مضامین
ڈاکٹر شفیق الرحمن کا ابھار اور بنگلہ دیش کی بدلتی سیاست

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمن: وہ شخصیت جسے اب سب دیکھنا چاہتے ہیں کچھ عرصہ پہلے تک بنگلہ دیش کے اشرافیہ حلقے اور غیر ملکی سفارت کار جماعت کے اس رہنما اور ان کی جماعت سے دوری اختیار کیے رکھتے تھے۔ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ عوامی سروے میں جماعت سرفہرست پوزیشن کے لیے مضبوط مقابلہ کر رہی ہے، اور اسی لیے اب سب لوگ ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ملاقات کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔
ڈھاکہ، بنگلہ دیش — بدھ کی شام ڈھاکہ میں بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے ایک بلند ہدف رکھنے والا انتخابی منشور پیش کیا۔ ان کا بڑا وعدہ یہ تھا: اگر ان کی جماعت 12 فروری کے انتخابات میں کامیاب ہوئی تو 2040 تک بنگلہ دیش کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کو چار گنا بڑھا کر 2 ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی بنیاد رکھے گی۔
سیاست دانوں اور سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے 67 سالہ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت، صنعت، آئی ٹی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے اور سرکاری اخراجات میں اضافہ کرنے کی بات بھی کی۔
ڈھاکہ کے ماہرینِ معیشت کے مطابق اتنے بڑے وعدوں کے لیے وسائل مہیا کرنا حقیقتاً ممکن ہے یا نہیں، اس پر شدید شکوک پائے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق منشور میں نعرے زیادہ ہیں، تفصیلی منصوبہ بندی کم۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت کی قیادت کے نزدیک یہ منشور محض حساب کتاب نہیں بلکہ سمت اور ارادے کے اظہار کا ذریعہ ہے۔
کئی برسوں سے ناقدین جماعت کو ایسی جماعت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو مذہبی نظریات سے اس قدر متاثر ہے کہ ایک نوجوان، متنوع اور آگے بڑھنے والی آبادی کو عملی طور پر حکومت دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ لیکن یہ منشور ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے: طویل عرصے سے اقتدار سے باہر رہنے والی جماعت خود کو ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے اور یہ دکھانا چاہتی ہے کہ اس کی مذہبی بنیاد اور جدید بنگلہ دیش کے خواب میں کوئی تضاد نہیں۔
اس خطاب کے سامعین بھی اہم تھے۔
کچھ عرصہ پہلے تک بنگلہ دیش کا کاروباری اشرافیہ طبقہ اور غیر ملکی سفارت کار جماعت سے فاصلہ رکھتے تھے یا خفیہ رابطہ کرتے تھے۔ اب وہ کھل کر آگے آ رہے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ میں یورپی، مغربی اور حتیٰ کہ بھارتی سفارت کاروں نے بھی ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ملاقات کی کوشش کی — وہ شخصیت جسے کچھ عرصہ پہلے تک عالمی سطح پر تقریباً سیاسی طور پر “اچھوت” سمجھا جاتا تھا۔
جس رہنما کی جماعت دو بار پابندی کا شکار رہی، جن میں ایک بار سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور میں، اس کے لیے آنے والے انتخابات ایک ایسا سوال اٹھا رہے ہیں جسے ایک سال پہلے بلند آواز سے کہنا بھی مشکل تھا: کیا ڈاکٹر شفیق الرحمن بنگلہ دیش کے اگلے وزیر اعظم بن سکتے ہیں؟
“میں لوگوں کے لیے لڑوں گا”
جماعت اور اس کے رہنما کے بارے میں بدلتا ہوا نقطۂ نظر جزوی طور پر بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا نتیجہ بھی ہے۔
2024 کے جولائی کے عوامی انقلاب نے نہ صرف شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا بلکہ ملک کے سیاسی ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ کئی دہائیوں سے جاری دو قطبی سیاست — عوامی لیگ اور بی این پی کی رقابت — تقریباً کھوکھلی ہو گئی۔
عوامی لیگ کے عملی طور پر میدان سے باہر ہو جانے اور بی این پی کے واحد بڑی جماعت کے طور پر باقی رہنے سے ایک بڑا خلا پیدا ہوا۔ ابتدا میں خیال کیا گیا کہ طلبہ کی قیادت والی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اس خلا کو پر کرے گی، لیکن اس کے بجائے طویل عرصے سے حاشیے پر موجود جماعت نے آگے بڑھ کر جگہ سنبھال لی۔
دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں، جب ملک ایک ہائی اسٹیک انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے، جماعت ملک کی دو سب سے طاقتور سیاسی قوتوں میں شامل ہو چکی ہے۔ بعض انتخابی سروے اب اسے براہِ راست بی این پی کا حریف دکھا رہے ہیں۔
جماعت کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور ڈاکٹر شفیق الرحمن کے قریبی ساتھی احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق اس تبدیلی کے مرکز میں خود ڈاکٹر شفیق الرحمن ہیں۔
زبیر کہتے ہیں کہ یہ ابھار برسوں کی سماجی خدمات اور جبر کے باوجود قائم رہنے کا نتیجہ ہے۔
نرم مزاج سابق سرکاری ڈاکٹر "ڈاکٹر شفیق الرحمن" نے 2019 میں جماعت کی قیادت سنبھالی جب جماعت پر پابندی تھی۔ دسمبر 2022 میں انہیں رات کے وقت دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ 15 ماہ بعد ضمانت پر رہائی ملی۔
مارچ 2025 میں، طلبہ تحریک کے بعد حسینہ کی معزولی اور محمد یونس کی عبوری حکومت کے قیام کے چند ماہ بعد، ڈاکٹر شفیق الرحمن کا نام مقدمات کی فہرست سے نکال دیا گیا۔اس کے بعد سے ان کی نپی تلی مگر جذباتی عوامی موجودگی نے خاص توجہ حاصل کی ہے۔گزشتہ جولائی ڈھاکہ کے ایک بڑے جلسے میں شدید گرمی کے باعث ڈاکٹر شفیق الرحمن اسٹیج پر دو بار بے ہوش ہو کر گرے، مگر ڈاکٹروں کی ممانعت کے باوجود واپس آئے اور خطاب مکمل کیا۔
انہوں نے کہا:
“اللہ جب تک زندگی دے گا، میں لوگوں کے لیے لڑوں گا۔ اگر جماعت منتخب ہوئی تو ہم مالک نہیں، عوام کے خادم ہوں گے.
جماعت کی نئی شبیہ
حامیوں کے مطابق ڈاکٹر شفیق الرحمن ایک قابلِ رسائی، اخلاقی طور پر مضبوط رہنما ہیں.
(ترجمہ شدہ مضمون.. بشکریہ الجزیرہ)