Ad
مضامین

حیا اور پاکدامنی، ایمان کی اصل پہچان۔

✍️ :. اظہر نصیر


حیا اور پاکدامنی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔یہ صرف ایک اخلاقی صفت نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ جس دل میں حیا ہو، وہاں گناہ قدم نہیں جماتا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے پاکدامنی کا واضح حکم دیا۔

سورۂ نور میں ارشاد ہے کہ مومن مردوں اور عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ یہ حکم واضح کرتا ہے کہ حیا نظر سے شروع ہوتی ہے۔ کردار تک پہنچتی ہے۔

سورۂ احزاب میں عورتوں کو پردے اور باوقار طرز عمل کا حکم دیا گیا۔ اس کا مقصد معاشرے کو فتنہ اور بے راہ روی سے بچانا ہے۔ اسلام آزادی کے نام پر بے لگام رویے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ عزت کی حفاظت سکھاتا ہے۔

حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیا ختم ہو جائے تو انسان ہر حد پار کر دیتا ہے۔ آج کے دور میں حیا کو پرانا خیال کہا جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ جب حیا کمزور ہوتی ہے تو خاندان کمزور ہوتے ہیں۔ رشتوں کا تقدس ختم ہوتا ہے۔ معاشرہ بے سکونی کا شکار ہوتا ہے۔

ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے وہ اسی بے حیائی کی ایک شکل ہے۔ اس دن محبت کے نام پر غیر شرعی تعلقات کو عام کیا جاتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اظہار محبت کے لیے حدود توڑنا ضروری ہے۔ یہ سوچ گمراہی ہے۔ محبت اسلام میں ممنوع نہیں۔ مگر اس کے لیے نکاح کا پاکیزہ راستہ مقرر کیا گیا ہے۔ نکاح عزت دیتا ہے۔ وقتی تعلق رسوائی دیتا ہے۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ اپنی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں۔ کیا وقتی خوشی کے لیے دائمی نقصان مول لینا دانشمندی ہے۔

کیا چند گھنٹوں کی نمائش آپ کی عزت سے زیادہ قیمتی ہے۔

حیا کمزوری نہیں۔ یہ طاقت ہے۔ پاکدامنی قید نہیں۔ یہ تحفظ ہے۔ جو شخص اپنی حدود پہچانتا ہے وہی حقیقی باوقار انسان بنتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دیں۔ نوجوان اپنی نگاہوں اور تعلقات کی حفاظت کریں۔ تعلیمی ادارے اخلاقی تعلیم کو اہمیت دیں۔ علماء کرام معاشرے میں شعور پیدا کریں۔ اگر آپ ایک مضبوط اور پاکیزہ معاشرہ چاہتے ہیں تو حیا کو اپنائیں۔ اپنی زندگی کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالیں۔ گمراہ کن رسومات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!