Ad
سفر نامہ

سفرِ محمود :... قسط نمبر 20

جبلِ نور کی بلندیوں پر غارِ حِرا اور صدائے اقْرَأْ

✍️:. عبدالرشید سرشار 


​دل میں ایک مدّت سے یہ تمنا چٹکیاں لے رہی تھی کہ کب اُس متبرک چوٹی کی زیارت نصیب ہو جہاں کائنات کے سب سے عظیم انسان، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو  نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔

​کعبۂ شریفہ سے شمال مشرق کی جانب کوئی سات آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پرہیبت پہاڑ ایستادہ ہے، جسے دنیا ’جبلِ نور‘ کہتی ہے۔ عزیزیہ سے تقریباً بیس حجاجِ کرام کی معیت میں ہم تین ٹیکسیوں میں سوار ہو کر صبحِ کاذب کی ٹھنڈک میں جبلِ نور کی سمت روانہ ہوئے۔ وادیِ منیٰ اور جمرات کے دائیں جانب سے گھومتے ہوئے، قریباً سولہ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہماری ٹیکسیاں جبلِ نور کے دامن میں جا رکیں۔

​تین برس قبل جب عمرے کی سعادت نصیب ہوئی تھی  تو دامن سے چوٹی تک ایک پتھریلی پگڈنڈی جاتی تھی، مگر اس بار پہاڑ کے سینے پر ایک نیم پختہ، کشادہ سڑک تراشی جا رہی تھی۔ سڑک ابھی تکمیلی مراحل میں تھی،جس پر گاڑیوں کا گزر ممنوع تھا، البتہ چڑھائی قدرے معتدل ہو چکی تھی۔ یوں سمجھیے کہ تقریباً دو کلومیٹر اس ڈھلوان سڑک پر پیدل چلنا پڑا اور پھر چوٹی کے قریب آدھا کلومیٹر وہی پرانا پتھریلا، کھڑا راستہ تھا۔ جبلِ نور کی ساخت دور سے اونٹ کے کوہان جیسی دکھائی دیتی ہے کٹیلی، تیکھی اور سرکش۔ ہمارے ساتھ ضعیف،بزرگ حجاج، مائیں اور بہنیں بھی تھیں، سو ہم بھی ان کے قدم کے ساتھ قدم ملائے چلتے رہے۔ دامن سے چوٹی تک پہنچنے میں ہمیں پورا ایک گھنٹہ لگا۔

​یہ سروں کا ایک عجیب سیلاب تھا جس کا شمار ناممکن نہیں تو دشوار ضرور تھا۔ کوئی گورا، کوئی کالا، کوئی گندمی کوئی دراز قامت، کوئی نحیف و نزار۔ کچھ احرام میں لپٹے اور کچھ معمول کے لباس میں ملبوس۔ نوجوان تیزی سے ڈگ بھر رہے تھے، جبکہ بزرگ لاٹھیوں کے سہارے سانس درست کرتے جاتے۔ ایک ہم تھے جو اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھامے، خراماں خراماں درمیانی رفتار سے رواں دواں تھے۔ ہمارے  ساتھی خوشی سے سرشار، کشمیری نعتوں اور ترانوں کے زمزمے لبوں پر سجائے، کوہِ طور سے بھی بلند اس نورانی پہاڑ کی صعوبت کو خاطر میں لائے بغیر آگے بڑھ رہے تھے۔ یوں گمان ہوتا تھا جیسے رضوان نے خلدِ بریں کے دروازے وا کر دیے ہوں اور پروانے والہانہ دوڑ لگا رہے ہوں۔

​دھوپ بتدریج تیور بدل رہی تھی اور پیشانی پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے تھے۔ حلق کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی بوتل ہم قدم تھی جبکہ سر پر بڑی سی چھتری۔ راستے میں غیر مقامی لوگ برفیلے پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر پانچ پانچ ریال میں چھوٹی بوتلیں بیچ کر زائرین کے ساتھ تجارت کر رہے تھے۔

​پہاڑ کی چوٹی سے مکہ مکرمہ کی سمت کوئی تیس میٹر نیچے اتریں تو بے ترتیب چٹانیں باہم سر جوڑے کھڑی ہیں۔ ان چٹانوں کے بیچ ایک قدرتی، تنگ سرنگ نما راستہ بن گیا ہے۔ کہیں جھک کر، کہیں بیٹھ کر اور کہیں سر کو چٹانوں کی ضرب سے بچاتے ہوئے دس میٹر کا فاصلہ طے کر کے مغرب کی جانب نکلیں، تو دو تین میٹر مزید نیچے وہ تاریخی دراڑ نما غار نظر آتی ہے جسے تاریخ ’غارِ حِرا‘ کے نام سے جانتی ہے۔

​یہ غار دراصل چٹانوں کے ملاپ سے بنی ایک مختصر سی پناہ گاہ ہے لمبائی قریباً چار میٹر، چوڑائی ڈیڑھ پونے دو میٹر، جس میں بمشکل تین چار آدمی بیٹھ سکیں یا ایک بندہ اطمینان سے سجدہ ریز ہو سکے ،بلندی اتنی کہ درمیانے قد کا انسان سیدھا کھڑا ہو جائے۔ دہانہ ایسا قدرتی توازن لیے ہوئے ہے کہ تیز دھوپ اندر نہیں جھانک سکتی، لیکن خنک اور تازہ ہوا کا گزر مسلسل رہتا ہے۔

​غار کے دہانے پر پہنچتے ہی نگاہیں کلاک ٹاور کی بلند عمارتوں سے پرے، شام و اناطولیہ کی سرحدوں کو پار کرتی ہوئی چودہ سو برس پیچھے چلی گئیں۔ وہ منظر آنکھوں میں پھر گیا جب  آمنہ کا لال، مکہ کی آلودہ اور پر فتن فضاؤں سے کنارہ کش ہو کر، اپنے رب کے حضور سربسجود ہونے کے لیے تن تنہا اس بلندی پر تشریف لایا کرتا تھا۔

​یہ سلسلہ بعثت سے تقریباً تین سال قبل شروع ہوا تھا۔ سال بھر کے متفرق دن اور بالخصوص ماہِ رمضان کی پرسکون راتیں۔ کل ملا کر تین چار ماہ کا عرصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی خلوت گاہ میں ربِ کائنات کے تفکر میں گزارا۔ اُس وقت عربوں کا سب سے پسندیدہ زادِ راہ ستو تھا، جو جلدی خراب نہیں ہوتا تھا اور بغیر چولہا جلائے صرف پانی میں گھول کر پیا جا سکتا تھا۔ ساتھ میں چند کھجوریں اور چمڑے کے ایک چھوٹے مشکیزے میں تھوڑا سا میٹھا پانی۔ رسولِ عربیؐ کی وفاشعار رفیقۂ حیات سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اپنے مبارک ہاتھوں سے یہ سادہ توشہ تیار کر کے الوداع کرتیں، اور جب توشہ ختم ہو جاتا تو آپؐ نیچے تشریف لاتے، نیا زادِ راہ لیتے اور پھر اسی خلوت کدے میں لوٹ جاتے۔ بسا اوقات اماں خدیجہؓ خود اپنے خادم کے ہاتھ اس دشوار گزار چوٹی تک کھانا بھجوا دیا کرتی تھیں۔

​غار کی تنہائی میں حضورؐ کے دل پر انسانیت کا کتنا گہرا درد تھا! 

یتیموں کی بے بسی، بیواؤں کی تذلیل، مسکینوں پر روا رکھی گئی ستم ظریفی، کمزور پر طاقتور کا جبر، غلاموں کی منڈیاں اور اشرف المخلوقات کا بے جان پتھروں کے آگے ماتھا رگڑنا یہ اور ایسے ہی سوالوں کا درد سینے میں سمیٹے آپؐ راتوں کو کائنات کے مالک کے سامنے گریہ و زاری فرماتے تھے۔

​اور پھر وہ تاریخ ساز گھڑی آئی جب کائنات کا مقدر جاگ اٹھا۔ ماہِ رمضان کی  بابرکت ستائیسویں رات تھی کہ اچانک غار کا سکوت ٹوٹا اور وحی کے امین حضرت جبرائیل علیہ السلام ایک انسانی روپ میں نمودار ہوئے۔

اقْرَأْ  پڑھیے

حضورؐ نے طبعی عاجزی سے فرمایا  میں پڑھنا نہیں جانتا۔

فرشتے نے آپؐ کو اپنی آغوش میں لیا اور اس شدت سے بھینچا کہ آپؐ کی قوت جواب دینے لگی۔ پھر چھوڑ کر کہا

 پڑھیے

 آپؐ نے پھر وہی جواب دیا۔ دوسری بار پھر سینے سے لگا کر دبایا اور چھوڑ کر فرمایا

 پڑھیے

 تیسری بار جب اسی والہانہ انداز میں بھینچ کر چھوڑا تو وحیِ الٰہی کے پہلے زمزمے نازل ہوئے

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۝ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۝ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۝ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ۝

​نبوت کے اس عظیم اور ہیبت ناک بوجھ سے آپؐ کا قلبِ اطہر لرز رہا تھا۔ فوراً غار سے اترے، سیدھے گھر تشریف لائے اور فرمانے لگے

 زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي

 مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو

 جب کپکپاہٹ قدرے تھمی تو غمگسار بیوی حضرت خدیجہؓ نے تاریخ ساز تسلی دی

ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو قرابت داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کو کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں پیش آنے والی مصیبتوں پر دستگیری فرماتے ہیں۔

​پھر وہ آپؐ کو اپنے بزرگ چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو  توریت اور انجیل کے  عالم تھے۔ ورقہ یہ  احوال سن کر پکار اٹھا

هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى

یہ تو وہی رازدار فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا!

​حاجی صاحب

ذرا آگے چلیے، راستہ خالی کیجیے!

کسی زائر کی پرجوش آواز نے میرے تخیل کے دھاگے اچانک توڑ دیے اور میں بادلِ ناخواستہ ماضی کی اس پرنور وادی سے نکل کر حال کی دھوپ میں آ کھڑا ہوا۔ غار کے تنگ دہانے پر بلامبالغہ سینکڑوں پروانے عشق و عقیدت کی آگ میں جلنے کے لیے بے تاب کھڑے تھے۔ اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ویسے بھی ہماری مشرقی سرشت کا یہ خاصہ ہے کہ ایک بار جگہ مل جائے تو دوسروں کے لیے خالی کرنا گوارا نہیں کرتے۔ میں نے دھکم پیل کر کے زائرین کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا، کیونکہ حدودِ حرم میں کسی کو ایذا پہنچانا ویسے بھی حرام ہے۔ ہم نے اسی تصوراتی حلاوت کو غنیمت جانا، جو اللہ نے قلب و ذہن میں اتاری تھی۔ چٹانوں کی ہیبت دیکھ کر لگتا تھا کہ ابھی نیچے آ گریں گی، مگر چودہ سو سال سے رب کے حکم پر اپنے مقام پر تھمی ہوئی ہیں۔ ایک طرف کسی سرفروش نے جائے نماز بچھا رکھی تھی

 ہم نے وہیں دو رکعت نفلِ شکرانہ ادا کیے۔

​سورج اب پوری تمازت کے ساتھ چمک رہا تھا۔ میں نے اہلیہ کا ہاتھ تھاما اور احتیاط کے ساتھ سیڑھی نما پگڈنڈی سے اترتے ہوئے دامن کی سڑک پر آ گئے۔ ذہن میں بار بار یہ خیال گردش کر رہا تھا کہ وہ سنگریزے کس قدر خوش نصیب تھے جو سرورِ کونینؐ کے مبارک قدموں کو چھوا کرتے تھے۔

​واپسی پر ہم نے ایک عرب ڈرائیور کی ٹیکسی پانچ پانچ ریال فی سواری پر عزیزیہ کے لیے طے کی۔ موصوف پکے بدو معلوم ہوتے تھے، جنہیں عربی کے سوا نہ اردو آتی تھی نہ انگریزی۔ ہر موڑ پر کندھے اچکا کر مسکینی سے کہتے انا مسکین

 انا مسکین

ہمیں بھی ظرافت سوجھی، فوراً ترکی بہ ترکی بولے واللہ غنی واللہ غنی، یا صدیق!

اللہ ہی غنی ہے میرے دوست۔ وہ بے ساختہ ہنس پڑا۔ موصوف کو جدید ٹیکنالوجی یعنی گوگل میپ کا  کچھ بھی پتا نہ تھا، سو عزیزیہ کے بجائے گاڑی کو گھما کر منیٰ کی حدود کے قریب لے گئے۔ بالآخر ہم نے ٹیکسی تبدیل کی۔ دوسری ٹیکسی ایک بنگالی ڈرائیور کی تھی، جس نے کمالِ مہارت اور پیشہ ورانہ راستوں سے ہوتے ہوئے ہمیں ہماری رہائش گاہ، جامع بن محفوظ کے پاس بحفاظت اتار دیا۔

​آج کا دن سفرِ حرمین کا ایک باکمال اور انمٹ دن تھا۔ سچ پوچھیے تو ظاہری آنکھوں کی بہ نسبت باطنی بینائی کے سہارے ہم نے اس بابرکت سفر کا زیادہ حصہ طے کیا اور انوار و تجلیات کی وہ خنکی دل میں سمیٹ لائے جو عمر بھر کے لیے کافی ہے۔

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!