Ad
جموں و کشمیر

ہردشورہ ٹنگمرگ میں نوجوان ادیب و شاعر طارق منور کے اردو ناول ’’یتیم آنسو‘‘ کی پروقار رسمِ رونمائی۔

ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے اشتراک سے تقریب کا انعقاد،ادبی و علمی شخصیات کی شرکت،ناول پر سیر حاصل تبصرے اور مصنف کی کاوش کو سراہا گیا۔

ہردشورہ،ٹنگمرگ 23 اکتوبر 2026 (جمعہ) نوجوان ادیب و شاعر طارق منور کے اردو ناول ’’یتیم آنسو‘‘ کی رسمِ رونمائی آج گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول ہردشورہ ٹنگمرگ میں ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کے اشتراک سے نہایت وقار اور ادبی جوش و جذبے کے ساتھ انجام دی گئی۔اس موقع پر علاقے کی نامور ادبی،علمی اور سماجی شخصیات کے علاوہ معزز باشندگان اور ادب سے گہری دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔تقریب کا بنیادی مقصد نوجوان قلم کار کی ادبی کاوش کو سراہنے،اردو ادب کے فروغ اور معاشرے میں کتاب و مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل میں تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت اطہر شبیر نے حاصل کی جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ مختار احمد شیخ نے پیش کی۔روحانی اور ادبی ماحول میں منعقدہ اس تقریب نے شرکاء کو ایک ایسی محفل میں شرکت کا موقع فراہم کیا جہاں تخلیقی ادب،فکری مکالمے اور علمی اظہار کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

تقریب کی صدارت گورنمنٹ ماڈل ہائر سیکنڈری اسکول ہردشورہ کے پرنسپل محترم فیاض احمد نے کی جبکہ ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے ایوانِ صدارت میں موجود رہے۔اس کے علاوہ اسکول کے وائس پرنسپل محمد اسحاق راتھر،معروف سماجی کارکن اور ادیب منتظر مومن وانی،سید نادم بخاری،ساگر نظیر،امین اشرف،غلام محمد شاہ،لیلا فردوس نازکی اور رشید روشن بٹ سمیت متعدد معزز شخصیات نے تقریب میں شرکت کرکے محفل کی رونق اور وقار میں اضافہ کیا۔

تقریب کے دوران ناول ’’یتیم آنسو‘‘ پر علمی و ادبی گفتگو کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری نے اپنے منفرد اسلوب اور فکری انداز میں ناول پر ایک خوبصورت اور جامع مقالہ پیش کیا۔انہوں نے اپنی گفتگو میں ناول کے ادبی پہلوؤں،موضوعاتی اہمیت اور انسانی احساسات کی ترجمانی جیسے نکات کو اجاگر کرتے ہوئے اس امر کی اہمیت بیان کی کہ ادب محض الفاظ اور واقعات کی ترتیب کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کے تجربات،احساسات،محرومیوں اور معاشرتی حقائق کو سمجھنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔انہوں نے نوجوان قلم کاروں کی تخلیقی کاوشوں کی پذیرائی کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ضروری قرار دیا۔

اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی ناول اور اس کے ادبی و فکری پہلوؤں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔منتظر مومن وانی،ساگر نظیر،محمد اسحاق راتھر،لیلا فردوس نازکی،سید نادم بخاری اور دیگر شرکاء نے اپنے اپنے انداز میں مصنف کی ادبی کاوش کو سراہا اور کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کتابوں کی رونمائی جیسی تقریبات نہ صرف مصنفین کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ معاشرے میں مطالعے کی روایت کو مضبوط کرنے اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نوجوان نسل کو کتابوں،تخلیقی تحریر اور زبان و ادب سے قریب لانے کے لیے تعلیمی اداروں اور ادبی تنظیموں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔اس نوعیت کی تقریبات طلبہ کو ادبی شخصیات سے براہِ راست استفادہ کرنے،اظہارِ خیال کی صلاحیت پیدا کرنے اور مطالعے کی اہمیت سمجھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں ادبی سرگرمیوں کا انعقاد طلبہ کی فکری تربیت اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

تقریب کی نظامت معروف شخصیت پیرزادہ عبدالحق نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ان کی نظامت نے محفل کے مختلف مراحل کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے اور شرکاء کو پروگرام کے ساتھ منسلک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر خطبۂ استقبالیہ ماسٹر عبدالرؤف راحت نے پیش کیا جس میں انہوں نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے تقریب کی اہمیت اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پروگرام کے اختتام پر اظہارِ تشکر کے فرائض وائس پرنسپل محمد اسحاق راتھر اور اشفاق احمد نے انجام دیے۔انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے والی تمام شخصیات،مقررین،منتظمین،ذرائع ابلاغ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس ادبی محفل کو کامیاب بنانے میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا۔

ناول ’’یتیم آنسو‘‘ کی رسمِ رونمائی کے ذریعے نوجوان ادیب و شاعر طارق منور کی ادبی کاوش کو ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔یہ تقریب اس بات کی عکاس تھی کہ کشمیر میں اردو زبان و ادب کے فروغ نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور علمی و ادبی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ادبی تنظیمیں اور تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر کی جانب سے منعقدہ یہ ادبی تقریب شرکاء کے لیے ایک خوشگوار علمی و ادبی تجربہ ثابت ہوئی جس نے کتاب،مطالعے اور تخلیقی اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ادبی سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت کو بھی نمایاں کیا۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!