا، اور سب سے بڑا اور بارعب بت ”ہُبل“ تھا جسے کعبہ کی چھت پر نہایت عقیدت سے بٹھایا گیا تھا، جس کی جے کے نعرے قریش میدانِ جنگ میں لگایا کرتے تھے۔

​جب قبائلِ عرب اطراف و اکناف سے حج، زیارت اور طواف کے لیے مکہ پہنچتے اور اہلِ حرم کو ان خود تراشیدہ پتھروں کی پرستش میں غرق پاتے، تو ان کی جہالت بھی جوش مارنے لگتی۔ وہ واپسی پر حرم کے پتھر بطورِ تبرک ساتھ لے جاتے اور اپنے دیار میں کعبہ شریف کے بتوں  کی صورت میں تراش کر پوجنا شروع کر دیتے۔ اس اندھی گمراہی کے باوجود ان کے لاشعور سے یہ حقیقت کبھی مکمل طور پر مٹ نہ سکی کہ کائنات کا حقیقی خالق، مالک اور مدبر وہ ذاتِ برتر ہے جسے وہ ”اللہ“ کہتے تھے۔ وہ مصیبت کے وقت پکارتے اسی کو تھے، مگر امن کے دنوں میں اس کے ساتھ انہی بے جان پتھروں کو شریک ٹھہرا دیتے۔

​بت پرستی کے اس ہجوم میں عیسائیت، یہودیت اور مجوسیت بھی اپنے پاؤں پھیلا چکی تھیں۔ یثرب میں یہودیوں کا اثر و رسوخ تھا، ورقہ بن نوفل جیسے صاحبِ علم انجیل کے عبرانی نسخوں کے شناسا اور نصرانیت کے پیروکار تھے، جبکہ قبیلۂ تمیم میں مجوسیت کی تیرہ دستیوں کا یہ عالم تھا کہ ان کے سردار زرارہ تمیمی نے مجوسی احکام کی اندھی تقلید میں اپنی ہی بیٹی سے نکاح کر لیا، کیونکہ اس مذہب میں محرمات کا تقدس پامال کرنا روا تھا۔

​مگر فطرت کا ضمیر بالکل بے جان نہیں ہوا تھا۔ بعثتِ نبویؐ سے ذرا پہلے مکہ میں جب ایک بت کے سالانہ میلے پر جشن برپا تھا اور لوگ عقل و خرد کو بالا طاق رکھ کر پتھروں کے آگے جھک رہے تھے، تو چشمِ فلک نے دیکھا کہ قریش کے چار ذی ہوش افراد ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن جحش، عثمان بن الحویرث اور زید بن عمرو بن نفیل  ایک کونے میں سر جوڑے کھڑے تھے۔ ان کے دلوں پر بجلی سی گری کہ یہ کیسی بے عقلی ہے کہ اشرف المخلوقات انسان ان بے جان پتھروں کے سامنے اپنی پیشانی رگڑے جو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ کسی کو نفع پہنچانے پر قادر ہیں اور نہ کسی کا بال بیکا کر سکتے ہیں!

 یہ چاروں  جوان حق کے متلاشی بن کر دینِ حنیف کی تلاش میں وادیِ مکہ سے نکل کھڑے ہوئے۔

​حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ  روایت کرتی ہیں کہ  زید بن عمرو بن نفیل  کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے  لوگوں سے مخاطب ہیں،  ” کہ اے قریش کے لوگو! واللہ، تم میں سے میرے سوا کوئی ایک شخص بھی ابراہیم کے دین پر باقی نہیں رہا۔“

 تاریخ کا کتنا خوبصورت باب ہے کہ سرورِ کونین، حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اعلانِ نبوت سے قبل  زید بن عمرو بن نفیل کی مجالس میں تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔ بعد ازاں ورقہ بن نوفل اور عبداللہ بن جحش نے عیسائیت اختیار کر لی۔ طائف کا نامور شاعر اور رئیس، امیہ بن ابی صلت بھی ان موحدین کے خیالات سے متاثر ہو کر بت پرستی سے بیزار ہوا اور دینِ حنیف کی باتیں کرنے لگا۔ وہ غزوۂ بدر تک زندہ رہا، مگر بدقسمتی سے جب بدر میں اس کا پھوپھی زاد بھائی عتبہ بن ربیعہ مارا گیا، تو امیہ نے اس پر ایسا پردرد مرثیہ لکھا کہ خاندانی عصبیت نے اس کے دل پر پردہ ڈال دیا اور وہ حق کی آخری دستک یعنی قبولِ اسلام سے محروم رہ گیا۔ اسی لیے آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اشعار سن کر ارشاد فرمایا تھا کہ ”امیہ تو مسلمان ہوتے ہوتے رہ گیا۔“

​اس ظلمت کدے میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرب کو سنبھلنے  والے اشارے بھی دیے۔ یمن کے حاکم ابرہہ نے جب ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبہ کو زمین بوس کرنے کا ناپاک ارادہ کیا، تو ربِ کعبہ نے وادئ محسر میں ابابیلوں کے ننھے لشکر سے وہ سنگ باری کروائی کہ اس کے پورے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح پامال کر دیا۔ اس ہولناک معجزے نے ایک بار تو مکہ والوں کو لرزا دیا اور وہ سچے دل سے توحید کی طرف پلٹے، مگر انسان کی نسیان پسندی نے کچھ ہی عرصے بعد پھر سے انہیں بتوں کی وادی میں لا پھینکا۔

​یہ تھے وہ تاریک اور لرزہ خیز حالات، جب ساری دنیا بالعموم اور عرب کا ریگزار بالخصوص کسی ایسے محسن انسانیت اور نجات دہندہ کے لیے تڑپ رہا تھا جو انسانیت کی ڈوبتی ناؤ کو سنبھالا دے سکے ،جو گردنوں میں پڑے ہزاروں جھوٹے معبودوں کے طوق کاٹ کر انہیں دائمی حریت اور ایک اکیلے، بے نیاز خدا کی سچی بندگی کی معراج عطا کرے۔

​(اگلی قسط میں نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے غارِ حرا کے قیام، مراقبۂ حق اور نزولِ وحی کا  تذکرہ قلمبند کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔)

حالسیڈار، ویریناگ

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!