Ad
مضامین

سکھ اور دکھ کی حقیقت

✍️:. منظور احمد نداف 


کیا سکھ، دکھ حقیقی ہیں یا محض ذہن کی بناوٹ؟ سکھ اور دکھ کا تعلق ہمارے، میں اور "میرا" سے ہے۔ جہاں کہیں "میں" یا "میرا" کا احساس موجود ہوتا ہے، وہیں کوئی تبدیلی یا واقعہ ہمیں خوش یا رنجیدہ کر دیتا ہے۔

"میراپن" ہی سکھ دکھ کی جڑ ہے

کوئی چیز، کوئی رشتہ، یا کوئی حالات جب تک "میرا" ہے، ہم اس سے وابستہ رہتے ہیں۔ اس میں ہونے والی تبدیلی ہمارے جذبات کو متاثر کرتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر آپ کے پاس کوئی چیز ہے جو آپ کو فائدہ پہنچا رہی ہے، تو اس کے ٹوٹنے یا خراب ہونے پر آپ دکھ محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے اسے بیچ دیا ہے اور پھر وہ ٹوٹ جاتی ہے، تو آپ خوش ہوتے ہیں کہ آپ نقصان سے بچ گئے۔ یہاں فرق صرف "میرے" اور "تیرے" کا ہے۔

شادی کے بعد جب تک بیوی سے تعلق قائم ہے، ایک دوسرے کے ہر عمل پر خوشی یا تکلیف ہوتی ہے۔ طلاق کے بعد وہی شخص بیگانہ ہو جاتا ہے، اُس کے ساتھ کچھ بھی ہو، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح، اپنے بال اور داڑھی کی ہم بڑی حفاظت کرتے ہیں، لیکن جب وہ کٹ کر پاؤں تلے آ جائیں تو ہمیں کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ "میرا" کا رشتہ ختم ہوتے ہی ہمارا لگاؤ ختم ہو جاتا ہے۔

ضرورت اور خواہش میں فرق

سکھ اور دکھ اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہماری خواہشات پوری ہوں یا نہ ہوں۔ جسم کو کھانے، پینے اور کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہم ضرورت کو خواہش میں بدل دیتے ہیں۔ ہم ذائقے کے لیے کھاتے ہیں، دکھاوا کرنے کے لیے کپڑے پہنتے ہیں، اور معزز بننے کے لیے کام کرتے ہیں۔ جب تک ہم صرف ضروریات پر توجہ دیتے ہیں، ہم پر سکھ یا دکھ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لیکن جب ہم خواہشات کے دائرے میں آ جاتے ہیں، تو ہر پورا نہ ہونے والی خواہش دکھ بن جاتی ہے۔

لگاؤ کی بنیاد: فائدہ

ہمارا لگاؤ ہمیشہ اُس چیز یا شخص سے ہوتا ہے جس سے ہمیں کوئی فائدہ مل رہا ہو۔ جب تک ماں دودھ پلا رہی ہے، وہ پیاری ہے۔ جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے اور بیوی سے فائدہ ملنے لگتا ہے، تو توجہ بیوی کی طرف ہو جاتی ہے۔ رشتے درحقیقت فائدے کے تعلق ہیں۔ جب فائدہ ختم ہو جاتا ہے، تو رشتہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ کوئی بری بات نہیں، بلکہ دنیا کا ایک فطری نظام ہے۔

سکھ دکھ سے نجات کا راستہ

سکھ اور دکھ سے آزادی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم "میراپن" کے دائرے سے باہر نکلیں۔ جب ہم کسی چیز کو "میرا" سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں، تو اُس کی حالت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو جائیں، بلکہ ہم صرف ضروریات پر توجہ دیں اور خواہشات سے دور رہیں۔

ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ہمیشہ ایمانداری اور نیک اعمال کو اپنائیں۔ ایمانداری ہی حقیقی آزادی کی کلید ہے۔ اگر ہم سچے دل سے اپنے فرائض انجام دیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، تو ہم نفسیاتی غلامی سے آزاد ہو سکتے ہیں۔

سکھ اور دکھ حقیقی نہیں، بلکہ ہمارے ذہن کی پیداوار ہیں۔ یہ "میں اور "میرا" کی دیوار کے اندر ہی موجود ہوتے ہیں۔ جب ہم اس دیوار کو توڑ دیتے ہیں، تو نہ سکھ رہتا ہے نہ دکھ صرف ایک گہرا سکون اور اطمینان باقی رہ جاتا ہے۔ زندگی کو سادگی سے، صرف ضروریات کے مطابق گزارنا ہی اس سکون تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

یہ سمجھ لینا کہ دنیا میں سب کچھ عارضی ہے، اور ہم سب ایک دن اس جسم کو چھوڑ کر چلے جائیں گے، ہمیں "میراپن" کے جال سے آزاد کر سکتا ہے۔ جب ہم اپنی خواہشات کو کم کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق جینا سیکھتے ہیں، تو ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہو جاتے ہیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!