Ad
مضامین

سرینگر کی سانس کیوں بھاری ہو رہی ہے؟

✍🏼 اِکز اِقبال / سہی پورا قاضی آباد 


رابطہ: 7006857283

سرینگر میں سردیوں کی صبح اب محض سرد نہیں ہوتیں، بوجھل بھی ہوتی ہیں۔ آنکھوں میں جلن، سینے میں دباؤ اور فضا میں پھیلا ہلکا سا دھواں ہمیں بتا دیتا ہے کہ ہوا کا معیار محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے، جو ہر سانس کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔

ہم اکثر بحث کرتے ہیں کہ آخر قصور کس کا ہے۔ کوئی گاڑیوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کوئی حماموں کی چمنیوں کو، کوئی موسم کو۔ مگر سچ یہ ہے کہ سرینگر کی آلودہ ہوا کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی لاپرواہی کا عکس ہے، جسے قدرتی جغرافیہ اور موسم مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔

دنیا بھر کی تحقیق اس بات پر متفق ہے کہ شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں کا دھواں ہے۔ سرینگر میں بھی گزشتہ برسوں میں گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ تنگ سڑکیں، ٹریفک جام، پرانی ڈیزل گاڑیاں، ناقص مینٹیننس اور گھنٹوں چلتے انجن—یہ سب مل کر فضا میں باریک زہریلے ذرات چھوڑتے ہیں جو انسانی پھیپھڑوں اور خون تک پہنچ جاتے ہیں۔

دفتر کے اوقات میں کسی مصروف چوراہے پر کھڑے ہو کر یہ حقیقت کسی رپورٹ کے بغیر بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ دھواں نظر آتا ہے، سانس میں اترتا ہے، اور خاموشی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ دن کے اوقات میں AQI کا بڑھنا براہِ راست ٹریفک کے دباؤ سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ محض اندازہ نہیں، سائنسی حقیقت ہے۔

مگر اگر ہم صرف گاڑیوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر مطمئن ہو جائیں تو یہ خود فریبی ہوگی۔ سردیوں میں سرینگر کی آلودگی میں گھریلو حرارتی نظام ایک بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ حمام، بخاری، اور روایتی ایندھن سے چلنے والے چولہے شام ہوتے ہی دھواں اگلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک چمنی شاید غیر اہم لگے، مگر جب ایسی سینکڑوں چمنیاں ایک ساتھ دھواں چھوڑتی ہیں تو پورے محلوں کی فضا متاثر ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ رات کو ٹریفک کم ہونے کے باوجود ہوا مزید خراب کیوں ہو جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب موسم اور جغرافیہ میں پوشیدہ ہے۔ سرینگر ایک وادی میں واقع ہے، جہاں سردیوں میں درجۂ حرارت کی الٹ پلٹ (temperature inversion) آلودگی کو زمین کے قریب قید کر دیتی ہے۔ جو دھواں شام کو اٹھتا ہے، وہ بکھرنے کے بجائے وہیں معلق رہتا ہے۔

اس لیے مسئلہ کو گاڑی بمقابلہ حمام کے زاویے سے دیکھنا غلط ہوگا۔ آلودگی کسی اخلاقی دلیل کو نہیں مانتی۔ یہ جمع ہوتی ہے، بڑھتی ہے، اور پھر اثر دکھاتی ہے۔ دن بھر گاڑیاں فضا کو آلودہ کرتی ہیں، اور شام کو گھریلو حرارت اس میں مزید زہر گھول دیتی ہے۔ وادی کا جغرافیہ اس سب کو باہر جانے نہیں دیتا۔

ایک اور نظرانداز کی جانے والی وجہ سڑکوں کی گرد، تعمیراتی سرگرمیاں، اور کچرا جلانا ہے۔ کچی سڑکیں، بغیر ڈھکے تعمیراتی مقامات، اور جگہ جگہ جلایا جانے والا کچرا PM10 کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے۔ خاص طور پر پلاسٹک جلانے سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں خاموش قاتل ثابت ہوتی ہیں۔

کبھی کبھار بیرونی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ میدانوں سے آنے والی گرد یا علاقائی سطح پر ہونے والی فصلوں کی باقیات کا جلایا جانا سرینگر کی فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بنیادی وجہ نہیں، مگر پہلے سے آلودہ ہوا کو مزید خراب ضرور کر دیتا ہے۔

تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر سنجیدگی کی کمی نظر آتی ہے۔ نگرانی کے مراکز محدود ہیں، قوانین پر عمل کمزور ہے، عوامی ٹرانسپورٹ ناکافی ہے، اور صاف حرارتی متبادل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔ ماحولیات پر بات تو بہت ہوتی ہے، مگر طرزِ عمل کم بدلتا ہے۔

اس آلودگی کی سب سے بڑی قیمت انسان ادا کرتا ہے۔ بچے، بزرگ، دمہ اور دل کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ فضائی آلودگی اچانک حملہ نہیں کرتی؛ یہ روز تھوڑا تھوڑا نقصان پہنچاتی ہے، یہاں تک کہ جسم جواب دے دیتا ہے۔

حل موجود ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت کو تسلیم کریں۔ گاڑیوں کے لیے سخت معائنہ، بہتر عوامی نقل و حمل، پیدل چلنے والوں کے لیے سہولت، اور غیر ضروری گاڑی استعمال میں کمی ناگزیر ہے۔ سردیوں میں حرارت کے لیے صاف ایندھن، بہتر ڈیزائن، اور حکومتی معاونت ضروری ہے۔ تعمیرات اور کچرا جلانے پر سختی سے قابو پانا ہوگا۔

سب سے بڑھ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ صاف ہوا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، ہماری بھی ہے۔ ہم کیسے گاڑی چلاتے ہیں، کیسے گرمائش حاصل کرتے ہیں، اور کیسے کچرا ٹھکانے لگاتے ہیں—یہ سب ہماری سانسوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔

سرینگر کی ہوا فطرتاً دشمن نہیں۔ یہ ہمارے اعمال کا ردِعمل ہے۔ اگر ہم نے مجموعی نقصان کو نظرانداز کیا، تو دھند گہری ہوتی جائے گی—اور اس کے متاثرین خاموشی سے بڑھتے جائیں گے۔

مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔ رابطہ کے لیے ایمیل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!