Ad
مضامین

اردو کالم نگاری کا در نایاب: میر نوشاد رسول

✍️ :. سہیل سالم  / رعناواری سرینگر 


9103654553

  متوسط قد ،حسین و جمیل خال و خد ،گول چہرا،رنگ سنہرا،سر پر چھوٹے چھوٹے سفید بال ،استادبے مثال ،چھوٹے کان،عرفان آگاہی کا دبستان ،چھوٹی ناک ،قلم بے باک ،،لبوں پر مسکراہٹ ،زبان پر سریلی چہچاہٹ ، اخلاق و ادب کا امیر ، جناب عالی غلام رسول میر۔ وادی کشمیر میں اردو زبان و ادب کو جن نگینوں نے اپنی چمک دمک سے آراستہ کیا ہے انھیں  میں سے ایک نایاب نگینہ " میر نو شاد رسول ''بھی ہیں  ۔میرنو شاد کا شمار ان کالم نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کشمیر میں اردو کالم نگاری کی آبیاری اپنے خون جگر  سے کی ہے۔ شہر خاص کے ادبی نگینوں میں ایک نام میر نوشادکا بھی ہے۔آپ کا اصلی نام غلام رسول  میرہے۔4 مارچ1952  میں کشمیر کے ایک اہم زرخیز علاقے خانیارمیں تولد ہوئے۔اپنے ہی علاقے میں میڑک کا امتحان  1967 میں پاس کر کے 1974میں کشمیر یونیورسٹی سے  بی۔اے کیا ۔اس کے بعد محکمہ  تعلیم میں ملازمت کی ۔محکمہ تعلیم میں مختلف عہدوں پر فائزہ رہ سینئر ٹیچرکی حیثیت سے2010 میں سکبدوش ہوئے۔ نوشاد صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1975 کے آس پاس کیا جبکہ ان کی پہلی کہانی بہ عنوان '' '' وقت کے ٹوٹے ہوے آینئے"روزنامہ آفتاب" میں شائع ہوئی۔

اپنی  ادبی زندگی کے بارے میں رقمطراز ہیں:''  راقم بھی آفتاب اور مرحوم خواجہ صاحب کا مرہون منت ہے کہ آفتاب کے مطالعہ نے راقم کو بھی قلم اٹھانے اور کچھ لکھنے کا ذوق پیدا کیا ہے۔ راقم نے چھوٹے چھوٹے مراسلوں سے شروعات کر کے پھر افسانہ نویسی میں طبع آزمائی کی۔ اس کے بعد مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا رہا۔ اس سلسلے میں راقم شروع شروع میں اپنی نگارشات آفتاب آفس کے منیجر خواجہ عبد السلام کے ہاتھ دیتا تھا۔ خواجہ صاحب سے مل کر ان کے ہاتھ میں اپنی نگارشات دینے سے کتراتا تھا۔ کیونکہ مرحوم خواجہ صاحب کے بارے میں سنا تھا کہ وہ طبیعت تنہائی  پسند، کم گو اور بارعب شخصیت کے مالک ہیں۔ اس لئے پانچ چھ سال متواتر لکھنے کے بعد ہی راقم نے اپنی کوئی تخلیق خواجہ صاحب کے ہاتھ دینے کی جرات کی۔ ایسے میں میرا یہ معمول تھا کہ جب میں چار ، ساڑھے چار بجے کے قریب خواجہ صاحب کے کشادہ کمرے میں داخل ہوتا تھا تو اگر میں انھیں کسی شخصیت کے ساتھ ہمکلام پاتا تھا تو میں ان کے سامنے پڑے صوفے پر خاموش بیٹھتا تھا۔ اور پھر جب کچھ وقفے کے بعد وہ مجھ سے میری آمد کی وجہ پوچھتے تھے تب میں ا ٹھ کر ان کے ٹیبل پر اپنی تخلیق رکھتا تھا  ۔

          اس طرح  نوشاد رسول کا پہلا افسانہ اور دیگر نگازشات اردو دنیا میں متعارف ہوئی۔ ۔انھوں  نے اپنے  کالموں میں مکرو فیرب اور انسانی نفسیات کو دلکش اسلوب کے ساتھ پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔جس کی ایک عمدہ مثال انکا کالم"وادی کی ٹریول ا یجنسیاں " ہے۔یہ کالم پڑھتے ہوئے بڑے  بزرگوں کے احساسات، جذبات اور مشاہدات کا ہمیں ادراک ہوتا ہے۔اس کالم میں برگزیدہ لوگوں کی زندگی کے انمول سفر ،ان کا مزاج اور ان کے اصول و ضوابط کی عکاسی کی گئی ہے۔میر نوشاد رسول لکھتے ہیں  :" یہ ٹریول ایجنسیا ں پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا پر اس کے لئے زبردست تشہیر کرتی ہے اس لئے قراعہ اندازی  میں منتخب نہ ہونے والے حضرات میں سے بہت سارے لوگ فریضہ حج ادا کرنے کے لئے پھر ان ٹراول ایجنسیوں کی طرف راغب ہوجاتے ہیں اور اس وقت یہ ٹرول ایجنسیاں انہیں بہتر سہولیات بہم رکھنے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن افسوس ۔۔۔۔''(روزنامہ آفتاب ۔18 جنوری 2011 )۔نوشاد رسول کے تجربات اور مشاہدات نے ان کو کالم نگاری کی دنیا میں قدم رکھنے کے لئے اکسایا ہیں۔ان کا خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنی مقامی صورتحال اور اپنی مٹی سے ہمیں جڑے رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے کالموں کا اسلوب خود تلاش کیا ہے۔نوشاد رسول کے کالم احساس ،درد و غم اور تباہ و برباد ہوئی انسانیت ،اخلاقیات ،سماجیات اور بے ضمیری میں غرق ہوئی زندگی کے کالم ہیں۔

میر نوشاد رسول نے ہمیشہ  دوستی کا ہاتھ آگے رکھا،  دشمنی کے راستے سے ہمیشہ کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش بھی  کی ،  اپنے دشمنوں کو بھی دوستی کے پیغام  سے نوازتے رہیں ۔ان کے احباب کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ بقول ڈاکٹر شاہ فیصل:''  یہ کہنا بجا ہوگا کہ میر نوشاد رسول دراصل روزنامہ آفتاب کی ہی تربیت یافتہ شخصیت تھے  ان کی قلمی شناخت کی ابتدا اسی اخبار سے ہوئی، جس نے انہیں لکھنے کا پہلا موقع فراہم کیا۔ بعد ازاں وہ کشمیر عظمی اور دیگر اخبارات سے بھی منسلک رہے اور برسوں تک صحافت و ادب کے سنگم پر اپنی فکری تحریروں کا سلسلہ جاری رکھا۔

                تاہم ان کی تحریروں کی ایک بدقسمتی یہ رہی کہ وہ ابھی مکمل طور پر منظر عام پر نہیں آئی تھیں کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب میں ان کا بیشتر حصہ تلف ہو گیا۔ اب جو کچھ باقی ہے، اسی کی بازیافت پر کام جاری ہے، مگر افسوس کہ ان کے ادبی سرمایے کا بڑا حصہ سیلاب کی نذر ہو چکا ہے۔ زندگی کی مسلسل جدوجہد اور تعلیمی و ادبی خدمات کے بعد، 28 نومبر 2022 کو میر نوشاد رسول اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ نہ صرف ایک محنتی استاد بلکہ ایک سنجیدہ قلم کار اور باذوق انسان کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔''

آپ  کا مطالعہ کافی وسیع تھا جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ  آپ خاصے پڑھے لکھے ادیب  تھے۔انہوں نے دنیا کے مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے  ادب کے علاوہ تاریخ اور سیاست کا بھر پور  مطالعہ بھی  کیا تھا جس کی وجہ سے انہیں سماج سے وابستہ موضوعات پر کافی عبور حاصل تھا۔ان کا دل سخی اور نرم تھا ۔نوشاد رسول نے اپنی زندگی میں کبھی  بھی  مذہب ، فرقوں  یا ذات پات کے نام پر لوگوں کو تقسیم نہیں کیا۔ ان کے کالموں میں وادی کشمیر کی  اندرونی و بیرونی خوبصورتی اپنے جوبن پر نظر آتی ہے۔آپ کی تخلیقی کائنات کا سفر کرنے کے بعد اس بات کا اعتراف ہر کوئی کرسکتا ہے کہ آپ واقعی بڑے انسان کے ساتھ ساتھ ایک بڑے فنکار بھی تھے۔ ان کا ایک اور خاص وصف یہ بھی تھا کہ آپ نوآمواز لکھنے والوں کو حوصلہ افزائی سے نوازتے  رہتے تھے۔  الغرض زندگی کی  مختلف خار دار  راہوں  کا سفر  طے کر کے آخر کا ر28 نومبر 2022 کو اصلی سفر پر روانہ ہوئے جس کی طرح علامہ اقبال نے اس طرح اشارہ کیا ہے۔کہ 

  خرد کے پاس خبر کے سواکچھ اور نہیں

تیرا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں 

ہر مقام سے آگے مقام ہے تیرا

حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!