افسانہ
ہبہ..... افسانہ

غفار کاک صبح سے ہی بہت خوش تھا، بلکہ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ ہر کسی سے چہک چہک کر باتیں کر رہا تھا۔ مٹی کے چولہے پر توا اور دیگچی
چڑھی تھی۔ اس کی بیوی خدیجہ مکئی کی روٹیاں بنانے میں مصروف تھی؛ کبھی ہانڈی سے ابلی ہوئی چائے پیالیوں میں انڈیلتی، کبھی توے پر روٹی کو الٹ پلٹ دیتی تاکہ وہ جل نہ جائے اور کبھی تسلے میں گوندھے ہوئے آٹے سے موٹی موٹی روٹیاں پکاتی۔ خوشی کے مارے اس کا دماغ بھی آسمان پر تھا۔
"چچی! کہیں ہاتھ جل نہ جائے، وہ دیکھیے چائے دیگچی میں ابل رہی ہے، ذرا آنچ دھیمی کرو،" شکیلہ نے خدیجہ کی حالت دیکھ کر کہا۔
خدیجہ نے جواب دیا، "پگلی! مجھے آج جلنے کا بالکل خوف نہیں ہے، میں خوشی سے نہال ہو رہی ہوں۔ ذرا اپنے چچا غفار کو بھی چائے پلاؤ، صبح سے اس کے پاؤں کہیں ٹکتے ہی نہیں۔ سوچتی ہوں کہ کہیں ہم دونوں خوشی سے پاگل نہ ہو جائیں۔"
غفار کاک ہمسایوں سے کہہ رہا تھا، "مظفر! اور چائے پیو، تم نے روٹی نہیں کھائی؟ ہاں آکاش! تو نے صرف تین پیالیاں ہی چائے پی، اور پیو۔" اس نے خدیجہ سے کہا تھا کہ سارے ہمسایوں کو چائے پر بلائے، کوئی پیچھے نہ رہے۔ "عقیقہ پر شاندار دعوت ہوگی، بڑا جانور ذبح کر کے سارے گاؤں کو بلاؤں گا۔ اپنے پرائے سب کی دعوت ہوگی۔ آج خدا نے اس گھر کا دروازہ پھر سے کھول دیا، نہ معلوم کس کی دعا قبول ہوئی۔ میرے لختِ جگر صابر کو خدا نے چاند سا بیٹا دیا ہے۔" بات کرتے کرتے غفار کاک خاموش ہو گیا۔
سبزار نے پوچھا، "غفار کاک! بچے کی پیدائش کہاں ہوئی؟"
غفار کاک نے جواب دیا، "میری رائے تھی کہ عائشہ پرانی اور تجربہ کار دائی ہے، گھر پر ہی ولادت ہو جائے، مگر صابر نے میری بات نہیں مانی۔ کہتا تھا کہ شہر کے بڑے ہسپتال میں آمنہ کو داخل کرایا ہے جہاں بڑے بڑے ڈاکٹر اور نرسیں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ شاید ایک دو روز میں ہسپتال سے چھٹی ملے گی۔"
پھر وہ زچہ اور بچہ کے لیے نئے کپڑوں، دیسی چاول، صاف دھلے ہوئے گیہوں، سرسوں کے تیل، دیسی گھی، الائچی، سونف، نمک لاہوری اور خالص دیسی مصالحوں کی گردان کرنے لگا، جو ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد اس کی بہو آمنہ کے لیے ضروری تھے اور اسے میکے لے جانا تھا۔
غفار کاک "اسد جو" کا دوسرا بیٹا تھا۔ اسد جو کے چار بیٹے تھے، اس نے چاروں کی شادیاں کیں۔ وہ پن چکی چلاتا تھا اور اس کے گھر میں ہر وقت لوگوں کا آنا جانا رہتا تھا۔ بڑھاپے میں بھی وہ کام کاج کرتا تھا اور خدا نے ہر طرح سے اسے نوازا تھا۔ بیٹے، پوتے، پوتیاں سب تھے، مگر غفار کاک کی دوسری شادی کے باوجود اس کے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ نہ معلوم کتنے پیر فقیر اسد جو کے ہاں آتے، چلہ کاٹتے، تعویز دیتے اور دم کرتے۔ ہر کوئی اسد جو کو یقین دلاتا کہ عنقریب غفار کاک کی گود ہری ہو جائے گی۔ کوئی ہدیہ میں گائے لے جاتا، کوئی قربانی کا بچھڑا اور کوئی گیارہ گز لمبی اونی چادر، مگر غفار کاک کی گود سونی ہی رہی۔ کوئی آستان، کوئی درگاہ ایسی نہ تھی جہاں غفار کاک کے لیے اسد جو نے تپسیا نہ کی ہو۔
تب زنانہ اور مردانہ امراض کا علاج ہسپتال میں کرانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ جب بھی کوئی اسد جو کو ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیتا، وہ کہتا، "نادان! یہ تو خدا کا راز ہے، کسی کو بیٹے دیے تو کسی کو بیٹیاں، کسی کو دونوں اور کسی کو خالی دامن رکھا۔ میں تو فلاں مجذوب کے پاس گیا تھا۔ غفار کی بیوی زرینہ نے مکئی کی گیارہ روٹیاں بڑے شوق سے پکائی تھیں، مگر اس عارف باللہ نے روٹیوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔"
اس دوران غفار کاک نے پن چکی کا پورا کاروبار سنبھالا۔ وہ زمینداری کرتا، بہار میں زمین جوتتا، بیج بوتا، فصلوں کی گڑائی کرتا اور فالتو وقت میں مال مویشی چراتا۔ کبھی کبھی دوسرے گاؤں دیہات چلا جاتا اور وہاں سے بھیڑ بکریاں خرید کر لاتا، بیوپاری کو بیچتا اور گھر چلاتا۔
اسد جو کے گھر میں چار بہوئیں تھیں۔ جب بڑا لڑکا الگ ہونے لگا تو غفار کاک نے بہت سمجھایا کہ مشترکہ گھر ٹھیک ہے، سب اتفاق سے رہیں گے تو چار پیسے کما لیں گے اور کوئی دشمن حاوی نہیں ہوگا، مگر سلام نے ایک نہ سنی۔ اس پر چولہا الگ کرنے کا بھوت سوار تھا۔ غفار کاک نے اسد جو کو بھی سمجھایا، جو کسی صورت بڑے بیٹے کے الگ ہونے پر راضی نہیں تھا۔ ہزار جتن کے بعد اس نے بڑے لڑکے کا حصہ الگ کیا اور دیگر تینوں کو جمع کر کے نصیحت کی، "سلام نالائق اور بے وفا نکلا، اب تم تینوں عورتوں کے بہکاوے میں آکر الگ نہ ہونا۔ اور ہاں سنو! غفار بے اولاد ہے، وہ تمہارا بڑا بھائی ہے۔" یہ کہتے کہتے اسد جو کی آواز رندھ گئی اور سب بھائی رونے لگے۔
احمد نے اسی محفل میں اسد جو اور غفار کاک کی ڈھارس بندھائی، "بابا! آپ کی باتوں سے میرا جگر چھلنی ہو گیا۔ میرے بچے غفار کاک کے بچے ہیں، اس کی مرضی، چاہے تو ایک لے لے چاہے سارے۔ میں مختار نامہ لکھ کر دیتا ہوں۔ تینوں بیٹوں میں سب سے طاق صابر ہے، اسے لے لے، یا سب سے بڑا اکرم ہے یا چھوٹا عزیز۔ اللہ کی قسم! وہ چاہے تو سب کو ذبح کر دے میں اف تک نہیں کروں گا۔"
اگلے دن احمد اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا۔ ایک دن غفار کاک نے اسد جو سے کہا، "بابا! ہم چار بھائی ہیں۔ سلام الگ تو ہو گیا، مگر احمد نوکری کرتا ہے، اس کے مہمان آتے ہیں تو وہ گرم چائے اور مکئی کی روغنی روٹیاں کھا کر ہماری بڑی تعریفیں کرتے ہیں۔ مگر یہ بوسیدہ مکان اب قابلِ رہائش نہیں رہا، میری بڑی بے عزتی ہوتی ہے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہے، ہم نیا اور پختہ ٹین پوش مکان بنائیں گے۔ ہاں، احمد کو بالکل نہیں بتانا، بیچارہ شہر میں نوکری کرتا ہے۔" اسد جو نے غور کیا اور کہا، "غفارا! مکان بنانے پر بہت خرچہ آئے گا، میرے پاس رقم نہیں ہے اور احمد کے اخراجات بھی شہر میں پورے نہیں ہوتے، اوپر سے وہ عیال دار ہے۔ مکان کون بنائے گا؟"
غفار کاک نے جواب دیا، "بابا! آپ کیا خرافات سوچتے ہیں، احمد کی بات مت کریں۔ جب تک میرے ہاتھ پیر سلامت ہیں، کسی فکر کی ضرورت نہیں۔ میں اینٹیں ڈلواؤں گا، لکڑی کے لیے فارسٹر عباس سے بات کی ہے۔ آگے ہمتِ مرداں مددِ خدا۔"
جب احمد اتوار کو شہر سے آیا تو صحن میں پکی اینٹوں کی گاڑیاں کھڑی دیکھ کر پوچھا، "غفار کاک! یہ اینٹیں کس کی ہیں؟" غفار نے کہا، "نادان! یہ تمہاری ہیں، میری ہیں اور ستار کی ہیں۔" احمد نے حیرت سے پوچھا، "مگر اتنے پیسے؟" غفار کاک نے ہنس کر کہا، "ارے آپ کو آم کھانے سے غرض ہے یا گٹھلیاں گننے سے؟"
رفتہ رفتہ مکان بننے لگا اور سال کے اندر دو منزلہ ٹین پوش مکان تیار ہو گیا۔ احمد ہر اتوار کو شہر سے آتا، ستار روز کام کرتا، مگر غفار کاک تو مزدور بھی تھا، معمار بھی اور سب سے بڑھ کر سرمایہ فراہم کرنے والا اکیلا ضامن بھی۔
جب مکان مکمل ہوا تو اسد جو نے غفار سے کہا، "بیٹا! آپ نے سارا کام کیا ہے، اب ایسا کرو کہ احمد کے دوسرے بیٹے صابر کی ذمہ داری لے لو۔" غفار نے کہا، "بابا! میں تو اس گھرانے کا نوکر ہوں، آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟" اسد جو نے مشورہ دیا، "دیکھو غفار! زمانہ خراب ہے، میرا مشورہ ہے کہ تو صابر کو بیٹا بنا لے اور یہ مکان احمد اور ستار کے لیے چھوڑ دے۔ زمین برابر تقسیم ہوگی۔ بیچارہ احمد شہر میں رہتا ہے، اس کے پاس نہ سرمایہ ہے نہ وقت۔" غفار کو یہ سن کر بہت برا لگا، مگر بوڑھے باپ کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
صابر کی شادی احمد نے آمنہ سے کرائی۔ وہ عالی شان مکان جو غفار نے دن رات ایک کر کے بنایا تھا، احمد اور ستار کے قبضے میں آگیا۔ اسد جو بھی ان کے ساتھ چلا گیا، جبکہ غفار کاک اپنے لے پالک صابر اور آمنہ کے ساتھ اسی پرانے اور بوسیدہ موروثی مکان میں رہ گیا۔
ایک دن صابر نے چائے پیتے ہوئے کہا، "چچا! اس گھر میں عجیب بو ہے، اب میرا یہاں رہنے کو جی نہیں چاہتا اور آمنہ کو بھی یہ بوسیدہ مکان پسند نہیں۔" غفار کاک نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا، "بیٹا! عمر بھر کی کمائی اس مکان پر صرف کر دی جس میں تمہارا باپ اور بھائی بہن رہتے ہیں۔ میری بھی خواہش تھی کہ وہیں رہوں، میرے لیے ایک کمرہ کافی تھا، مگر نہ معلوم کیوں مجھے دودھ سے مکھی کی طرح باہر نکال دیا گیا۔"
ادھر احمد کے تیور بھی بدل چکے تھے، اس نے ایک دن اسد جو سے صاف کہہ دیا، "بابا! میرے بیٹے صابر کے ساتھ دھوکہ ہو جائے گا۔ میں نے اپنی اولاد غفار کو دے دی مگر وہ وہاں خوش نہیں ہے۔ آپ غفار سے کہیں کہ وہ اپنی ساری وراثت صابر کے نام ہبہ کر دے۔" اسد جو تڑپ اٹھا، "احمد! خدا کا خوف کرو، غفار نے وہ عالی شان مکان بنایا جو میں نے تیرے حوالے کر دیا، وہ پہلے ہی بہت ناراض تھا۔ اب کیا اسے بالکل ہی محروم کرنا چاہتے ہو؟"
وراثت کے دعویدار اب غفار کاک کو ہی فتنے کی جڑ قرار دے رہے تھے۔ ایک دن غفار کاک نے مسجد کے امام کے پاس اپنی بپتا رکھی، "مولوی صاحب! میں نے مکان بنایا، احمد کا کنبہ پالا، اب وہ مجھے جیتے جی وراثت سے محروم کرنے پر تلے ہیں۔ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں، نہ ٹانگوں میں سکت ہے نہ ہاتھوں میں قوت۔ میں اپنے ہی گھر میں مہاجر بن کر زندگی گزار رہا ہوں۔"
حالسیڈار، ویریناگ
7006146071